«9»- سن، المحاسن بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَصْرِيِّ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عليهما السلام قَالَ: مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَى نَبِيِّنَا وَ آلِهِ وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِرَجُلٍ وَ هُوَ رَافِعٌ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ يَدْعُو اللَّهَ فَانْطَلَقَ مُوسَى فِي حَاجَتِهِ فَغَابَ سَبْعَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ وَ هُوَ رَافِعٌ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ يَا رَبِّ هَذَا عَبْدُكَ رَافِعٌ يَدَيْهِ إِلَيْكَ يَسْأَلُكَ حَاجَتَهُ وَ يَسْأَلُكَ الْمَغْفِرَةَ مُنْذُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ لَا تَسْتَجِيبُ لَهُ قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ يَا مُوسَى لَوْ دَعَانِي حَتَّى تَسْقُطَ يَدَاهُ أَوْ تَنْقَطِعَ يَدَاهُ أَوْ يَنْقَطِعَ لِسَانُهُ مَا اسْتَجَبْتُ لَهُ حَتَّى يَأْتِيَنِي مِنَ الْبَابِ الَّذِي أَمَرْتُهُ.
المحاسن: امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے دعا کر رہا تھا۔ حضرت موسیٰ اپنے کام کی طرف چلے گئے۔ ایک ہفتہ گزرا، جب لوٹے تو دیکھا کہ اب بھی اُس کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہیں اور وہ دعا کر رہا ہے۔ کہا: پروردگارا! تیرے اِس بندے نے اپنے دونوں ہاتھ تیری طرف دراز کیے ہیں اور اپنی حاجت مانگ رہا ہے اور ایک ہفتے سے تجھ سے معافی چاہتا ہے، تُو اُس کی دعا کیوں قبول نہیں کرتا؟ خدا نے موسیٰ کی طرف وحی کی: اے موسیٰ! اگر وہ اِتنی دعا کرے کہ اُس کے دونوں ہاتھ بدن سے جدا ہو جائیں، یا اُس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں، یا اُس کی زبان کٹ جائے، میں اُس کی دعا مستجاب نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ اُس دروازے سے داخل ہو جس کا میں نے حکم دیا ہے۔
«10»- سن، المحاسن الْقَاسِمُ عَنِ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام كَانَ يَقُولُ لَا خَيْرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ رَجُلٍ يَزْدَادُ كُلَّ يَوْمٍ إِحْسَاناً وَ رَجُلٍ يَتَدَارَكُ مَنِيَّتَهُ بِالتَّوْبَةِ وَ أَنَّی لَهُ بِالتَّوْبَةِ وَ اللَّهِ أَنْ لَوْ سَجَدَ حَتَّى يَنْقَطِعَ عُنُقُهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ الْحَقِّ.
المحاسن: امام صادق علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ ہمیشہ فرماتے تھے: دنیا میں کوئی خیر نہیں سوائے دو آدمیوں کے: وہ آدمی جو ہر روز اپنی نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے، اور وہ جو اپنے گناہ کی توبہ سے تلافی کرتا ہے ـ مگر اُس کی توبہ کہاں قبول ہے؟ خدا کی قسم اگر وہ [اِتنا] سجدہ کرے کہ اُس کی گردن جدا ہو جائے، خدا اُس کی توبہ قبول نہیں کرتا مگر حق کو جاننے سے۔
«11»- جا، المجالس للمفيد عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ صَبِيحٍ عَنْ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَدَّ لَكُمْ حُدُوداً فَلَا تَعْتَدُوهَا وَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا وَ سَنَّ لَكُمْ سُنَناً فَاتَّبِعُوهَا وَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا وَ عَفَا لَكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً مِنْهُ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَتَكَلَّفُوهَا.
مجالسِ مفید: امیر المؤمنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: خدا نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، اُن سے تجاوز نہ کرو؛ اور تم پر کچھ فرائض واجب کیے ہیں، اُنہیں ضائع نہ کرو؛ اور تمہارے لیے کچھ سنتیں مقرر کی ہیں، اُن کی پیروی کرو؛ اور تمہارے لیے کچھ حرمتیں قرار دی ہیں، اُنہیں نہ توڑو؛ اور تمہیں کچھ چیزوں سے اپنی رحمت کی وجہ سے معاف کیا ہے نہ کہ فراموشی کی وجہ سے، پس خود کو تکلف میں نہ ڈالو۔
«12»- جا، المجالس للمفيد أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله الْمِنْبَرَ فَتَغَيَّرَتْ وَجْنَتَاهُ وَ الْتُمِعَ لَوْنُهُ ١ ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ ثُمَّ ضَمَّ السَّبَّاحَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ وَ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا أَلَا وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ أَلَا وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فَفِي النَّارِ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَ لِوَرَثَتِهِ وَ مَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعاً فَعَلَيَّ وَ إِلَیَّ._
مجالسِ مفید: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ منبر پر تشریف لائے اور جبکہ اُن کے چہرے سے رنگ اڑا ہوا تھا، لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: اے مسلمانو! میری بعثت اور قیامت میری اِن دو انگلیوں کی مانند ہم راہ ہیں ـ اور اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں ساتھ ساتھ رکھیں۔ پھر فرمایا: اے مسلمانو! بے شک بہترین روش محمد کی روش ہے، اور بہترین گفتار کتابِ خدا ہے، اور بدترین امور نئے اور نوپیدا امور ہیں۔ آگاہ رہو کہ ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کی جگہ آگ میں ہے۔ اے لوگو! جو اپنے بعد کوئی مال چھوڑے، وہ اُس کے اہل اور وارثوں کا ہے؛ اور جو عیال اور نان خور چھوڑ جائے، اُن کی سرپرستی میرے ذمے ہے۔