عَنْ سَالِمٍ أَبِي خَدِيجَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: سَأَلَ إِنْسَانٌ وَ أَنَا حَاضِرٌ فَقَالَ رُبَّمَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا يُصَلِّي الْعَصْرَ وَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّي الظُّهْرَ فَقَالَ أَنَا أَمَرْتُهُمْ بِهَذَا لَوْ صَلَّوْا عَلَى وَقْتٍ وَاحِدٍ لَعُرِفُوا فَأُخِذَ بِرِقَابِهِمْ.
ابو خدیجہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ ایک آدمی آیا اور آپ سے پوچھا اور میں اُس مجلس میں حاضر تھا، کہا: بعض اوقات میں مسجد میں داخل ہوتا تو ہمارے بعض اصحاب نمازِ عصر پڑھ رہے ہوتے اور بعض نمازِ ظہر پڑھ رہے ہوتے؟ فرمایا: میں نے اُنہیں اِس کام کا حکم دیا ہے؛ اگر تم ایک ہی وقت میں نماز پڑھو تو پہچانے جاؤ گے اور تمہاری گردنیں ماری جائیں گی۔
«70»- يب، تهذيب الأحكام الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَا سَمِعْتَ مِنِّي يُشْبِهُ قَوْلَ النَّاسِ فِيهِ التَّقِيَّةُ وَ مَا سَمِعْتَ مِنِّي لَا يُشْبِهُ قَوْلَ النَّاسِ فَلَا تَقِيَّةَ فِيهِ.
تہذیب الأحکام: زرارہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو تم نے ہم سے سنا اور وہ قولِ عامہ کے مشابہ تھا، وہ بابِ تقیہ سے ہے۔ جو کچھ تم نے مجھ سے سنا اور وہ قولِ عامہ سے مشابہت نہ رکھتا تھا، تو اُس میں تقیہ نہیں۔
«71»- يب، تهذيب الأحكام عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أَحْمَدَ ابْنَيِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَالِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام عَمَّا يَرْوِي النَّاسُ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْفُرُوجِ لَمْ يَكُنْ يَأْمُرُ بِهَا وَ لَا يَنْهَى عَنْهَا إِلَّا نَفْسَهُ وَ وُلْدَهُ فَقُلْتُ كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ أَحَلَّتْهَا آيَةٌ وَ حَرَّمَتْهَا أُخْرَى فَقُلْنَا هَلْ إِلَى أَنْ تَكُونَ إِحْدَاهُمَا نَسَخَتِ الْأُخْرَى أَمْ هُمَا مُحْكَمَتَانِ يَنْبَغِي أَنْ يُعْمَلَ بِهِمَا فَقَالَ قَدْ بَيَّنَ لَهُمْ إِذْ نَهَى نَفْسَهُ عَنْهَا وَ وُلْدَهُ قُلْنَا مَا مَنَعَهُ أَنْ يُبَيِّنَ ذَلِكَ لِلنَّاسِ قَالَ خَشِيَ أَنْ لَا يُطَاعَ وَ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام ثَبَتَتْ قَدَمَاهُ أَقَامَ كِتَابَ اللَّهِ كُلَّهُ وَ الْحَقَّ كُلَّهُ.
تہذیب الأحکام: یحییٰ بن سالم کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے اُس کے بارے میں پوچھا جو عامہ امیر المؤمنین سے متعۂ ازدواج کے بارے میں روایت کرتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: آپ نے نہ اُس کا حکم دیا اور نہ اُس سے نہی کی، سوائے اپنے اور اپنی اولاد کے۔ میں نے عرض کیا: کیسے؟ فرمایا: قرآن کی ایک آیت نے اُسے حلال کیا اور دوسری آیت نے اُسے حرام کیا۔ میں نے عرض کیا: کیا ایک آیت نے دوسری کو منسوخ کیا یا دونوں آیتیں محکم ہیں کہ دونوں پر عمل کرنا سزاوار ہے؟ پس فرمایا: اُنہوں نے اُن کے لیے بیان کیا کیونکہ اُنہوں نے خود کو اور اپنی اولاد کو اُس سے باز رکھا۔ میں نے عرض کیا: کس چیز نے آپ کو اِس پر آمادہ کیا کہ اُسے لوگوں کے لیے بیان نہ کریں؟ فرمایا: ڈرے کہ لوگ فرمان نہ مانیں۔ اگر حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی حکومت قائم رہتی تو کتابِ خدا کو مکمل اور پورے حق کو قائم کرتے۔
كِتَابُ الْمَسَائِلِ لِعَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ، سَأَلَ أَخَاهُ مُوسَى عليه السلام عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقَضَاءِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام فِي أَشْيَاءَ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِهَا وَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِلَّا أَنَّهُ نَهَى عَنْهَا نَفْسَهُ وَ وُلْدَهُ وَ سَاقَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَا مَرَّ
کتاب المسائل: علی بن جعفر نے اپنے بھائی موسیٰ کاظم علیہ السلام سے حضرت علی علیہ السلام کی قضاوت میں اختلاف کے بارے میں سوال کیا: اُن معروف چیزوں میں جن کا آپ نے نہ حکم دیا اور نہ اُن سے نہی کی، سوائے اپنے اور اپنی اولاد کے… تا آخرِ حدیث۔
«72»- غط، الغيبة للشيخ الطوسي أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُحَمَّدِيُّ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ بْنِ تَمَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيِّ خَادِمِ الشَّيْخِ الْحُسَيْنِ بْنِ رَوْحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ الشَّيْخُ يَعْنِي أَبَا الْقَاسِمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كُتُبِ ابْنِ أَبِي الغراقر [الْعَزَاقِرِ]١ بَعْدَ مَا ذُمَّ وَ خَرَجَتْ فِيهِ اللَّعْنَةُ فَقِيلَ لَهُ فَكَيْفَ نَعْمَلُ
غیبۃ لشیخ طوسی: شیخ ابوالقاسم حسین بن روح رضی اللہ عنہ (نوّابِ اربعہ میں سے ایک) سے ابن عزاقر کی کتابوں کے بارے میں پوچھا گیا (بعد اِس کے کہ وہ موردِ مذمت قرار پایا اور اُن کے لعن کے بارے میں ایک توقیع نکلی) کہ: ہم اُن کی کتابوں پر کیسے عمل کریں