Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 253

بِكُتُبِهِ وَ بُيُوتُنَا مِنْهَا مَلِی ءٌ فَقَالَ أَقُولُ فِيهَا مَا قَالَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا وَ قَدْ سُئِلَ عَنْ كُتُبِ بَنِي فَضَّالٍ فَقَالُوا كَيْفَ نَعْمَلُ بِكُتُبِهِمْ وَ بُيُوتُنَا مِنْهَا مَلِی ءٌ فَقَالَ عليه السلام خُذُوا بِمَا رَوَوْا وَ ذَرُوا مَا رَأَوْا.

جبکہ ہمارے گھر اُن سے بھرے ہوئے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: میں اُن کے بارے میں وہی کہتا ہوں جو امام حسن عسکری علیہ السلام نے بنو فضال کی کتابوں کے بارے میں فرمایا۔ آپ نے فرمایا: جو اُنہوں نے روایت کیا ہے لے لو اور اُن کی اپنی رایوں کو چھوڑ دو۔

أقول: قال الشيخ رحمة اللّٰه عليه في العدة و أما العدالة المراعاة في ترجيح أحد الخبرين على الآخر فهو أن يكون الراوي معتقدا للحق مستبصرا ثقة في دينه متحرجا عن الكذب غير متهم فيما يرويه فأما إذا كان مخالفا في الاعتقاد لأصل المذهب و روی مع ذلك عن الأئمة عليهم السلام نظر فيما يرويه فإن كان هناك بالطريق الموثوق به ما يخالفه وجب اطراح خبره و إن لم يكن هناك ما يوجب اطراح خبره و يكون هناك ما يوافقه وجب العمل به و إن لم يكن من الفرقة المحقة خبر يوافق ذلك و لا يخالفه و لا يعرف لهم قول فيه وجب أيضا العمل به لما

مؤلف: شیخ طوسی کتاب «العدہ» میں کہتے ہیں: وہ عدالت جس کی دو حدیثوں میں سے ایک کو دوسری پر ترجیح دینے میں رعایت کرنی چاہیے یہ ہے کہ راوی حق کا معتقد ہو، اور ضلالت و باطل سے پلٹا ہوا ہو، اور اپنے دین میں موردِ اطمینان ہو، اور جھوٹ سے دوری کرے اور جو روایت کرتا ہے اُس میں متہم نہ ہو۔ پس نتیجتاً جب راوی اصلِ مذہب کے اعتقاد میں مخالف ہو اور اِس کے باوجود ائمہ علیہم السلام سے روایت کرے، تو اِس صورت میں ہم اُس پر نظر کرتے ہیں جو اُس نے روایت کیا ہے؛ پس اگر اُس کی مخالفت پر کوئی مطمئن راہ ہو تو واجب ہے کہ اُس کی خبر و حدیث کنارے رکھ دیں، اور اِس کے علاوہ صورت میں، جبکہ حدیث

رُوِيَ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: إِذَا نَزَلَتْ بِكُمْ حَادِثَةٌ لَا تَجِدُونَ حُكْمَهَا فِيمَا رَوَوْا عَنَّا فَانْظُرُوا إِلَى مَا رَوَوْهُ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام فَاعْمَلُوا بِهِ.

اُس کے موافق بھی رکھتے ہوں، اُس پر عمل واجب ہے۔ اور اگر فرقۂ حق سے کوئی موافق یا مخالف نہ ہو اور فرقۂ محقہ کا اُس مورد میں کوئی فتویٰ معلوم نہ ہو تو اُس پر عمل واجب ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تمہارے لیے کوئی واقعہ پیش آئے اور اُس کا حکم اُن روایات میں نہ پاؤ جو ہم سے نقل ہوئی ہیں، تو اُس کا حکم اُس سے پاؤ جو علی علیہ السلام سے روایت ہوا ہے اور عمل کرو۔

و لأجل ما قلناه عملت الطائفة بما رواه حفص بن غياث و غياث بن كلوب و نوح بن دراج و السكوني و غيرهم من العامة عن أئمتنا عليهم السلام و لم ينكروه و لم يكن عندهم خلافه و إذا كان الراوي من فرق الشيعة مثل الفطحية و الواقفية و الناووسية و غيرهم نظر فيما يروونه فإن كان هناك قرينة تعضده أو خبر آخر من جهة الموثوقين بهم وجب العمل به و إن كان هناك خبر يخالفه من طرق الموثوقين وجب إطراح ما اختصوا بروايته و العمل بما رواه الثقة و إن كان ما رووه ليس هناك ما يخالفه و لا يعرف من الطائفة العمل بخلافه وجب أيضا العمل به إذا كان متحرجا في روايته موثوقا به في أمانته و إن كان مخطئا في أصل الاعتقاد و لأجل ما قلناه عملت الطائفة بأخبار الفطحية مثل عبد اللّٰه بن بكير و غيره و أخبار الواقفة مثل سماعة بن مهران و علي بن أبی حمزة و عثمان بن عيسى و من بعد هؤلاء بما رواه بنو فضال و بنو سماعة و الطاطريون و غيرهم فيما لم يكن عندهم فيه خلافه و أما ما يرويه الغلاة و المتهمون و المضعفون و غير هؤلاء فما يختص الغلاة بروايته فإن كانوا ممن عرف لهم حال الاستقامة و حال الغلو

اُس کی وجہ سے جو ہم نے کہا، طائفۂ شیعہ نے اُس پر عمل کیا ہے جو حفص بن غیاث، غیاث بن کلوب، نوح بن دراج، سکونی اور اہلِ سنت کے دیگر افراد نے ہمارے ائمہ علیہم السلام سے روایت کیا ہے، اور اُس کا انکار نہیں کیا اور کوئی اختلاف بھی مشاہدہ نہیں ہوا؛ اور اگر راوی کسی شیعہ گروہ سے ہو جیسے فطحیہ، واقفیہ، ناووسیہ اور دیگر افراد، تو اُن کی روایات میں اشکال ہے۔ اگر کوئی قرینہ ہو کہ اِسی باب میں ثقات سے روایت نقل ہوئی ہے تو اِن کی روایت چھوڑ دو اور اُس پر عمل کیا جائے جو ثقات نے روایت کیا ہے؛ لیکن اگر یہاں کوئی مخالف روایت نہ ہو اور اِسی طرح طائفے نے اُس کے خلاف عمل نہ کیا ہو تو اُس پر عمل واجب ہے، جب راوی روایت کے اخذ میں کوشاں اور اداءِ امانت میں موردِ اطمینان ہو، اگرچہ وہ اصلِ اعتقاد میں غلطی کرتا ہو۔ اور اُس کی وجہ سے جو ہم نے کہا، طائفۂ (شیعہ) نے فطحیہ کی اخبار جیسے عبداللہ بن بکیر وغیرہ پر، اور واقفیہ کی اخبار جیسے سماعۃ بن مہران، علی بن حمزہ، عثمان بن عیسیٰ اور اُن لوگوں پر جو اِس گروہ سے تھے، عمل کیا ہے، اور اُس پر بھی جو بنو فضال، بنو سماعہ، طاطریون اور دیگر افراد نے اُن مقامات پر روایت کیا ہے جہاں اُس کے خلاف روایت نقل نہ ہوئی ہو۔ اور رہا وہ جو غالی، وہ جو متہم ہیں، وہ جو تضعیف شدہ ہیں اور اُن کے علاوہ روایت کرتے ہیں: