Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 264

جا، المجالس للمفيد أبو غالب الزراري عن محمد بن سليمان عن ابن أبي الخطاب عن محمد بن يحيى الخزاز عن غياث بن إبراهيم عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام مثله بيان قال الجزري السباحة و المسبحة الإصبع التي تلي الإبهام سميت بذلك لأنها يشار بها عند التسبيح انتهى و الغرض بيان كون دينه صلى اللّٰه عليه و آله متصلا بقيام الساعة لا ينسخه دين آخر و أن الساعة قريبة قوله صلى اللّٰه عليه و آله و شر الأمور محدثاتها أي مبتدعاتها قوله صلى اللّٰه عليه و آله و كل بدعة ضلالة البدعة كل رأي أو دين أو حكم أو عبادة لم يرد من الشارع بخصوصها و لا في ضمن حكم عام و به يظهر بطلان ما ذكره بعض أصحابنا تبعا للعامة من انقسام البدعة بانقسام الأحكام الخمسة.

مجالسِ مفید: غیاث بن ابراہیم نے امام صادق علیہ السلام سے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔ جزری نے کہا: «السبابة» اور «المسبحة» وہ انگلی ہے جو انگوٹھے کے ساتھ ہے؛ اسے یہ نام اِس لیے دیا گیا کہ تسبیح کے وقت اُسی سے اشارہ کیا جاتا ہے ـ اقتباس ختم۔ اور مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا دین قیامت کے قائم ہونے تک متصل ہے اور کوئی دوسرا دین اُسے منسوخ نہیں کرتا، اور یہ کہ قیامت قریب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا قول «اور بدترین امور نوپیدا امور ہیں» یعنی نو ایجاد کردہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا قول «اور ہر بدعت گمراہی ہے»: بدعت ہر وہ رائے یا دین یا حکم یا عبادت ہے جو شارع کی جانب سے نہ بالخصوص آئی ہو اور نہ کسی حکمِ عام کے ضمن میں۔ اِس سے اُس بات کا بطلان ظاہر ہوتا ہے جو ہمارے بعض اصحاب نے عامہ کی پیروی میں کہا کہ بدعت احکامِ خمسہ کی تقسیم کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

و قال الجزري الكلّ العيال و منه الحديث من ترك كلّا فإليّ و علیّ و قال فيه من ترك ضياعا فإلی الضياع العيال و أصله مصدر ضاع يضيع ضياعا فسمی العيال بالمصدر كما تقول من مات و ترك فقرا أي فقراء و إن كسرت الضاد كان جمع ضائع كجائع و جياع.

اور جزری کہتے ہیں: «کَلّ» عیال کے معنی میں ہے؛ اور اِسی سے ہے حدیث «من ترک کَلّاً فإلیَّ و علیَّ»۔ اور کہتے ہیں: اُس میں آیا ہے «من ترک ضیاعاً فإلیَّ»؛ «ضیاع» وہی عیال ہے اور اُس کی اصل «ضاع یضیع ضیاعاً» سے ایک مصدر ہے، پس عیال کو مصدر کے نام سے نامزد کیا گیا ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو «من مات و ترک فقراً» یعنی فقیر لوگ۔ اور اگر ضاد کو مکسور پڑھو تو وہ «ضائع» کی جمع ہے، جیسے «جائع» اور «جیاع»۔

«13»- ل، الخصال أَبِی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ سُنَّتَانِ سُنَّةٌ فِي فَرِيضَةٍ الْأَخْذُ بِهَا هُدًى وَ تَرْكُهَا ضَلَالَةٌ وَ سُنَّةٌ فِي غَيْرِ فَرِيضَةٍ الْأَخْذُ بِهَا فَضِيلَةٌ وَ تَرْكُهَا إِلَى غَيْرِ خَطِيئَةٍ.

الخصال: امام علی علیہ السلام نے فرمایا: سنت دو طرح کی ہے: واجب میں سنت کہ اُس کا لینا ہدایت اور اُس کا ترک گمراہی ہے، اور غیرِ واجبات میں سنت کہ اُس کا لینا فضیلت ہے اور اُس کے ترک پر کوئی گناہ نہیں۔

سن، المحاسن النوفلي مثله- ما، الأمالي للشيخ الطوسي جماعة عن أبي المفضل عن علي بن أحمد بن نصر البندنيجی عن عبيد اللّٰه بن موسى الروياني عن عبد العظيم الحسني عن أبي جعفر محمد بن علي عن أبيه عن جده عن جعفر بن محمد عليهما السلام عن آبائه عن علي عليه السلام قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و آله و ذكر مثله.

المحاسن: نوفلی نے اِس حدیث کی مانند روایت کی ہے۔ امالیِ شیخ طوسی: عبدالعظیم حسنی نے امام باقر علیہ السلام سے اُس حدیث کی مانند روایت کی ہے۔

«14»- نهج، نهج البلاغة قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مَا اخْتَلَفَتْ دَعْوَتَانِ إِلَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا ضَلَالَةً.

نہج البلاغہ: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: دو مختلف دعوتیں نہیں ہوتیں مگر یہ کہ اُن میں سے ایک باطل ہو!

«15»- وَ قَالَ عليه السلام مَا أُحْدِثَتْ بِدْعَةٌ إِلَّا تُرِكَ بِهَا سُنَّةٌ فَاتَّقُوا الْبِدَعَ وَ الْزَمُوا الْمَهْيَعَ١ إِنَّ عَوَازِمَ الْأُمُورِ أَفْضَلُهَا وَ إِنَّ مُحْدَثَاتِهَا شِرَارُهَا.

امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: دین میں کوئی بدعت ایجاد نہیں ہوتی مگر یہ کہ کوئی سنت ترک ہو جائے؛ پس بدعتوں سے پرہیز کرو اور راہِ راست اور حق کی آشکار شاہراہ پر رہو۔ بہترین کام وہ سنت ہے جس پر سال گزرے ہوں اور اُس کی درستی ثابت ہو چکی ہو، اور بدترین کام وہ ہے جو تازہ پیدا ہوا ہو اور جس کا مستقبل روشن نہ ہو۔

(١)1- بفتح الميم و سكون الهاء و فتح الياء: الطريق الواسع البين.میم کے فتحہ، ہاء کے سکون اور یاء کے فتحہ کے ساتھ: فراخ اور آشکار راستہ۔