Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 267

الْمُسْتَعَانُ وَ إِنَّمَا مجمع [يَجْمَعُ النَّاسَ الرِّضَا وَ الْغَضَبُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا عَقَرَ نَاقَةَ صَالِحٍ وَاحِدٌ فَأَصَابَهُمْ بِعَذَابِهِ بِالرِّضَا وَ آيَةُ ذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَنادَوْا صاحِبَهُمْ فَتَعاطى فَعَقَرَ فَكَيْفَ كانَ عَذابِي وَ نُذُرِ وَ قَالَ فَعَقَرُوها فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاها وَ لا يَخافُ عُقْباها أَلَا وَ مَنْ سُئِلَ عَنْ قَاتِلِي فَزَعَمَ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَدْ قَتَلَنِي أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَلَكَ الطَّرِيقَ وَرَدَ الْمَاءَ وَ مَنْ حَادَ عَنْهُ وَقَعَ فِي التِّيهِ ثُمَّ نَزَلَ.

مدد کرنے والا ہے۔ لوگوں کا محور حب و بغض ہے۔ اے لوگو! ایک آدمی نے حضرت صالح کی ناقہ کو پے کیا، سب اُس کام پر اپنی رضامندی کی وجہ سے اُس عذاب میں گرفتار ہوئے، آیت کی دلیل سے: «فَنادَوْا صاحِبَهُمْ فَتَعاطی فَعَقَرَ فَکَیْفَ کانَ عَذابِی وَ نُذُرِ» {پس اُنہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا اور [اُس نے] تلوار اٹھائی اور [اونٹنی کو] پے کر دیا۔ پس کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے؟} اور فرمایا: «فَعَقَرُوها فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاها وَ لا یَخافُ عُقْباها» {اور اُنہوں نے اُس [اونٹنی] کو پے کر دیا، تو اُن کے پروردگار نے اُن کے گناہ کی [سزا میں] اُن پر عذاب نازل کیا اور اُنہیں خاک میں ملا دیا۔ اور اپنے کام کے انجام سے وہ نہ ڈرا۔} آگاہ رہو! اگر کسی سے میرے قاتل کے بارے میں پوچھا جائے اور وہ گمان کرے کہ وہ مؤمن تھا، تو وہی شخص درحقیقت مجھے قتل کر چکا ہے۔ اے لوگو! جو راہِ مستقیم پر چلے وہ پانی تک پہنچتا ہے اور جو اُس سے منحرف ہو وہ سرگرداں ہو جاتا ہے۔ پھر حضرت منبر سے نیچے آ گئے۔

وَ رَوَاهُ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَمَّامٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُمْهُورٍ مَعاً عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُمْهُورٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ نُوحٍ عَنِ ابْنِ عُلَيْمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ أَحْنَفَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ

اور اِس حدیث کی مانند فرات بن احنف کے طریق سے امیر المؤمنین علیہ السلام سے بھی روایت ہوا ہے، صرف وہاں فرمایا: ہدایت کی راہ طے کرنے میں افراد کی کمی سے وحشت نہ کرو۔

«28»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَلَبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَنْ خَلَعَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ قَدْرَ شِبْرٍ خَلَعَ رِبْقَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ وَ مَنْ نَكَثَ صَفْقَةَ الْإِمَامِ جَاءَ إِلَى اللَّهِ أَجْذَمَ.

المحاسن: حلبی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمانوں کی جماعت سے ایک بالشت کے برابر دوری کرے، ایمان کی رسی اُس کی گردن سے جدا ہو جاتی ہے؛ اور جو کسی امام کی بیعت توڑے، وہ روزِ قیامت خدا کے حضور کٹے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ آئے گا۔

بيان: الخلع هنا مجاز كأنه شبه جماعة المسلمين عند كونه بينهم بثوب شمله و المراد المفارقة و يحتمل أن يكون أصله فارق فصحف كما في الكافي و ورد كذلك في أخبار العامة أيضا قال الجزري فيه من فارق الجماعة قدر شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه مفارقة الجماعة ترك السنة و اتباع البدعة و الربقة في الأصل عروة في حبل تجعل في عنق البهيمة أو يدها تمسكها فاستعارها للإسلام يعني ما يشد المسلم به نفسه من عرى الإسلام أي حدوده و أحكامه و أوامره و نواهيه و يجمع الربقة على ربق مثل كسرة و كسر و يقال للحبل الذي فيه الربقة ربق و تجمع على رباق و أرباق و قال فيه من تعلم القرآن ثم نسيه لقی اللّٰه يوم القيامة و هو أجذم أي مقطوع اليد من الجذم القطع

حدیث میں «خلع» بابِ مجاز سے استعمال ہوا ہے، گویا مسلمانوں کی جماعت کو ڈھانپنے والے لباس سے تشبیہ دی ہے اور اُس سے مراد مفارقت و دوری ہے۔ اور احتمال ہے کہ حدیث میں اصل لفظ «فارق» ہو، جیسا کہ کافی کے نسخے میں آیا ہے، اور بعد میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اہلِ سنت کی احادیث میں لفظ «فارق» استعمال ہوا ہے، جیسا کہ جزری نے «نہایہ» میں لایا ہے: «جماعت سے مفارقت»: سنت کو ترک کرنا اور بدعت کی پیروی کرنا ہے۔ «ربقہ» اصل میں وہ محکم رسی ہے جو چوپایوں کی گردن یا پاؤں میں باندھی جاتی ہے۔ اور اُسے اسلام کے بارے میں بابِ استعارہ سے استعمال کیا گیا ہے، یعنی وہ چیز جس سے مسلمان خود کو شریعت کے حدود و احکام اور اُس کے اوامر و نواہی کا پابند جانتے ہیں۔ اور «ربقہ» کی جمع عربوں کے کلام میں «ربق» آتی ہے، جیسے «کسرۃ» اور «کسر»؛ اور جس رسی میں «ربقہ» ہو اُسے «ربق» کہا جاتا ہے جس کی جمع «رباق» اور «ارباق» آتی ہے۔ اُسی کتابِ لغت میں کہا: اِس مورد میں ایک حدیث آئی ہے: جو قرآن سیکھے اور پھر اُسے بھول جائے، وہ روزِ قیامت خدا سے اِس حال میں ملاقات کرے گا کہ «اجذم» ہو گا، یعنی اُس کے ہاتھ کٹے ہوئے۔ «اجذم» مادۂ جذم سے ہے بمعنی قطع۔

وَ مِنْهُ حَدِيثُ عَلِيٍّ عليه السلام مَنْ نَكَثَ بَيْعَتَهُ لَقِیَ اللَّهَ وَ هُوَ أَجْذَمُ لَيْسَتْ لَهُ يَدٌ.

اور اُنہی میں سے حضرت علی علیہ السلام کی حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا: جو امام سے اپنی بیعت توڑے، وہ خدا سے اِس حال میں ملاقات کرے گا کہ «اجذم» ہو گا، یعنی اُس کا ہاتھ نہ ہو گا۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں: یہاں «أجذم» سے مراد وہ شخص ہے جس کے تمام اعضا ختم ہو چکے ہوں، اور ہاتھ باقی اعضا سے عقوبت کا زیادہ سزاوار نہیں۔ عرب کہتے ہیں: «رجل أجذم و مجذوم»، اور یہ اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی شخص کے بدن کے تمام اعضا جذام کی بیماری کے اثر میں ختم ہو جائیں، اور وہ ایک معروف بیماری ہے۔

قال القتيبي الأجذم هاهنا الذي ذهبت أعضاؤه كلها و ليست اليد أولى بالعقوبة من باقي الأعضاء يقال رجل أجذم و مجذوم إذا تهافتت أطرافه من الجذام و هو الداء المعروف و قال الجوهري لا يقال للمجذوم أجذم و قال ابن الأنباري ردا على ابن قتيبة لو كان العقاب لا يقع إلا بالجارحة التي باشرت المعصية

ابن انباری ابن قتیبہ کے رد میں کہتے ہیں: اگر عقاب اُنہی اعضا کے ساتھ واقع ہوتا جن سے معصیت کی جاتی ہے،