سَيِّدِي إِنَّهُمَا مَعاً مَشْهُورَانِ مَرْوِيَّانِ مَأْثُورَانِ عَنْكُمْ فَقَالَ عليه السلام خُذْ بِقَوْلِ أَعْدَلِهِمَا عِنْدَكَ وَ أَوْثَقِهِمَا فِي نَفْسِكَ فَقُلْتُ إِنَّهُمَا مَعاً عَدْلَانِ مَرْضِيَّانِ مُوَثَّقَانِ- فَقَالَ انْظُرْ مَا وَافَقَ مِنْهُمَا مَذْهَبَ الْعَامَّةِ فَاتْرُكْهُ وَ خُذْ بِمَا خَالَفَهُمْ قُلْتُ رُبَّمَا كَانَا مُوَافِقَيْنِ لَهُمْ أَوْ مُخَالِفَيْنِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ إِذَنْ فَخُذْ بِمَا فِيهِ الْحَائِطَةُ لِدِينِكَ وَ اتْرُكْ مَا خَالَفَ الِاحْتِيَاطَ فَقُلْتُ إِنَّهُمَا مَعاً مُوَافِقَانِ لِلِاحْتِيَاطِ أَوْ مُخَالِفَانِ لَهُ فَكَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ عليه السلام إِذَنْ فَتَخَيَّرْ أَحَدَهُمَا فَتَأْخُذُ بِهِ وَ تَدَعُ الْآخَرَ.
میرے آقا! دونوں مشہور اور آپ سے روایت شدہ ہیں۔ فرمایا: اُن دونوں میں سے سب سے عادل اور سب سے معتمد راوی کے قول پر عمل کرو، اور اگر دونوں راوی یہ صفات رکھتے ہوں تو اُس روایت پر عمل کرو جو عامہ کے مخالف ہے۔ اگر دونوں اُن کے موافق یا مخالف ہوں تو اُس روایت پر عمل کرو جو دین میں احتیاط کے مطابق ہے۔ اگر دونوں احتیاط کے موافق یا مخالف ہوں تو تم مخیر ہو کہ جس پر چاہو عمل کرو۔
وَ فِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ عليه السلام قَالَ: إِذَنْ فَأَرْجِهْ حَتَّى تَلْقَى إِمَامَكَ فَتَسْأَلَهُ.
اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے: تاخیر کرو یہاں تک کہ حکم امام سے پوچھو۔
بيان: هذا الخبر يدل على أن موافقة الاحتياط من جملة مرجحات الخبرين المتعارضين.
یہ حدیث احتیاط کی موافقت پر دلالت کرتی ہے جو دو متعارض خبروں کے بعض مرجحات میں سے ہے۔
«58»- كش، رجال الكشي ابْنُ قُولَوَيْهِ عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَوْماً وَ دَخَلَ عَلَيْهِ الْفَيْضُ بْنُ الْمُخْتَارِ فَذَكَرَ لَهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ يُأَوِّلُهَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ لَهُ الْفَيْضُ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ مَا هَذَا الِاخْتِلَافُ الَّذِي بَيْنَ شِيعَتِكُمْ قَالَ وَ أَيُّ الِاخْتِلَافِ يَا فَيْضُ فَقَالَ لَهُ الْفَيْضُ إِنِّي لَأَجْلِسُ فِي حَلَقِهِمْ بِالْكُوفَةِ فَأَكَادُ أَنْ أَشُكَّ فِي اخْتِلَافِهِمْ فِي حَدِيثِهِمْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ فَيُوقِفُنِي ١مِنْ ذَلِكَ عَلَى مَا تَسْتَرِيحُ إِلَيْهِ نَفْسِي وَ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِ قَلْبِي فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَجَلْ هُوَ كَمَا ذَكَرْتَ يَا فَيْضُ إِنَّ النَّاسَ أُولِعُوا بِالْكَذِبِ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ لَا يُرِيدُ مِنْهُمْ غَيْرَهُ وَ إِنِّی أُحَدِّثُ أَحَدَهُمْ بِالْحَدِيثِ فَلَا يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِي حَتَّى يَتَأَوَّلَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ وَ ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَا يَطْلُبُونَ بِحَدِيثِنَا وَ بِحُبِّنَا مَا عِنْدَ اللَّهِ وَ إِنَّمَا يَطْلُبُونَ الدُّنْيَا وَ كُلٌّ يُحِبُّ أَنْ يُدْعَى رَأْساً إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَرْفَعُ نَفْسَهُ إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ وَ مَا مِنْ عَبْدٍ وَضَعَ نَفْسَهُ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ وَ شَرَّفَهُ فَإِذَا أَرَدْتَ حَدِيثَنَا فَعَلَيْكَ بِهَذَا الْجَالِسِ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَسَأَلْتُ أَصْحَابَنَا عَنْهُ فَقَالُوا زُرَارَةُ بْنُ أَعْيَنَ.
رجالِ کشی: مفضل نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی: ایک دن فیض بن مختار آپ کے پاس آیا اور قرآن کی ایک آیت آپ کو یاد دلائی، امام علیہ السلام نے اُس کی تاویل کی۔ فیض نے عرض کیا: آپ پر قربان! آپ کے شیعوں کے درمیان یہ اختلاف کیا ہے؟ حضرت علیہ السلام نے فرمایا: کون سا اختلاف، اے فیض؟! فیض نے کہا: میں کوفہ میں اُن کے درمیان بیٹھتا ہوں، قریب ہے کہ اُن کے اختلاف کے اثر میں حدیث کے بارے میں شک کروں، مگر مفضل بن عمر کے پاس جاتا ہوں، وہ حقیقت مجھ پر آشکار کرتے ہیں اور میرا شک دور کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسا ہی ہے جیسا تم کہتے ہو۔ لوگ حریص ہیں کہ ہم پر جھوٹ باندھیں، گویا خداوند نے ہم پر جھوٹ باندھنا واجب کر دیا ہو۔ میں کسی کو کوئی حدیث بتاتا ہوں، ابھی میرے پاس سے نکلا نہیں ہوتا کہ غلط تاویل پر ہاتھ ڈالتا ہے، اور یہ اُن کی دنیا طلبی کی وجہ سے ہے کہ اُن میں سے ہر ایک ریاست کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے، جبکہ خداوند بلند پروازوں کو پست اور متواضع افراد کو بلند مرتبہ اور شریف کرتا ہے۔ اگر ہماری حدیث چاہو تو اِسی سے پوچھو جو مجلس میں بیٹھا ہے ـ اور آپ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے اصحاب سے پوچھا: یہ صاحب کون ہیں؟ کہا: زرارۃ بن اعین۔
«59»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ بْنُ نُصَيْرٍ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ يُونُسَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُولَوَيْهِ وَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ مَعاً عَنْ سَعْدٍ عَنْ هَارُونَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ
رجالِ کشی: عبداللہ بن زرارہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی: