الْحَدِيثَانِ الْمُخْتَلِفَانِ فَقِسْهُمَا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَ عَلَی أَحَادِيثِنَا فَإِنْ أَشْبَهَهُمَا فَهُوَ حَقٌّ وَ إِنْ لَمْ يُشْبِهْهُمَا فَهُوَ بَاطِلٌ.
مختلف حدیثیں ہم سے تم تک پہنچیں تو اُن دونوں کو کتابِ خدا اور سنتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے روبرو کرو۔
«53»- سر، السرائر مِنْ جَامِعِ الْبَزَنْطِيِّ عَنِ الرِّضَا عليه السلام قَالَ: عَلَيْنَا إِلْقَاءُ الْأُصُولِ إِلَيْكُمْ وَ عَلَيْكُمُ التَّفَرُّعُ.
سرائر: امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ہمارا وظیفہ ہے کہ تم پر اصولِ کلی القا کریں اور تمہارا وظیفہ ہے کہ اُن کی تفریع کرو (کلی قواعد کو مصادیق پر منطبق کرنا)۔
«54»- سر، السرائر مِنْ جَامِعِ الْبَزَنْطِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّمَا عَلَيْنَا أَنْ نُلْقِيَ إِلَيْكُمُ الْأُصُولَ وَ عَلَيْكُمْ أَنْ تُفَرِّعُوا.
سرائر: ہشام بن سالم نے امام صادق علیہ السلام سے: ہمارا وظیفہ ہے کہ تم پر اصولِ کلی القا کریں اور تمہارا وظیفہ ہے کہ اُن کی تفریع کرو (کلی قواعد کو مصادیق پر منطبق کرنا)۔
غو، غوالي اللئالي روی زرارة و أبو بصير عن الباقر و الصادق عليهما السلام مثله بيان يدل على جواز استنباط الأحكام من العمومات.
عوالی اللئالی: زرارہ اور ابوبصیر نے امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔ مذکورہ بالا احادیث عمومات سے احکام کے استنباط پر دلالت کرتی ہیں۔
«55»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ الْمَسَائِلِ مِنْ مَسَائِلِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَ مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام أَسْأَلُهُ عَنِ الْعِلْمِ الْمَنْقُولِ إِلَيْنَا عَنْ آبَائِكَ وَ أَجْدَادِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ قَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْنَا فِيهِ فَكَيْفَ الْعَمَلُ بِهِ عَلَى اخْتِلَافِهِ وَ الرَّدُّ إِلَيْكَ فِيمَا اخْتُلِفَ فِيهِ فَكَتَبَ عليه السلام مَا عَلِمْتُمْ أَنَّهُ قَوْلُنَا فَالْزَمُوهُ وَ مَا لَمْ تَعْلَمُوهُ فَرُدُّوهُ إِلَيْنَا.
سرائر: موسیٰ بن محمد کہتے ہیں: میں نے امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا اور آپ سے اُس علم کے بارے میں پوچھا جو آپ کے بزرگوار آباء سے ہماری طرف نقل ہوا ہے اور ہم پر مختلف ہو گیا ہے کہ اُن اختلافات کے ساتھ جو وہ رکھتا ہے، ہم اُس پر کیسے عمل کریں اور مواردِ اختلافی کو آپ کی طرف کیسے لوٹائیں؟ حضرت نے لکھا: وہ حدیث جس کے بارے میں تم جانتے ہو کہ ہمارا کلام ہے، اُس پر پابند رہو، اور جسے نہیں جانتے، اُسے ہماری طرف لوٹا دو۔
بيان: ظاهره عدم جواز العمل بالأخبار التي هي مظنونة الصدور عن المعصوم لكنه بظاهره مختص بالأخبار المختلفة فيجمع بينه و بين خبر التخيير بما مر على أن إطلاق العلم على ما يعم الظن شائع و عمل أصحاب الأئمة عليهم السلام على أخبار الآحاد التي لا تفيد العلم في أعصارهم متواتر بالمعنى لا يمكن إنكاره ١.
حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ اُن احادیث پر عمل کرنا جو معصوم سے «مظنون الصدور» ہوں جائز نہیں، لیکن یہ حدیث اخبارِ مختلف سے مختص ہے، کہ اِس صورت میں اُس کے اور اُن اخبارِ تخییر کے درمیان جو پہلے گزریں، جمع ہو جاتا ہے؛ یہ دیکھتے ہوئے کہ «علم» کا اطلاق ظن کو بھی شامل ہونا شائع ہے اور ائمہ کے اصحاب کا اُن خبرِ واحد پر عمل کرنا جو علم و یقین مفید نہ تھیں، متواترِ معنوی ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
«56»- نهج، نهج البلاغة مِنْ وَصِيَّتِهِ عليه السلام لِابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا بَعَثَهُ لِلِاحْتِجَاجِ عَلَى الْخَوَارِجِ لَا تُخَاصِمْهُمْ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَمَّالٌ ذُو وُجُوهٍ تَقُولُ وَ يَقُولُونَ وَ لَكِنْ حَاجِّهِمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَجِدُوا عَنْهَا مَحِيصاً.
نہج البلاغہ: حضرت علی علیہ السلام کی ابن عباس کے نام وصیت سے، جب آپ نے اُنہیں خوارج سے احتجاج کے لیے بھیجا، فرمایا: اُن سے قرآن کے ساتھ جدال نہ کرنا، کیونکہ قرآن کئی احتمالات رکھتا ہے؛ تم کہو گے اور وہ بھی کہیں گے؛ بلکہ اُن سے سنتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ احتجاج کرنا، کیونکہ وہ سنتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے فرار کی راہ نہیں رکھتے۔
«57»- غو، غوالي اللئالي رَوَى الْعَلَّامَةُ قُدِّسَتْ نَفْسُهُ مَرْفُوعاً إِلَى زُرَارَةَ بْنِ أَعْيَنَ قَالَ: سَأَلْتُ الْبَاقِرَ عليه السلام فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ يَأْتِي عَنْكُمُ الْخَبَرَانِ أَوِ الْحَدِيثَانِ الْمُتَعَارِضَانِ فَبِأَيِّهِمَا آخُذُ فَقَالَ عليه السلام يَا زُرَارَةُ خُذْ بِمَا اشْتَهَرَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَ دَعِ الشَّاذَّ النَّادِرَ فَقُلْتُ يَا
عوالی اللئالی: زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی: میں نے امام سے عرض کیا: آپ پر قربان! میرے پاس آپ سے دو متعارض خبریں یا حدیثیں ہیں، کس پر عمل کروں؟ فرمایا: اصحاب کے درمیان مشہور حدیث پر عمل کرو اور غیر مشہور کو چھوڑ دو۔ میں نے عرض کیا: