Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 255

الأئمة عليهم السلام و كان ممن لا يطعن في روايته و يكون سديدا في نقله و لم يكن هناك قرينة تدل على صحة ما تضمنه الخبر لأنه إذا كان هناك قرينة تدل على صحة ذلك كان الاعتبار بالقرينة و كان ذلك موجبا للعلم كما تقدمت القرائن جاز العمل به و الذي يدل على ذلك إجماع الفرقة المحقة فإني وجدتها مجتمعة على العمل بهذه الأخبار التي رووها في تصانيفهم و دونوها في أصولهم لا يتناكرون ذلك و لا يتدافعون حتى إن واحدا منهم إذا أفتى بشي ء لا يعرفونه سألوه من أين قلت هذا فإذا أحالهم على كتاب معروف و أصل مشهور و كان راويه ثقة لا ينكر حديثه سكتوا و سلموا الأمر في ذلك و قبلوا قوله هذه عادتهم و سجيتهم من عهد النبي صلى اللّٰه عليه و آله و من بعده من الأئمة عليهم السلام و من زمان الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام الذي انتشر العلم عنه و كثرت الرواية من جهته فلو لا أن العمل بهذه الأخبار كان جائزا لما أجمعوا على ذلك و لا يكون لأن إجماعهم فيه معصوم لا يجوز عليه الغلط و السهو و الذي يكشف عن ذلك أنه لما كان العمل بالقياس محظورا في الشريعة عندهم لم يعملوا به أصلا و إذا شذ منهم واحد عمل به في بعض المسائل و استعمل علی وجه المحاجة لخصمه و إن لم يكن اعتقاده ردوا قوله و أنكروا عليه و تبرءوا من قولهم حتى إنهم يتركون تصانيف من وصفناه و رواياته لما كان عاملا بالقياس فلو كان العمل بخبر الواحد يجري ذلك المجرى لوجب أيضا فيه مثل ذلك و قد علمنا خلافه انتهى كلامه قدس سره و لما كان في غاية المتانة و مشتملا على الفوائد الكثيرة أوردناه و سنفصل القول في ذلك في المجلد الآخر من الكتاب إن شاء اللّٰه تعالى.

ائمۂ ہدیٰ علیہم السلام سے ہو اور راوی پر اُس کی نقلِ روایت میں کوئی نکوہش نہ ہو اور وہ نقلِ روایت کے لحاظ سے سخت گیر ہو اور کوئی قرینہ بھی نہ ہو جو خبر کے مضمون کی صحت پر دلالت کرے (کیونکہ اگر یہاں کوئی قرینہ ہو تو وہ خبر کی صحت پر دلالت کرے گا، مگر اعتبار اور ملاک وہی قرینہ ہو گا اور یہ خبر میں علم کا موجب بنے گا) جیسا کہ پچھلے قرائن میں گزرا، تو اُس پر عمل جائز ہے۔ اور اِس مطلب کی دلیل گروہِ حقہ (شیعہ) کا اجماع ہے، جیسا کہ میں نے دریافت کیا، کہ سب نے اِن اخبار پر عمل کیا ہے اور اُن کی مؤلفات و تصنیفات نے وہ روایات نقل کی ہیں اور اپنی کتبِ اصول میں اُنہیں مدون کیا ہے اور انکار بھی نہیں کیا اور اِن روایات کو پھینکا نہیں؛ یہاں تک کہ اگر اِن بزرگوں میں سے کوئی کسی چیز کا فتویٰ دینا چاہے تو اُس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے یہ کہاں سے کہا؟ جیسا کہ جب وہ اُن سے کہتا ہے کہ ایک معروف کتاب اور مشہور اصل میرے فتوے کی دلیل ہے اور روایت موردِ اطمینان ہے اور اُس کی حدیث کا انکار نہیں کیا جاتا، تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں اور مطلب قبول کر لیتے ہیں؛ یہ شیعہ کی روش اور عادت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے سے اور اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کے زمانوں میں رہی ہے، اور خاص طور پر امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں کہ اُس امام سے علم پھیلا اور آپ کی جانب سے روایت زیادہ ہوئی۔ اور اگر اِن اخبار پر عمل بھی نہ ہو، یہی کہ اُس پر اجماع کیا ہے، جائز ہے؛ کیوں ایسا نہ ہو؟ بسا اوقات اُن کے اجماع میں معصوم موجود رہا ہے اور معصوم میں اشتباہ اور فراموشی کی راہ نہیں؛ اور جو چیز مطلب سے پردہ اٹھاتی ہے یہ ہے کہ چونکہ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کے مذہب میں قیاس پر عمل جائز نہیں، جب وہ خبرِ واحد سے روبرو ہوئے تو اُس پر عمل کیا اور اِس ذریعے سے دشمن پر استدلال لائے۔ اور اگر وہ اعتقاد کے مطابق نہ ہوتی تو اُسے رد کرتے اور انکار کرتے اور اُن کے گفتار سے دوری کرتے، یہاں تک کہ اُن کی تصانیف پھینک دیتے، کیونکہ اُس کی روایات میں قیاس پر عمل جائز شمار کیا گیا تھا۔ اور اگر خبرِ واحد پر عمل میں بھی یہی روش ہوتی، جیسے قیاس پر عمل، تو وہی برتاؤ اُس کے ساتھ ہوتا، جبکہ ہم اِس کے خلاف کی اطلاع رکھتے ہیں۔ چونکہ شیخ کا یہ مطلب نہایت متانت پر ہے اور بہت سے فوائد رکھتا ہے، ہم نے اُسے لایا اور آخری مجلد میں اِس باب میں شیخ کا کلام تفصیل سے لائیں گے۔