«35»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيِّ رَفَعَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ نُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ.
المحاسن: سلیمان جعفری نے ایک حدیثِ مرفوع کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہم انبیاء کا گروہ لوگوں کی عقلوں کے اندازے پر اُن سے بات کرتے ہیں۔
«36»- سن، المحاسن أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْحَقَّ مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَتَنَكَّبِ الْفِتَنَ١
المحاسن: داود امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو حق کو قرآن سے نہ پہچانے، وہ فتنوں سے دوری اختیار نہ کر سکا۔
«37»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ ِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ كُلُّ شَيْ ءٍ مَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَ السُّنَّةِ وَ كُلُّ حَدِيثٍ لَا يُوَافِقُ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ زُخْرُفٌ.
المحاسن: ایوب بن حر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ہر چیز کتاب اور سنت کی طرف لوٹتی ہے، اور ہر وہ حدیث جو قرآن کے موافق نہ ہو، باطل ہے۔
شی، تفسير العياشي عن أيوب مثله.
تفسیرِ عیاشی: ایوب نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔
«38»- سن، المحاسن أَبِی عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ كُلَيْبِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَا أَتَاكُمْ عَنَّا مِنْ حَدِيثٍ لَا يُصَدِّقُهُ كِتَابُ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ.
المحاسن: کلیب بن معاویہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہمارے نام سے کوئی ایسی حدیث جو قرآن کی تائید نہ رکھتی ہو، باطل ہے۔
شی، تفسير العياشي عن كليب مثله.
تفسیرِ عیاشی: کلیب نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔
«39»- سن، المحاسن أَبُو أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ الْهِشَامَيْنِ جَمِيعاً وَ غَيْرِهِمَا قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله بِمِنًى فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ مَا جَاءَكُمْ عَنِّي فَوَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ وَ مَا جَاءَكُمْ يُخَالِفُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أَقُلْهُ.
المحاسن: دونوں ہشام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے منیٰ میں اپنی تقریر میں فرمایا: میری باتوں میں سے جو کتابِ خدا کے موافق ہو، وہ میں نے کہی، ورنہ نہیں۔
«40»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنِّي بِالْحَدِيثِ فَأَنْحِلُونِي أَهْنَأَهُ وَ أَسْهَلَهُ وَ أَرْشَدَهُ فَإِنْ وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ وَ إِنْ لَمْ يُوَافِقْ كِتَابَ اللَّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ.
المحاسن: علی بن ایوب نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جب تم تک مجھ سے کوئی حدیث پہنچے تو مختلف اخبار میں سے سب سے گوارا، سب سے آسان اور رشد سے سب سے قریب کو چن لو اور قبول کرو۔ اگر وہ کتابِ خدا کے موافق ہو تو میں نے کہی، ورنہ میں نے نہیں کہی۔
بيان: النحلة العطية و لعل المراد إذا ورد عليكم أخبار مختلفة فخذوا بما هو أهنأ و أسهل و أقرب إلی الرشد و الصواب مما علمتم منا فالنحلة كناية عن قبول قوله صلى اللّٰه عليه و آله و الأخذ به و يحتمل أن تكون تلك الصفات قائمة مقام المصدر أي أنحلوني أهنأ نحل و أسهله و أرشده و الحاصل أن كل ما يرد مني عليكم فاقبلوه أحسن القبول فيكون ما ذكره بعده في قوة الاستثناء منه.
«النحلہ» یعنی عطیہ اور ہدیہ، اور شاید یہاں اُس سے مراد یہ ہو کہ جب بھی تم پر مختلف احادیث وارد ہوں تو اُنہیں لو جو زیادہ گوارا، زیادہ آسان اور ہدایت و حق سے زیادہ قریب ہوں؛ پس نتیجتاً «نحلہ» امام علیہ السلام کے قول کو قبول کرنے اور اُس پر عمل کرنے کا کنایہ ہے۔ اور احتمال ہے کہ وہ مذکورہ صفات مصدر کی جانشین ہوں، یعنی «انحلونی أہنأ نحل و أسہلہ و أرشدہ»۔ کلام کا حاصل اور اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ مجھ پیغمبر کی طرف سے تم پر وارد ہو، اُسے بہترین وجہ سے قبول کرو، اور جو اُس کے بعد یاد دہانی کی ہے وہ استثناء ہے۔
«41»- سن، المحاسن الْوَاسِطِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ بَكْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي
المحاسن: زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی