Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 240

أن هذا التقسيم يتعلق بمجموع أمور الدين و لا يختص بنوع منها.

اِس تقسیم سے، اُس کے تمام امورِ دین سے تعلق کی وجہ سے ہے، نہ کہ امور کی کسی ایک قسم سے اختصاص۔

قوله عليه السلام فمن أورد واحدة من هذه الثلاث أي الثلاث الداخلة في القسم الأخير و إنما خصها لأن القسم الأول لا يكون مورد المخاصمة و الاحتجاج و فسّر عليه السلام الحجة البالغة بما يبلغ كل أحد و يتم الاحتجاج بها على جميع الخلق قوله فأجازه الرشيد أي أعطاه الجائزة.

«فمن أورد واحدۃ من ہذہ الثلاث» یعنی وہ تین قسمیں جو آخری قسم میں داخل ہیں، اور اُن کی تخصیص اِس وجہ سے ہے کہ پہلی قسم موردِ مخاصمہ و نزاع و احتجاج نہیں؛ اور امام علیہ السلام نے حجتِ بالغہ کی تفسیر اُس سے کی ہے جو ہر کسی تک پہنچے اور جس سے احتجاج تمام لوگوں پر تمام ہو۔ «فأجازہ الرشید» یعنی ہارون الرشید نے امام کاظم علیہ السلام کو جائزہ دیا۔

هذا ما خطر بالبال و قرر على الاستعجال في حل هذا الخبر المشتمل على إغلاق و إجمال و اللّٰه أعلم بحقيقة الحال.

یہ مقدار جو ہم نے کہی، وہ ہے جو ذہن میں آتی ہے اور اِس حدیث کے حل میں جو پیچیدگی اور اجمال پر مشتمل ہے، جلدی اور عجلت میں تقریر ہوئی ہے، اور خدا حقیقتِ حال کا زیادہ جاننے والا ہے۔

و وجدت هذا الخبر بعد ذلك في كتاب الإختصاص و هو أوضح مما سبق فأوردته

یہ حدیث میں نے «تحف العقول» کے بعد کتاب «اختصاص» میں پائی اور کتابِ اختصاص میں یہ پہلی سے زیادہ واضح ہے؛ اور میں نے لائی ہے:

رَوَاهُ عَنِ ابْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْعَلَوِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ الدَّامَغَانِيِّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام قَالَ: قَالَ لِيَ الرَّشِيدُ أَحْبَبْتُ أَنْ تَكْتُبَ لِي كَلَاماً مُوجَزاً لَهُ أُصُولٌ وَ فُرُوعٌ يُفْهَمُ تَفْسِيرُهُ وَ يَكُونُ ذَلِكَ سَمَاعَكَ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَكَتَبْتُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ أُمُورُ الْأَدْيَانِ أَمْرَانِ أَمْرٌ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَ هُوَ إِجْمَاعُ الْأُمَّةِ عَلَى الضَّرُورَةِ الَّتِي يُضْطَرُّونَ إِلَيْهَا وَ الْأَخْبَارِ الْمُجْتَمَعِ عَلَيْهَا الْمَعْرُوضِ عَلَيْهَا كُلُّ شُبْهَةٍ وَ الْمُسْتَنْبَطِ مِنْهَا كُلُّ حَادِثَةٍ وَ أَمْرٌ يَحْتَمِلُ الشَّكَّ وَ الْإِنْكَارَ وَ سَبِيلُ اسْتِيضَاحِ أَهْلِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ فَمَا ثَبَتَ لِمُنْتَحِلِيهِ مِنْ كِتَابٍ مُسْتَجْمِعٍ عَلَى تَأْوِيلِهِ أَوْ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله لَا اخْتِلَافَ فِيهَا أَوْ قِيَاسٍ تَعْرِفُ الْعُقُولُ عَدْلَهُ ضَاقَ عَلَى مَنِ اسْتَوْضَحَ تِلْكَ الْحُجَّةَ رَدُّهَا وَ وَجَبَ عَلَيْهِ قَبُولُهَا وَ الْإِقْرَارُ وَ الدِّيَانَةُ بِهَا وَ مَا لَمْ يَثْبُتْ لِمُنْتَحِلِيهِ بِهِ حُجَّةٌ مِنْ كِتَابٍ مُسْتَجْمِعٍ عَلَى تَأْوِيلِهِ أَوْ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله لَا اخْتِلَافَ فِيهَا أَوْ قِيَاسٍ تَعْرِفُ الْعُقُولُ عَدْلَهُ وَسِعَ خَاصَّ الْأُمَّةِ وَ عَامَّهَا الشَّكُّ فِيهِ وَ الْإِنْكَارُ لَهُ كَذَلِكَ هَذَانِ الْأَمْرَانِ مِنْ أَمْرِ التَّوْحِيدِ فَمَا دُونَهُ إِلَى أَرْشِ الْخَدْشِ فَمَا دُونَهُ فَهَذَا الْمَعْرُوضُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ أَمْرُ الدِّينِ فَمَا ثَبَتَ لَكَ بُرْهَانُهُ اصْطَفَيْتَهُ وَ مَا غَمَضَ عَنْكَ ضَوْؤُهُ نَفَيْتَهُ وَ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَ حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ

امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: ہارون الرشید نے مجھ سے کہا: مجھے پسند ہے کہ آپ میرے لیے ایک خلاصہ کلام لکھیں جو اصول و فروع پر مشتمل ہو اور جس کی تفسیر مفہوم و روشن ہو اور جسے آپ نے امام صادق اور امام کاظم علیہم السلام سے سنا ہو۔ فرماتے ہیں: میں نے ہارون کے جواب میں لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ادیان دو امور اور مسئلوں پر مشتمل ہیں: وہ امر جس میں اختلاف نہیں اور امت اُس ضرورت کی بنا پر جس پر وہ ناچار ہیں، [اُس پر] اجماع رکھتی ہے؛ اور وہ احادیث جن پر اجتماع ہے اور جو ہر شبہے کی راہ کشا ہیں اور ہر حادثہ اور ہر نئی چیز اُن احادیث سے استنباط کی جا سکتی ہے؛ اور ایک دوسرا امر اور چیز وہ کہ جس میں شک و تردید اور انکار کا احتمال ہے… تا آخرِ حدیث۔

أقول: تمامه في أبواب تاريخه عليه السلام.

مؤلف: پوری حدیث اُن کی تاریخ کے ابواب میں آئے گی۔

«32»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مُوسَى

بصائر الدرجات: