عَنْ يُونُسَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عليه السلام وَ نَحْنُ جَمَاعَةٌ بَعْدَ مَا قَضَيْنَا نُسُكَنَا فَوَدَّعْنَاهُ وَ قُلْنَا لَهُ أَوْصِنَا يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ لِيُعِنْ قَوِيُّكُمْ ضَعِيفَكُمْ وَ لْيَعْطِفْ غَنِيُّكُمْ عَلَى فَقِيرِكُمْ وَ لْيَنْصَحِ الرَّجُلُ أَخَاهُ كَنُصْحِهِ لِنَفْسِهِ وَ اكْتُمُوا أَسْرَارَنَا وَ لَا تَحْمِلُوا النَّاسَ عَلَی أَعْنَاقِنَا وَ انْظُرُوا أَمْرَنَا وَ مَا جَاءَكُمْ عَنَّا فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُ لِلْقُرْآنِ مُوَافِقاً فَخُذُوا بِهِ وَ إِنْ لَمْ تَجِدُوهُ مُوَافِقاً فَرُدُّوهُ وَ إِنِ اشْتَبَهَ الْأَمْرُ عَلَيْكُمْ فَقِفُوا عِنْدَهُ وَ رُدُّوهُ إِلَيْنَا حَتَّى نَشْرَحَ لَكُمْ مِنْ ذَلِكَ مَا شُرِحَ لَنَا فَإِذَا كُنْتُمْ كَمَا أَوْصَيْنَاكُمْ لَمْ تَعَدَّوْا إِلَى غَيْرِهِ فَمَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَائِمُنَا عَجَّلَ اللَّهُ تَعَالَى فَرَجَهُ كَانَ شَهِيداً وَ مَنْ أَدْرَكَ قَائِمَنَا عَجَّلَ اللَّهُ فَرَجَهُ فَقُتِلَ مَعَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ وَ مَنْ قَتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَدُوّاً لَنَا كَانَ لَهُ أَجْرُ عِشْرِينَ شَهِيداً.
جابر کہتے ہیں: ہم امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس گئے ـ اور ہم ایک گروہ تھے ـ اور اُن کی عیادت کرنے کے بعد ہم نے امام سے رخصت چاہی۔ جب ہم باہر نکلنا چاہتے تھے تو ہم نے کہا: اے فرزندِ پیغمبر! ہمیں کوئی وصیت کیجیے۔ امام نے فرمایا: تم میں کا طاقتور تم میں کے ناتواں کی مدد کرے۔ تم میں کا مالدار تم میں کے بے چارے پر مہربانی کرے۔ آدمی اپنے دینی بھائی کی خیرخواہی کرے، جیسے وہ خود اپنی خیرخواہی کرتا ہے۔ ہمارے اسرار پوشیدہ رکھو۔ لوگوں کو ہماری گردنوں پر سوار نہ کرو۔ ہمارے دین کو دیکھو اور جو ہماری طرف سے تمہارے پاس آئے، پس اگر اُسے قرآن کے موافق پاؤ تو اُس کی تقلید کرو اور اگر قرآن کے موافق نہ پاؤ تو ہماری طرف لوٹا دو۔ اگر حکم تم پر مشتبہ ہو جائے اور اُس کا حقیقی معنی نہ سمجھ سکو تو اُس پر توقف کرو اور اُسے ہماری طرف لوٹا دو تاکہ ہم تم پر اِس مشتبہ کی شرح کریں، جس طرح ہمارے لیے خدا کی طرف سے شرح کی گئی ہے۔ تم ویسے ہی رہو جیسی ہم نے تمہیں سفارش کی اور جو ہم سے تم تک پہنچا ہے اُس کے سوا تجاوز نہ کرو۔ پس اگر تم میں سے کوئی آدمی اِسی [روش] پر مر جائے، ہمارے قائم عجل اللہ فرجہ کے ظاہر ہونے سے پہلے، تو وہ شہید ہوا؛ اور جو ہمارے قائم عجل اللہ فرجہ کو درک کرے اور اُن کے ساتھ شہید ہو، تو اُس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے؛ اور جو امامِ زمان کے سامنے ہمارے دشمن کو قتل کرے، تو اُس کے لیے بیس شہیدوں کا اجر ہے۔
«22»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَ السِّنْدِيِّ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ وَ حَرِيزٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْ ءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِنَا قَالَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِي.
علل الشرائع: میرے والد رحمہ اللہ نے سعد بن عبداللہ سے، حریز سے، حضرت امام صادق علیہ السلام سے؛ کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام کی خدمتِ مبارک میں عرض کیا: مجھ پر کوئی امر اِس سے سخت تر نہیں کہ ہمارے اصحاب کے درمیان اختلاف ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ اختلاف میری جانب سے ہے اور میں نے ہی اُن کے درمیان اختلاف ڈالا ہے۔
بيان:، أي بما أخبرتهم به من جهة التقية و أمرتهم به للمصلحة.
میں نے اُن کے لیے کچھ احادیث تقیہ اور مصلحت کے باب سے بیان کی ہیں۔
«23»- ع، علل الشرائع ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ عَنِ الْخَزَّازِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام قَالَ: اخْتِلَافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ وَ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ جَمَعْتُكُمْ عَلَى أَمْرٍ وَاحِدٍ وَ سُئِلَ عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِنَا فَقَالَ عليه السلام أَنَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكُمْ لَوِ اجْتَمَعْتُمْ عَلَى أَمْرٍ وَاحِدٍ لَأُخِذَ بِرِقَابِكُمْ.
علل الشرائع: محمد بن حسن نے ایوب خزّاز سے، حضرت امام کاظم علیہ السلام سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: میرے اصحاب کے درمیان اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔ اور نیز فرمایا: جب میرے اصحاب کے درمیان اختلاف ہو گا، میں تمہیں ایک ہی امر پر متفق کروں گا۔ اور میں نے آپ سے اصحاب کے اختلاف اور اُس کے سبب کے بارے میں پوچھا؟ حضرت نے فرمایا: میں نے یہ اختلاف اصحاب کے درمیان ڈالا ہے اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم متفق ہوتے اور تمہارے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوتا تو دشمن تمہاری گردنیں اڑا دیتے۔
بيان: إذا كان ذلك أي ظهور الحق و قيام القائم عجل اللّٰه فرجه.
یعنی جب حضرت قائم عجل اللہ فرجہ ظہور فرمائیں گے تو تمہیں ایک امر پر متحد کریں گے۔
«24»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَنِي قَالَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَأَجَابَهُ بِخِلَافِ مَا أَجَابَنِي ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَأَجَابَهُ بِخِلَافِ مَا أَجَابَنِي وَ أَجَابَ صَاحِبِي فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ قُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ شِيعَتِكَ قَدِمَا يَسْأَلَانِ فَأَجَبْتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِغَيْرِ مَا أَجَبْتَ بِهِ الْآخَرَ قَالَ فَقَالَ يَا زُرَارَةُ إِنَّ هَذَا خَيْرٌ لَنَا وَ أَبْقَى لَنَا وَ لَكُمْ وَ لَوِ اجْتَمَعْتُمْ عَلَى أَمْرٍ وَاحِدٍ لَقَصَدَكُمُ النَّاسُ وَ لَكَانَ
علل الشرائع: میرے والد رحمہ اللہ نے سعد بن عبداللہ سے، زرارہ سے، حضرت ابی جعفر علیہ السلام سے روایت کی کہ زرارہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے ایک مسئلہ پوچھا اور آپ نے مجھے جواب دیا، پھر ایک آدمی آیا اور اُسی مسئلے کے بارے میں پوچھا اور حضرت نے اُسے اُس جواب کے خلاف دیا جو مجھے دیا تھا، پھر ایک اور آدمی آیا اور اُسی مسئلے کا پوچھا اور امام نے اُسے ایک ایسا جواب دیا جو مجھے اور اُس پہلے آدمی کو دیے گئے جواب کے خلاف تھا؛ اور جب یہ دونوں آدمی باہر چلے گئے تو میں نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولِ خدا! اہلِ عراق میں سے دو آدمی جو آپ کے شیعوں میں سے تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک مسئلہ پوچھا اور آپ نے ہر ایک کو دوسرے کے جواب کے سوا ایک جواب دیا!؟ فرمایا: اے زرارہ! یہ عمل ہمارے لیے خیر اور ہماری بقا کا موجب ہے۔ اگر تم ایک امر پر متفق ہوتے تو تمہارے دشمن تمہارا قصد کرتے اور تمہاری اور ہماری بقا کو مختل کر دیتے۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ اگر شیعوں کو نیزوں اور آگ پر چلنے کا حکم دیں تو وہ آپ کے اُسی فرمان پر عمل کریں گے، تو پھر کیوں جب وہ آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو آپس میں اختلاف رکھتے ہیں؟