أَقَلَّ لِبَقَائِنَا وَ بَقَائِكُمْ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام شِيعَتُكُمْ لَوْ حَمَلْتُمُوهُمْ عَلَى الْأَسِنَّةِ أَوْ عَلَى النَّارِ لَمَضَوْا وَ هُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ عِنْدِكُمْ مُخْتَلِفِينَ قَالَ فَسَكَتَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَجَابَنِي بِمِثْلِ جَوَابِ أَبِيهِ.
زرارہ کہتے ہیں: امام علیہ السلام نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، ناچار میں نے سوال تین بار دہرایا اور آخرکار آپ نے مجھے وہی جواب دیا جو اُن کے والد نے دیا تھا۔
«25»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْأَرَّجَائِيِّ رَفَعَهُ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَ تَدْرِی لِمَ أُمِرْتُمْ بِالْأَخْذِ بِخِلَافِ مَا تَقُولُ الْعَامَّةُ فَقُلْتُ لَا نَدْرِي فَقَالَ إِنَّ عَلِيّاً عليه السلام لَمْ يَكُنْ يَدِينُ اللَّهَ بِدِينٍ إِلَّا خَالَفَ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ إِلَى غَيْرِهِ إِرَادَةً لِإِبْطَالِ أَمْرِهِ وَ كَانُوا يَسْأَلُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عَنِ الشَّيْ ءِ لَا يَعْلَمُونَهُ فَإِذَا أَفْتَاهُمْ جَعَلُوا لَهُ ضِدّاً مِنْ عِنْدِهِمْ لِيَلْبِسُوا عَلَى النَّاسِ.
علل الشرائع: میرے والد رحمہ اللہ نے احمد بن ادریس سے، ابواسحاق ارجانی سے حدیث کو مرفوع طور پر نقل کیا؛ وہ کہتے ہیں: حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے تمہیں کیوں حکم دیا کہ جو عامّہ (اہلِ سنت) کہتے ہیں اُس کے خلاف لو؟ میں نے عرض کیا: ہم نہیں جانتے۔ فرمایا: جس چیز کے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام معتقد اور متدیّن تھے، امت (عامہ) نے اُس کا خلاف کہا اور اُس کے غیر کو اپنا دین قرار دیا، اور اُس سے اُن کی غرض یہ تھی کہ آپ کی امامت و ولایت کو باطل کریں۔ اور بارہا ایسا ہوا کہ وہ کسی چیز کو نہ جانتے اور آپ سے پوچھتے، اور جب حضرت اُن کا جواب دیتے تو اپنی طرف سے اُس کا ضد گھڑ لیتے تاکہ اِس طرح امر لوگوں پر مشتبہ کر دیں۔
«26»- ع، علل الشرائع جَعْفَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذٍ ١ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنِّي أَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَإِذَا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُخَالِفُكُمْ أَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ غَيْرِكُمْ وَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَقُولُ بِقَوْلِكُمْ أُخْبِرُهُ بِقَوْلِكُمْ فَإِنْ كَانَ مِمَّنْ لَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِكُمْ وَ قَوْلِ غَيْرِكُمْ فَيَخْتَارُ لِنَفْسِهِ قَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ هَكَذَا فَاصْنَعْ.
علل الشرائع: جعفر بن علی نے علی بن عبداللہ سے، معاذ سے نقل کیا کہ اُنہوں نے کہا: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمتِ مبارک میں عرض کیا: میں کسی مجلس اور محفل میں بیٹھتا ہوں، ایک شخص وارد ہوتا ہے؛ اگر میں جانوں کہ وہ آپ کے مخالفین میں سے ہے تو مخالفین کی رائے اور نظریہ ظاہر کرتا ہوں، اور اگر وہ اُن لوگوں میں سے ہو جو آپ کی رائے اور نظریے کے قائل ہیں تو میں بھی آپ کی رائے ظاہر کرتا ہوں؛ اور اگر اُسے نہ پہچانوں تو آپ کا نظریہ اور مخالفین کی رائے دونوں ظاہر کرتا ہوں تاکہ وہ جس کا بھی قائل ہو اپنے لیے اختیار کرے۔ حضرت نے فرمایا: خدا تم پر رحم کرے، ایسا ہی کرو۔
«27»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِذَا كُنْتُمْ فِي أَئِمَّةِ الْجَوْرِ فَامْضُوا فِي أَحْكَامِهِمْ وَ لَا تَشْهَرُوا أَنْفُسَكُمْ فَتُقْتَلُوا وَ إِنْ تَعَامَلْتُمْ بِأَحْكَامِهِمْ كَانَ خَيْراً لَكُمْ.
علل الشرائع: میرے والد رحمہ اللہ نے سعد بن عبداللہ سے، عمر بن ابی المقدام سے، علی بن حسین سے، امام صادق علیہ السلام سے لایا ہے کہ حضرت نے فرمایا: جب بھی تم ائمۂ جور اور سلاطینِ ظلم کے تسلط میں ہو تو اُن کے احکام کے مطابق چلو اور برتاؤ کرو، اور ہوشیار رہو کہ خود کو ممتاز اور نمایاں نہ کرو کہ قتل کر دیے جاؤ گے؛ اور جب بھی اُن کے احکام کے مطابق معاملہ کرو، تمہارے لیے البتہ بہتر ہے۔
«28»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ يَزِيدَ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام حَدِّثْ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا زُرَارَةُ لَا حَرَجَ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فِي حَدِيثِ الشِّيعَةِ مَا هُوَ أَعْجَبُ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ قَالَ فَأَيُّ شَيْ ءٍ هُوَ يَا زُرَارَةُ قَالَ فَاخْتَلَسَ مِنْ قَلْبِي فَمَكَثْتُ سَاعَةً لَا أَذْكُرُ مَا أُرِيدُ قَالَ لَعَلَّكَ تُرِيدُ التَّقِيَّةَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ صَدِّقْ بِهَا فَإِنَّهَا حَقٌّ ٢
بصائر الدرجات: زرارہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اے زرارہ! بنی اسرائیل سے حدیث بیان کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ میں نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! شیعہ کی حدیث میں ایسی چیز ہے جو بنی اسرائیل کی احادیث سے زیادہ عجیب ہے۔ فرمایا: بنی اسرائیل کی حدیث کچھ بھی نہیں اے زرارہ! پھر جو میرے دل میں تھا وہ مجھے بھول گیا اور میں ایک لمحہ ٹھہرا؛ جو کہنا چاہتا تھا یاد نہ آیا۔ حضرت نے فرمایا: شاید تم تقیہ کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تقیہ کی تصدیق کرو، وہ حق ہے۔
«29»- كِتَابُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِ
کتابِ جعفر بن محمد بن شریح: