«10»- كا، الكافي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ مُرَازِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنِ الْمَرِيضِ لَا يَقْدِرُ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ فَقَالَ كُلُّ مَا غَلَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ.
کافی: مرازم کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اُس بیمار کے بارے میں سوال کیا جو نماز پڑھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ حضرت نے فرمایا: جس چیز پر انسان قدرت نہیں رکھتا، خدا عذر قبول کرنے کا زیادہ سزاوار ہے۔
«11»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْفَضْلِ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي الْمُغْمَى عَلَيْهِ مَا غَلَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ.
کافی: حفص بن بختری کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، اُس انسان کے بارے میں جو بے ہوشی اور اغما کی حالت میں ہو، فرما رہے تھے: جس چیز پر انسان قدرت نہیں رکھتا، خدا اُس کا عذر قبول کرنے کا زیادہ سزاوار ہے۔
«12»- كا، الكافي عَلِيٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْعَدَةَ بْنِ صَدَقَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كُلُّ شَيْ ءٍ هُوَ لَكَ حَلَالٌ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّهُ حَرَامٌ بِعَيْنِهِ فَتَدَعَهُ مِنْ قِبَلِ نَفْسِكَ وَ ذَلِكَ مِثْلُ الثَّوْبِ يَكُونُ قَدِ اشْتَرَيْتَهُ وَ هُوَ سَرِقَةٌ أَوِ الْمَمْلُوكِ عِنْدَكَ وَ لَعَلَّهُ حُرٌّ قَدْ بَاعَ نَفْسَهُ أَوْ خُدِعَ فَبِيعَ أَوْ قُهِرَ أَوِ امْرَأَةٍ تَحْتَكَ وَ هِيَ أُخْتُكَ أَوْ رَضِيعَتُكَ وَ الْأَشْيَاءُ كُلُّهَا عَلَى هَذَا حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ غَيْرُ ذَلِكَ أَوْ تَقُومَ بِهِ الْبَيِّنَةُ.
کافی: مسعدۃ بن صدقہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ فرما رہے تھے: ہر چیز تمہارے لیے حلال ہے مگر یہ کہ تم خود ذاتی طور پر جانو کہ وہ چیز حرام ہے، پس اُسے چھوڑ دو؛ اور وہ اُس کپڑے کی مانند ہے جو تم نے بازار سے خریدا اور احتمال ہے کہ چوری کا مال ہو؛ یا وہ کنیز جو تمہارے پاس ہے، شاید آزاد ہو جس نے خود کو بیچا ہو یا فریب سے بیچی گئی ہو، یا زبردستی بیچی گئی ہو؛ یا وہ عورت جس سے تم نے شادی کی، شاید تمہاری بہن یا رضاعی بہن ہو؛ اور تمام چیزیں ایسی ہی ہیں مگر یہ کہ تم پر اُس کے خلاف روشن ہو جائے، یا کوئی گواہ قائم ہو۔
«13»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ قَالَ: كَانَتْ لِإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ دَنَانِيرُ وَ أَرَادَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ يَا أَبَتِ إِنَّ فُلَاناً يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الْيَمَنِ وَ عِنْدِي كَذَا وَ كَذَا دِينَاراً أَ فَتَرَى أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ يَبْتَاعُ لِي بِهَا بِضَاعَةً مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا بُنَيَّ أَ مَا بَلَغَكَ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ فَقَالَ هَكَذَا يَقُولُ النَّاسُ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ يُصَدِّقُ لِلَّهِ وَ يُصَدِّقُ لِلْمُؤْمِنِينَ فَإِذَا شَهِدَ عِنْدَكَ الْمُؤْمِنُونَ فَصَدِّقْهُمْ.
کافی: حریز کہتے ہیں: اسماعیل، امام صادق علیہ السلام کے فرزند، کے پاس کچھ دینار تھے اور قریش کا ایک آدمی یمن جانا چاہتا تھا۔ اسماعیل نے کہا: ابا جان! فلاں شخص یمن جانا چاہتا ہے اور میرے پاس اتنے دینار ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں وہ رقم اُس شخص کو دے دوں تاکہ وہ میرے لیے یمن سے کچھ سامان خریدے؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! کیا تم نہیں جانتے کہ وہ شخص شراب خوار ہے؟ کہا: جی ہاں، لوگ ایسا کہتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا: بیٹا! خداوندِ متعال قرآن میں فرماتا ہے: «یُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ» {وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور مؤمنوں کی [بات] کا یقین کرتا ہے۔} وہ خدا کی تصدیق کرتا ہے اور مؤمنوں کی تصدیق کرتا ہے۔ جب تمہارے سامنے مؤمنوں نے گواہی دی ہو تو اُن کی تصدیق کرو۔
«14»- يب، تهذيب الأحكام أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ وَ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عِيسَى وَ ابْنِ أَبَانٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْجُنُبِ يَجْعَلُ الرَّكْوَةَ أَوِ التَّوْرَ ١ فَيُدْخِلُ إِصْبَعَهُ فِيهِ قَالَ إِنْ كَانَتْ يَدُهُ قَذِرَةً فَلْيُهَرِقْهُ وَ إِنْ كَانَ لَمْ يُصِبْهَا قَذَرٌ فَلْيَغْتَسِلْ مِنْهُ هَذَا_
تہذیب الأحکام: ابوبصیر نے نقل کیا کہ میں نے آپ علیہ السلام سے سوال کیا: ایک جنب شخص اپنا ہاتھ پانی سے بھرے چمڑے کے برتن یا پانی سے بھرے پتھر کے برتن میں ڈالے، اُس کا حکم کیا ہے؟ فرمایا: اگر اُس کا ہاتھ نجس ہو تو وہ پانی پھینک دے، اور اگر اُس کا ہاتھ نجس نہ ہو تو اُسی پانی سے غسل کرے۔