باب 9 استعمال العلم و الإخلاص في طلبه و تشديد الأمر على العالم
باب ۹: علم پر عمل، اُس کی طلب میں اخلاص، اور عالم پر ذمہ داری کی سنگینی
الآيات؛
آیات:
البقرة: «أَ تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَ أَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتابَ أَ فَلا تَعْقِلُونَ»(44)
البقرہ: {کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟}
آل عمران: «وَ لكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِما كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتابَ وَ بِما كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ»(79)
آل عمران: {بلکہ [اُسے کہنا چاہیے:] «اِس سبب سے کہ تم کتاب کی تعلیم دیتے تھے اور اِس لیے کہ تم پڑھتے تھے، اللہ والے بنو۔»}
الشعراء: «وَ الشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ أَ لَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وادٍ يَهِيمُونَ وَ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ ما لا يَفْعَلُونَ»(224 ،225 ،226)
الشعراء: {اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں؟ اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔}
الزمر: «فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولئِكَ الَّذِينَ هَداهُمُ اللَّهُ وَ أُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ»(17 ،18)
الزمر: «اور وہ لوگ جو طاغوت سے بچتے ہیں کہ کہیں اُس کی پرستش نہ کریں اور اللہ کی طرف لوٹ آئے ہیں، اُنہیں بشارت ہو؛ پس میرے اُن بندوں کو خوشخبری دو:» «جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اُس کے بہترین کی پیروی کرتے ہیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، اور یہی عقل والے ہیں۔»
الصف: «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ ما لا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ»(2 ، 3)
الصف: {اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔}
«1»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ عليه السلام بِمَ يُعْرَفُ النَّاجِي فَقَالَ مَنْ كَانَ فِعْلُهُ لِقَوْلِهِ مُوَافِقاً فَهُوَ نَاجٍ وَ مَنْ لَمْ يَكُنْ فِعْلُهُ لِقَوْلِهِ مُوَافِقاً فَإِنَّمَا ذَلِكَ مُسْتَوْدَعٌ ١.
امالیِ صدوق: مفضل بن عمر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: نجات پانے والے کو کس چیز سے پہچانا جائے؟ فرمایا: جس کا عمل اُس کے قول کے موافق ہو وہ نجات یافتہ ہے، اور جس کا عمل اُس کے قول کے موافق نہ ہو، اُس کا ایمان عاریتی ہے۔
بيان: المستودع بفتح الدال من استودع الإيمان أو العلم أياما ثم يسلب منه أي يتركه بأدنى فتنة.
«المُستَوْدَع» وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان یا علم چند روز کے لیے امانت ہو اور معمولی سے فتنے پر جاتا رہے۔
«2»- لي، الأمالي للصدوق فِي كَلِمَاتِ الرَّسُولِ صلى اللّٰه عليه و آله زِينَةُ الْعِلْمِ الْإِحْسَانُ.
امالیِ صدوق: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے کلمات میں سے ہے: علم کا زیور احسان ہے۔
«3»- فس، تفسير القمي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَ الْغاوُونَ قَالَ الصَّادِقُ عليه السلام نَزَلَتْ فِي قَوْمٍ وَصَفُوا عَدْلًا ثُمَّ خَالَفُوهُ إِلَى غَيْرِهِ.
تفسیر القمی: امام صادق علیہ السلام نے آیت «فَکُبْکِبُوا فِیها هُمْ وَ الْغاوُونَ»، {پس وہ اور تمام گمراہ اُس [آگ] میں اوندھے ڈالے جائیں گے} کی تفسیر میں فرمایا: یہ آیت اُس گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو عدل کا بیان کرتے ہیں اور عمل میں اُس کی مخالفت کرتے ہیں۔
«4»- وَ فِي خَبَرٍ آخَرَ قَالَ: هُمْ بَنُو أُمَيَّةَ وَ الْغاوُونَ بَنُو فُلَانٍ.
ایک دوسری روایت میں آیا ہے: اُن سے مراد بنی امیہ ہیں اور گمراہوں سے مراد بنی فلاں۔
بيان: قال الجوهري كبه لوجهه أي صرعه و كبكبه أي كبه و منه قوله تعالی
جوہری کہتے ہیں: «کبّہ لوجہہ» یعنی اُسے منہ کے بل گرایا۔ «کبکبہ» یعنی اُسے پھینکا اور دُور ہٹایا۔ اور اِسی معنیٰ میں آیتِ مبارکہ ہے