مَحْبُوبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ وَ ابْنَيْهِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام اقْرَأْ مِنِّي عَلَى وَالِدِكَ السَّلَامَ وَ قُلْ لَهُ إِنِّي أَعِيبُكَ دِفَاعاً مِنِّي عَنْكَ فَإِنَّ النَّاسَ وَ الْعَدُوَّ يُسَارِعُونَ إِلَى كُلِّ مَنْ قَرَّبْنَاهُ وَ حَمِدْنَا مَكَانَهُ لِإِدْخَالِ الْأَذَى فِيمَنْ نُحِبُّهُ وَ نُقَرِّبُهُ وَ يَذُمُّونَهُ لِمَحَبَّتِنَا لَهُ وَ قُرْبِهِ وَ دُنُوِّهِ مِنَّا وَ يَرَوْنَ إِدْخَالَ الْأَذَى عَلَيْهِ وَ قَتْلَهُ وَ يَحْمَدُونَ كُلَّ مَنْ عَيَّبْنَاهُ نَحْنُ وَ إِنْ يُحْمَدُ أَمْرُهُ فَإِنَّمَا أَعِيبُكَ لِأَنَّكَ رَجُلٌ اشْتَهَرْتَ بِنَا وَ بِمَيْلِكَ إِلَيْنَا وَ أَنْتَ فِي ذَلِكَ مَذْمُومٌ عِنْدَ النَّاسِ غَيْرُ مَحْمُودِ الْأَثَرِ بِمَوَدَّتِكَ لَنَا وَ لِمَيْلِكَ إِلَيْنَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعِيبَكَ لِيَحْمَدُوا أَمْرَكَ فِي الدِّينِ بِعَيْبِكَ وَ نَقْصِكَ وَ يَكُونَ بِذَلِكَ مِنَّا دَفْعُ شَرِّهِمْ عَنْكَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَ عَزَّ أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَها وَ كانَ وَراءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْباً هَذَا التَّنْزِيلُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ صَالِحَةٌ لَا وَ اللَّهِ مَا عَابَهَا إِلَّا لِكَيْ تَسْلَمَ مِنَ الْمَلِكِ وَ لَا تَعْطَبَ عَلَى يَدَيْهِ وَ لَقَدْ كَانَتْ صَالِحَةً لَيْسَ لِلْعَيْبِ فِيهَا مَسَاغٌ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَافْهَمِ الْمَثَلَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ وَ اللَّهِ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَیَّ وَ أَحَبُّ أَصْحَابِ أَبِي عليه السلام حَيّاً وَ مَيِّتاً فَإِنَّكَ أَفْضَلُ سُفُنِ ذَلِكَ الْبَحْرِ الْقَمْقَامِ الزَّاخِرِ وَ إِنَّ مِنْ وَرَائِكَ مَلِكاً ظَلُوماً غَصُوباً يَرْقُبُ عُبُورَ كُلِّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ تَرِدُ مِنْ بَحْرِ الْهُدَى لِيَأْخُذَهَا غَصْباً ثُمَّ يَغْصِبَهَا وَ أَهْلَهَا وَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ حَيّاً وَ رَحْمَتُهُ وَ رِضْوَانُهُ عَلَيْكَ مَيِّتاً وَ لَقَدْ أَدَّی إِلَیَّ ابْنَاكَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ رِسَالَتَكَ أَحَاطَهُمَا اللَّهُ وَ كَلَأَهُمَا وَ رَعَاهُمَا وَ حَفِظَهُمَا بِصَلَاحِ أَبِيهِمَا كَمَا حَفِظَ الْغُلَامَيْنِ فَلَا يَضِيقَنَّ صَدْرُكَ مِنَ الَّذِي أَمَرَكَ أَبِي عليه السلام وَ أَمَرْتُكَ بِهِ وَ أَتَاكَ أَبُو بَصِيرٍ بِخِلَافِ الَّذِي أَمَرْنَاكَ بِهِ فَلَا وَ اللَّهِ مَا أَمَرْنَاكَ وَ لَا أَمَرْنَاهُ إِلَّا بِأَمْرٍ وَسِعَنَا وَ وَسِعَكُمُ الْأَخْذُ بِهِ وَ لِكُلِّ ذَلِكَ عِنْدَنَا تَصَارِيفُ وَ مَعَانٍ تُوَافِقُ الْحَقَّ وَ لَوْ أُذِنَ لَنَا لَعَلِمْتُمْ أَنَّ الْحَقَّ فِي الَّذِي أَمَرْنَاكُمْ فَرُدُّوا إِلَيْنَا الْأَمْرَ وَ سَلِّمُوا لَنَا وَ اصْبِرُوا لِأَحْكَامِنَا وَ ارْضَوْا بِهَا وَ الَّذِي فَرَّقَ بَيْنَكُمْ فَهُوَ رَاعِيكُمُ الَّذِي اسْتَرْعَاهُ اللَّهُ خَلْقَهُ وَ هُوَ أَعْرَفُ بِمَصْلَحَةِ غَنَمِهِ فِي فَسَادِ أَمْرِهَا فَإِنْ شَاءَ فَرَّقَ بَيْنَهَا لِتَسْلَمَ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهَا لِيَأْمَنَ مِنْ فَسَادِهَا وَ خَوْفِ عَدُوِّهَا فِي آثَارِ مَا يَأْذَنُ اللَّهُ وَ يَأْتِيهَا بِالْأَمْنِ مِنْ مَأْمَنِهِ وَ الْفَرَجِ مِنْ عِنْدِهِ عَلَيْكُمْ بِالتَّسْلِيمِ وَ الرَّدِّ إِلَيْنَا وَ انْتِظَارِ أَمْرِنَا وَ أَمْرِكُمْ وَ فَرَجِنَا وَ فَرَجِكُمْ فَلَوْ قَدْ قَامَ قَائِمُنَا عَجَّلَ اللَّهُ فَرَجَهُ وَ تَكَلَّمَ بِتَكَلُّمِنَا ١ ثُمَّ اسْتَأْنَفَ بِكُمْ تَعْلِيمَ الْقُرْآنِ وَ شَرَائِعِ الدِّينِ وَ الْأَحْكَامِ وَ الْفَرَائِضِ كَمَا أَنْزَلَهُ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله لَأَنْكَرَ أَهْلُ التَّصَابُرِ فِيكُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِنْكَاراً شَدِيداً ثُمَّ لَمْ تَسْتَقِيمُوا_
حضرت نے مجھ سے فرمایا: میری طرف سے اپنے والد کو سلام کہنا اور کہنا: میں تمہاری جان کے دفاع کی خاطر تم پر عیب جوئی کرتا ہوں، کیونکہ لوگ اور دشمن اُن لوگوں کو اذیت پہنچاتے ہیں جو ہمارے قریب ہیں اور ہمارے نزدیک مقام رکھتے ہیں، اور یہ ہم سے دوستی کے جرم میں ہے، یہاں تک کہ وہ اُسے قتل کرنا چاہتے ہیں؛ اور جس پر ہم عیب جوئی کریں اُس کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ تم ہمارے شیعہ ہونے میں مشہور ہو اور لوگوں کی ملامت کا نشانہ ہو۔ ہم تم پر عیب جوئی کرتے ہیں تاکہ اُن کا شر تم سے دفع ہو۔ پھر حضرت نے آیت «أَمَّا السَّفِینَةُ فَکانَتْ لِمَساکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِیبَها وَ کانَ وَراءَهُمْ مَلِکٌ یَأْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْباً» {رہی کشتی، تو وہ اُن بے نواؤں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اُسے عیب دار کر دوں، [کیونکہ] اُن کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر [درست] کشتی کو زبردستی لے لیتا تھا۔} تلاوت کی اور فرمایا: کشتی واقعاً عیب نہ رکھتی تھی، اُسے عیب دار دکھانے کا ہدف بادشاہ سے اور اُس کے ہاتھوں ہلاکت سے سالم رہنا تھا (تم بھی اُس کشتی کی مانند عیب نہیں رکھتے)۔ خدا کی قسم! تم میرے والد کے اصحاب میں سب سے محبوب ہو، موت کی حالت میں بھی اور زندگی کی حالت میں بھی، اور میرے نزدیک سب سے محبوب ترین انسان ہو۔ تم اُس وسیع دریا کی بہترین کشتی ہو کہ ظالم و غاصب بادشاہ اُن کشتیوں کی گھات میں ہے جو ہدایت کے دریا میں تیر رہی ہیں تاکہ اُنہیں غصب کرے۔ خداوند تم پر موت اور زندگی میں رحمت کرے اور تم سے راضی ہو۔ تمہارے بیٹوں حسن اور حسین نے ـ خداوند اُنہیں محفوظ رکھے جیسے اُس غلام کو محفوظ رکھا ـ تمہارا خط مجھے سپرد کیا۔ اُس فرمان سے جو میں نے اور میرے والد نے تمہیں دیا اور پھر ابوبصیر نے ہمارے حکم سے پہلے فرمان کے خلاف تمہارے لیے لایا، ناراض نہ ہو؛ دونوں حکم ہماری طرف سے تھے اور اُس کا ہدف تمہیں وسعت میں رکھنا تھا۔ اور ہر مورد میں ہمارے لیے ایسی تبدیلیاں اور معانی موجود ہیں جو واقع کے مطابق ہیں۔ اگر ہمیں اجازت دی جائے تو تم جان لو گے کہ ہمارے فرامین حق ہیں؛ پس امور کو ہمارے سپرد کرو اور ہمارے تسلیم رہو۔ ہمارے حکم پر صبر کرو اور راضی رہو۔ خداوند نے تمہارے درمیان فرق کرنے والے کو خلق کا نگہبان قرار دیا ہے، اِسی وجہ سے وہ لوگوں کی مصلحت بہتر پہچان سکتا ہے۔ اگر لازم ہو کہ اُن کے درمیان جدائی ڈالے تو ایسا کرے گا تاکہ وہ محفوظ رہیں، اور بعد میں اُن کے درمیان جمع کرے گا تاکہ اُن کے فساد سے مانع ہو، دشمن سے محافظت کرے اور اُنہیں امان میں رکھے۔ تمہیں ہمارے تسلیم رہنا چاہیے اور اپنے اور ہمارے کام کی فرج و کشائش کے منتظر رہنا چاہیے۔ اگر ہمارے قائم عجل اللہ فرجہ قیام کریں اور ہمارا کلام زبان پر لائیں اور قرآن، احکام اور فرائض کی تعلیم اُسی طرح شروع کریں جیسے پیغمبر پر نازل ہوئی تھی، تو وہ لوگ جنہوں نے بمشکل صبر کیا ہے، شدید انکار پر اٹھ کھڑے ہوں گے، اور تلوار کے سوا