وَ رَسُولُهُ وَ لَيْسَ كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَسْأَلُهُ عَنِ الشَّيْ ءِ فَيَفْهَمُ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ يَسْأَلُهُ وَ لَا يَسْتَفْهِمُهُ حَتَّى إِنْ كَانُوا لَيُحِبُّونَ أَنْ يَجِي ءَ الْأَعْرَابِيُّ وَ الطَّارِي فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله حَتَّى يَسْمَعُوا وَ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله كُلَّ يَوْمٍ دَخْلَةً وَ كُلَّ لَيْلَةٍ دَخْلَةً فَيُخْلِينِي فِيهَا أَدُورُ مَعَهُ حَيْثُمَا دَارَ وَ قَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ لَمْ يَصْنَعْ ذَلِكَ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَ رُبَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي بَيْتِي ١ يَأْتِينِي رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَكْثَرَ ذَلِكَ فِي بَيْتِي وَ كُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ مَنَازِلِهِ أَخْلَانِي وَ أَقَامَ عَنِّي نِسَاءَهُ فَلَا يَبْقَى عِنْدَهُ غَيْرِي وَ إِذَا أَتَانِي لِلْخَلْوَةِ مَعِي فِي بَيْتِي لَمْ تَقُمْ عَنْهُ فَاطِمَةُ وَ لَا أَحَدٌ مِنْ بَنِیَّ وَ كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُهُ أَجَابَنِي وَ إِذَا سَكَتُّ عَنْهُ وَ فَنِيَتْ مَسَائِلِي ابْتَدَأَنِي فَمَا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله آيَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا أَقْرَأَنِيهَا وَ أَمْلَاهَا عَلَیَّ فَكَتَبْتُهَا بِخَطِّي وَ عَلَّمَنِي تَأْوِيلَهَا وَ تَفْسِيرَهَا وَ نَاسِخَهَا وَ مَنْسُوخَهَا وَ مُحْكَمَهَا وَ مُتَشَابِهَهَا وَ خَاصَّهَا وَ عَامَّهَا وَ دَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يُعْطِيَنِي فَهْمَهَا وَ حِفْظَهَا فَمَا نَسِيتُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَ لَا عِلْماً أَمْلَاهُ عَلَیَّ وَ كَتَبْتُهُ مُنْذُ دَعَا اللَّهَ لِي بِمَا دَعَاهُ وَ مَا تَرَكَ شَيْئاً عَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ حَلَالٍ وَ لَا حَرَامٍ أَمْرٍ وَ لَا نَهْیٍ كَانَ أَوْ يَكُونُ وَ لَا كِتَابٍ مُنْزَلٍ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَهُ فِي أَمْرٍ بِطَاعَةٍ أَوْ نَهْيٍ عَنْ مَعْصِيَةٍ إِلَّا عَلَّمَنِيهِ وَ حَفَّظَنِيهِ فَلَمْ أَنْسَ حَرْفاً وَاحِداً ثُمَّ وَضَعَ صلى اللّٰه عليه و آله يَدَهُ عَلَی صَدْرِي وَ دَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَمْلَأَ قَلْبِي عِلْماً وَ فَهْماً وَ حُكْماً وَ نُوراً فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي إِنِّي مُنْذُ دَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لِي بِمَا دَعَوْتَ لَمْ أَنْسَ شَيْئاً وَ لَمْ يَفُتْنِي شَيْ ءٌ لَمْ أَكْتُبْهُ أَ فَتَتَخَوَّفُ عَلَیَّ النِّسْيَانَ فِيمَا بَعْدُ فَقَالَ لَا لَسْتُ أَخَافُ عَلَيْكَ النِّسْيَانَ وَ لَا الْجَهْلَ.
{اور جو کچھ رسول [خدا] تمہیں دے، اُسے لے لو، اور جس سے تمہیں روکے، اُس سے رک جاؤ۔} جو یہ نہ سمجھے کہ خدا اور رسول کا مقصد کیا ہے، وہ غلطی میں پڑ جاتا ہے۔ ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اصحاب میں سے ہر ایک جو آپ سے کچھ پوچھے، اُس کا جواب درست سمجھ لے۔ بعض آپ سے کچھ پوچھتے اور آپ کا مقصود سمجھنے کے مقام پر نہ پہنچتے اور آپ کا کلام نہ سمجھتے۔ پیغمبر سے استفادے کی راہ اُن پر دشوار تھی، یہاں تک کہ اُن کا دل چاہتا کہ کوئی بیابانی، کوئی تازہ وارد آئے اور آپ سے سوال کرے تاکہ آپ جواب دیں اور وہ سن لیں۔ میرے لیے ہر دن ایک نوبت تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں پہنچتا اور ہر رات ایک نوبت تھی۔ آپ مجھے اِن دو نوبتوں میں آزاد چھوڑتے کہ جس طرح بھی ہو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے تمام اصحاب جانتے تھے کہ لوگوں میں سے کسی کے ساتھ آپ کی وہ ہم آہنگی نہ تھی جو میرے ساتھ تھی۔ میری یہ نوبت کبھی میرے اپنے گھر میں ہوتی، اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ میرے گھر تشریف لاتے، اور جب میں آپ کے کسی گھر میں جاتا تو آپ مجھ سے خلوت کرتے اور اپنی ازواج کو میرے پاس سے باہر بھیج دیتے اور میرے سوا کوئی آپ کے پاس نہ رہتا۔ اور جب خلوت کے لیے میرے گھر آتے تو فاطمہ زہرا اور میرے بچوں میں سے کسی کو باہر نہ کرتے۔ جب میں آپ سے پوچھتا، جواب دیتے، اور جب میں خاموش بیٹھ جاتا اور میرے سوالات ختم ہو جاتے تو آپ خود گفتگو کا آغاز فرماتے۔ قرآن کی کوئی آیت آپ پر نازل نہ ہوئی مگر یہ کہ آپ نے وہ میرے لیے پڑھی اور اُسے ٹھہر ٹھہر کر مجھے بتایا یہاں تک کہ میں نے اپنے خط سے لکھ لی، اور اُس کی تاویل و تفسیر مجھے سکھائی اور خدا سے چاہا کہ اُس کا فہم اور حفظ مجھے عطا کرے۔ جس وقت سے آپ نے میرے بارے میں دعا کی، میں نے کتابِ خدا کی کوئی آیت نہ بھلائی اور کوئی علم جو آپ نے مجھ پر پڑھا اور میں نے لکھا، نہ بھلایا۔ آپ نے مجھے سکھانے میں کوتاہی نہ کی۔ جو کچھ خدا نے آپ کو حلال و حرام اور امر و نہی میں سے، جو ہوا ہے یا ہو گا، سکھایا تھا، آپ نے مجھے سکھایا۔ ہر کتاب جو آپ سے پہلے کسی پیغمبر پر نازل ہوئی تھی، اُس حکم کے بارے میں جس کی اطاعت کرنی چاہیے یا کسی گناہ سے نہی، مجھے سکھائی اور میں نے خاطر میں رکھی۔ اُس کا ایک حرف نہ بھلایا۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور خدا سے چاہا کہ میرے قلب کو علم و فہم و حکم و نور سے لبریز کر دے۔ میں نے آپ سے عرض کیا: اے پیغمبرِ خدا! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا اِس کے بعد آپ کو مجھ پر فراموشی کا خوف ہے؟ فرمایا: نہیں، مجھے تمہارے بارے میں فراموشی اور نادانی کی کوئی فکر نہیں۔
نهج، نهج البلاغة ف، تحف العقول مرسلا مثله- نی، الغيبة للنعماني ابن عقدة و محمد بن همام و عبد العزيز و عبد الواحد ابنا عبد اللّٰه بن يونس عن رجالهم عن عبد الرزاق و همام عن معمر بن راشد عن أبان بن أبي عياش عن سليم مثله:
نہج البلاغہ، تحف العقول: اِسی کی مانند روایت ہوا ہے۔ غیبتِ نعمانی: ابان بن ابی عیاش نے سلیم سے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔
ج، الإحتجاج عَنْ مَسْعَدَةَ بْنِ صَدَقَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليهما السلام قَالَ: خَطَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام وَ سَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْ سَلْمَانَ وَ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِ
الاحتجاج: مسعدہ بن صدقہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے خطبہ دیا، اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کی یہاں تک کہ فرمایا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے تمام اصحاب