Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 232

الناس و يحتمل العكس أيضا أي بسبب مفتريات هؤلاء المنافقين صاروا والين على الناس و صنعوا ما شاءوا و ابتدعوا ما أرادوا و لكنه بعيد قوله عليه السلام ناسخ و منسوخ قال الشيخ البهائي رحمه اللّٰه خبر ثان لإن أو خبر مبتدأ محذوف أي بعضه ناسخ و بعضه منسوخ أو بدل من مثل و جره على البدلية من القرآن ممكن فإن قيام البدل مقام المبدل منه غير لازم عند كثير من المحققين قوله عليه السلام و قد كان يكون اسم كان ضمير الشأن و يكون تامة و هي مع اسمها الخبر و له وجهان نعت للكلام لأنه في حكم النكرة أو حال منه و إن جعلت يكون ناقصة فهو خبرها قوله عليه السلام و قال اللّٰه لعل المراد أنهم لما سمعوا هذه الآية علموا وجوب اتباعه صلى اللّٰه عليه و آله و لما اشتبه عليهم مراده عملوا بما فهموا منه و أخطئوا فيه فهذا بيان لسبب خطاء الطائفة الثانية و الثالثة و يحتمل أن يكون ذكر الآية لبيان أن هذه الفرقة الرابعة المحقة إنما تتبعوا جميع ما صدر عنه صلى اللّٰه عليه و آله من الناسخ و المنسوخ و العام و الخاص لأن اللّٰه تعالى أمرهم باتباعه في كل ما يصدر عنه قوله عليه السلام فيشتبه متفرع على ما قبل الآية أي كان يشتبه كلام الرسول صلى اللّٰه عليه و آله علی من لا يعرف و يحتمل أن يكون المراد أن اللّٰه تعالى إنما أمرهم بمتابعة الرسول صلى اللّٰه عليه و آله فيما يأمرهم به من اتباع أهل بيته و الرجوع إليهم فإنهم كانوا يعرفون كلامه و يعلمون مرامه فاشتبه ذلك على من لم يعرف مراد اللّٰه تعالى و ظنوا أنه يجوز لهم العمل بما سمعوا منه بعده صلى اللّٰه عليه و آله من غير رجوع إلى أهل بيته قوله عليه السلام ما عنى اللّٰه به الموصول مفعول لم يدر و يحتمل أن يكون فاعل يشتبه قوله عليه السلام و لا يستفهمه أي إعظاما له قوله عليه السلام و الطاري أي الغريب الذي أتاه عن قريب من غير أنس به و بكلامه و إنما كانوا يحبون قدومهما إما لاستفهامهم و عدم استعظامهم إياه أو لأنه صلى اللّٰه عليه و آله كان يتكلم على وفق عقولهم فيوضحه حتى يفهم غيرهم قوله عليه السلام فيخليني فيها من الخلوة يقال استخلى الملك فأخلاه أي سأله أن يجتمع به في خلوة ففعل أو من التخلية أي يتركني أدور معه قوله عليه السلام أدور معه حيثما دار أي لا أمنع عن شي ء من خلواته أدخل معه أي مدخل يدخل فيه و أسير معه أينما سار أو المراد أني كنت محرما لجميع أسراره قابلا لعلومه أخوض معه في كل ما يخوض فيه من

اور اِس کا الٹ بھی احتمال رکھتا ہے، یعنی منافقین کا یہ گروہ اپنے جھوٹوں کے ذریعے لوگوں پر حاکم بن گیا، جو چاہا کیا اور جو بدعت اُن کا دل چاہا انجام دی؛ مگر یہ معنی ذہن سے دور ہے۔ «ناسخ و منسوخ»: شیخ بہائی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ جملہ «انّ» کی دوسری خبر ہے، یا محذوف مبتدا کی خبر ہے جو اصل میں «بعضہ ناسخ و بعضہ منسوخ» تھا؛ یا کلمۂ «مثل» سے بدل ہے۔ اور ناسخ و منسوخ کا مجرور ہونا ممکن ہے کلمۂ قرآن سے بدلیت کی وجہ سے ہو، کیونکہ بدل کا مبدل منہ کی جگہ قائم ہونا اکثر محققین کے نزدیک لازم نہیں۔ «و قد کان یکون»: کان کا اسم ضمیرِ شان ہے اور کانِ تامّہ اپنے اسم کے ساتھ کان کی خبر ہے۔ «ولہ وجہان» کلام کی صفت ہے، کیونکہ وہ نکرہ کے حکم میں ہے، اور احتمال ہے کہ کلام سے حال ہو؛ اور اگر «یکون» کو ناقصہ قرار دو تو «لہ وجہان» یکون کی خبر بنتی ہے۔ «و قال اللہ»: شاید مراد یہ ہو کہ منافقین نے جب یہ آیت سنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی پیروی کا وجوب جان لیا؛ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا مراد اُن پر مشتبہ ہوا تو جو سمجھے تھے اُس پر عمل کیا اور اپنی سمجھ میں خطا کی۔ اور یہ دوسرے اور تیسرے طائفے کے خطا پر جانے کے سبب کا بیان ہے۔ اور احتمال ہے کہ یہاں آیتِ قرآن کا ذکر اِس مطلب کے بیان کی خاطر ہو کہ اِس چوتھے گروہ نے اُس سب پر عمل اور پیروی کی جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہنچا تھا، ناسخ و منسوخ اور عام و خاص کی قبیل سے، کیونکہ خداوندِ متعال نے حکم دیا تھا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے صادر ہو اُس سب میں اطاعت کرو۔ «فیشتبہ»: یہ مطلب پچھلی آیت کے فروعات میں سے ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا کلام اُس پر مشتبہ ہوا جو شناخت نہ رکھتا تھا؛ اور احتمال ہے کہ مقصود یہ ہو کہ خدائے تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے رسول کی پیروی کا حکم دیا اُن کے اُس امر میں جو اہلِ بیت کی متابعت اور اُن کی طرف رجوع کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا کلام پہچانتے تھے اور اُس کا مقصود جانتے تھے، اور یہ کام اُس پر مشتبہ ہوا جو خدا کا مقصود نہ پہچانتا تھا، اور اُنہوں نے گمان کیا کہ اُن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے اپنی سنی ہوئی باتوں پر آپ کے اہلِ بیت کی طرف رجوع کیے بغیر عمل کرنا بھی جائز ہے۔ «ما عنی اللہ بہ»: «ما» موصولہ «لم یدر» کا مفعول ہے اور احتمال ہے کہ «یشتبہ» کا فاعل ہو۔ «ولایستفہمہ»: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی عظمت کی وجہ سے آپ سے استفہام [پوچھ گچھ] نہ کرتے تھے۔ «طاری» یعنی غریب اور وطن سے دور وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آتا اور آپ اور آپ کے کلام سے مانوس نہ تھا۔ لوگ پسند کرتے کہ کوئی اعرابی اور تازہ وارد شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آئے، یا اُن کے سوالات کی وجہ سے اور اُن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو بڑا نہ سمجھنے کی وجہ سے، یا اِس وجہ سے کہ آپ اُن کی عقلوں کے اندازے پر بات کرتے اور وضاحت فرماتے تاکہ دوسرے بھی سمجھ لیں۔ «فیخلین فیہا»: یہ کلمہ مادۂ خلوت سے ہے؛ کہا جاتا ہے «استغنی الملک فأخلاہ» یعنی بادشاہ سے خلوت کی درخواست کی کہ اُس کے ساتھ ایک تنہا جگہ میں خلوت کرے اور اُس نے بھی قبول کیا۔ یا یہ لفظ مادۂ تخلیہ سے ہے، یعنی مجھے آپ کے ساتھ چھوڑ دیتے کہ ہمیشہ آپ کے ہمراہ رہوں۔ «ادور معہ حیثما دار» یعنی مجھے آپ کی کسی خلوت سے منع نہ کیا جاتا تھا؛ جہاں آپ داخل ہوتے میں بھی داخل ہوتا، جہاں آپ گردش کرتے میں بھی گردش کرتا۔ یا مقصود یہ ہے کہ میں آپ کے اسرار کا محرم تھا اور آپ کے علوم کی شائستگی رکھتا تھا۔ جہاں بھی آپ