«26»- يه، من لا يحضر الفقيه بِأَسَانِيدِهِ عَنْ زُرَارَةَ وَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُمَا قَالا قُلْنَا لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ كَيْفَ هِيَ وَ كَمْ هِيَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ فَصَارَ التَّقْصِيرُ فِي السَّفَرِ وَاجِباً كَوُجُوبِ التَّمَامِ فِي الْحَضَرِ قَالا قُلْنَا لَهُ إِنَّمَا قَالَ عَزَّ وَ جَلَّ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ وَ لَمْ يَقُلْ افْعَلُوا فَكَيْفَ أَوْجَبَ ذَلِكَ فَقَالَ عليه السلام أَ وَ لَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما أَ لَا تَرَوْنَ أَنَّ الطَّوَافَ بِهِمَا وَاجِبٌ مَفْرُوضٌ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ ذَكَرَهُ فِي كِتَابِهِ وَ صَنَعَهُ نَبِيُّهُ صلى اللّٰه عليه و آله وَ كَذَلِكَ التَّقْصِيرُ فِي السَّفَرِ شَيْ ءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله وَ ذَكَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْحَدِيثَ.
من لا یحضرہ الفقیہ: زرارہ اور محمد بن مسلم دونوں کہتے ہیں: ہم نے امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: نمازِ مسافر کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ کیسی اور کتنی ہے؟ فرمایا: خدائے متعال فرماتا ہے: «وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِی الْأَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ» {اور جب تم زمین میں سفر کرو، اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تمہیں اذیت پہنچائیں، تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کو کوتاہ کر لو۔} پس سفر میں قصر ایسے ہی واجب ہوا جیسے حضر میں تمام۔ ہم نے کہا: خدائے متعال فرماتا ہے: «فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ» اور نہیں فرمایا: اُسے قصر کرو، تو کیسے واجب کیا؟ حضرت نے فرمایا: کیا خدائے متعال نے صفا و مروہ کے بارے میں نہیں فرمایا: «فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَیْهِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِهِما» {پس جو [خدا کے] گھر کا حج کرے، یا عمرہ بجا لائے، اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ اُن دونوں کے درمیان سعی کرے۔} کیا تم نہیں دیکھتے کہ صفا و مروہ کی سعی و طواف واجب ہے اور خدا نے فرض کیا ہے؟ کیونکہ خداوند نے اُسے قرآن میں ذکر کیا اور اُس کے پیغمبر نے اُسے انجام دیا؛ اور اِسی طرح سفر میں قصر وہ چیز ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے انجام دیا اور خداوند نے قرآن میں اُسے ذکر کیا ہے۔
«27»- كا، الكافي الْعِدَّةُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ كَانَ لَهُ عَذْقٌ ١فِي حَائِطٍ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَ كَانَ مَنْزِلُ الْأَنْصَارِيِّ بِبَابِ الْبُسْتَانِ فَكَانَ يَمُرُّ بِهِ إِلَى نَخْلَتِهِ وَ لَا يَسْتَأْذِنُ فَكَلَّمَهُ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ إِذَا جَاءَ فَأَبَى سَمُرَةُ فَلَمَّا تَأَبَّى جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَشَكَا إِلَيْهِ وَ خَبَّرَهُ الْخَبَرَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ خَبَّرَهُ بِقَوْلِ الْأَنْصَارِيِّ وَ مَا شَكَا وَ قَالَ إِذَا أَرَدْتَ الدُّخُولَ فَاسْتَأْذِنْ فَأَبَى- فَلَمَّا أَبَى سَاوَمَهُ حَتَّى بَلَغَ مِنَ الثَّمَنِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَبَى أَنْ يَبِيعَ فَقَالَ لَكَ بِهَا عَذْقٌ مُذَلَّلٌ فِي الْجَنَّةِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله لِلْأَنْصَارِيِّ اذْهَبْ فَاقْلَعْهَا وَ ارْمِ بِهَا إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا ضَرَرَ وَ لَا ضِرَارَ.
کافی: زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ سمرۃ بن جندب کا ایک کھجور کا درخت ایک انصاری آدمی کے گھر کے صحن میں تھا، اور اُس انصاری آدمی کا گھر ایک باغ کے دروازے کے نزدیک تھا جہاں سے سمرہ ہمیشہ اپنے نخل کی طرف جاتا اور اجازت نہ لیتا۔ اُس انصاری آدمی نے اُس سے بات کی کہ داخل ہوتے وقت اجازت لے۔ سمرہ نے انکار کر دیا۔ پس اُس انصاری آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس سمرہ کی شکایت کی اور آپ کو خبر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ایک شخص سمرہ کے پاس بھیجا اور انصاری کی شکایت اُسے بتائی اور فرمایا: جب بھی گھر کے صحن میں داخل ہونا چاہو، اجازت لو۔ سمرہ نے انکار کیا۔ اُس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سمرہ سے اُس کھجور کے درخت کو بیچنے کے بارے میں بات کی اور اُس کی قیمت بہت بڑھا دی۔ سمرہ نے بیچنے سے انکار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اِس کھجور کے درخت کے بدلے میں تمہارے لیے بہشت میں ایک سایہ دار کھجور کا درخت ضامن ہوتا ہوں۔ سمرہ نے اُسے قبول کرنے سے انکار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اُس انصاری آدمی سے فرمایا: جاؤ اُس کا درخت جڑ سے اکھاڑ دو اور پھینک دو، کیونکہ اسلام میں ضرر اور ضرار نہیں۔
كا، الكافي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْهُ صلى اللّٰه عليه و آله مِثْلَهُ وَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّكَ رَجُلٌ مُضَارٌّ وَ لَا ضَرَرَ وَ لَا ضِرَارَ عَلَى مُؤْمِنٍ ٢
کافی: زرارہ نے آپ سے اِس حدیث کی مانند روایت کی اور اُس میں لایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سمرہ سے فرمایا: تم ایک ضرر رساں آدمی ہو، اور اسلام میں مؤمن پر ضرر اور ضرار نہیں۔
«28»- كا، الكافي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَشَارِبِ النَّخْلِ أَنَّهُ لَا يُمْنَعْ نَقْعُ الشَّيْ ءِ وَ قَضَی بَيْنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنَّهُ لَا يُمْنَعْ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ كَلَإٍ وَ قَالَ لَا ضَرَرَ وَ لَا ضِرَارَ._
کافی: عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اہلِ مدینہ کے درمیان کھجور کے آب خور کے بارے میں قضاوت فرمائی کہ گوارا پانی روکا نہ جائے، اور صحرا نشینوں کے درمیان قضاوت فرمائی کہ فاضل پانی نہ روکیں تاکہ اُس زیادتی سے چراگاہیں نہ روکی جائیں۔ اور فرمایا: اسلام میں ضرر اور ضرار نہیں۔