Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 229

وَ يُفَسِّرُونَ الْقُرْآنَ بِآرَائِهِمْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ عليه السلام عَلَيَّ فَقَالَ قَدْ سَأَلْتَ فَافْهَمِ الْجَوَابَ إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقّاً وَ بَاطِلًا وَ صِدْقاً وَ كَذِباً وَ نَاسِخاً وَ مَنْسُوخاً وَ عَامّاً وَ خَاصّاً وَ مُحْكَماً وَ مُتَشَابِهاً وَ حِفْظاً وَ وَهَماً وَ قَدْ كُذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله عَلَى عَهْدِهِ حَتَّى قَامَ خَطِيباً فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ الْكَذَّابَةُ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ثُمَّ كُذِبَ عَلَيْهِ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّمَا أَتَاكُمُ الْحَدِيثُ مِنْ أَرْبَعَةٍ لَيْسَ لَهُمْ خَامِسٌ رَجُلٌ مُنَافِقٌ يُظْهِرُ الْإِيمَانَ مُتَصَنِّعٍ بِالْإِسْلَامِ لَا يَتَأَثَّمُ وَ لَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مُتَعَمِّداً فَلَوْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّهُ مُنَافِقٌ كَذَّابٌ لَمْ يَقْبَلُوا مِنْهُ وَ لَمْ يُصَدِّقُوهُ وَ لَكِنَّهُمْ قَالُوا هَذَا قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ رَآهُ وَ سَمِعَ مِنْهُ فَأَخَذُوا مِنْهُ وَ هُمْ لَا يَعْرِفُونَ حَالَهُ وَ قَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَنِ الْمُنَافِقِينَ بِمَا أَخْبَرَهُ وَ وَصَفَهُمْ بِمَا وَصَفَهُمْ فَقَالَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ إِذا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسامُهُمْ وَ إِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ثُمَّ بَقُوا بَعْدَهُ فَتَقَرَّبُوا إِلَى أَئِمَّةِ الضَّلَالِ وَ الدُّعَاةِ إِلَى النَّارِ بِالزُّورِ وَ الْكَذِبِ وَ الْبُهْتَانِ فَوَلَّوْهُمُ الْأَعْمَالَ وَ حَمَلُوهُمْ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ وَ أَكَلُوا مِنْهُمُ الدُّنْيَا ١وَ إِنَّمَا النَّاسُ مَعَ الْمُلُوكِ وَ الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ فَهَذَا أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ وَ رَجُلٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْهُ عَلَى وَجْهِهِ وَ وَهِمَ فِيهِ وَ لَمْ يَتَعَمَّدْ كَذِباً فَهُوَ فِي يَدِهِ يَقُولُ بِهِ وَ يَعْمَلُ بِهِ وَ يَرْوِيهِ وَ يَقُولُ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَلَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ أَنَّهُ وَهِمَ لَمْ يَقْبَلُوهُ وَ لَوْ عَلِمَ هُوَ أَنَّهُ وَهِمَ لَرَفَضَهُ وَ رَجُلٌ ثَالِثٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله شَيْئاً أَمَرَ بِهِ ثُمَّ نَهَى عَنْهُ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ أَوْ سَمِعَهُ يَنْهَى عَنْ شَيْ ءٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ فَحَفِظَ مَنْسُوخَهُ وَ لَمْ يَحْفَظِ النَّاسِخَ فَلَوْ عَلِمَ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ لَرَفَضَهُ وَ لَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ لَرَفَضُوهُ وَ آخَرُ رَابِعٌ لَمْ يَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مُبْغِضٌ لِلْكَذِبِ خَوْفاً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ تَعْظِيماً لِرَسُولِ اللَّهِ لَمْ يَسْهُ٢ بَلْ حَفِظَ مَا سَمِعَ عَلَى وَجْهِهِ فَجَاءَ بِهِ كَمَا سَمِعَ لَمْ يَزِدْ فِيهِ وَ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ وَ عَلِمَ النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ فَعَمِلَ بِالنَّاسِخِ وَ رَفَضَ الْمَنْسُوخَ وَ إِنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله مِثْلُ الْقُرْآنِ نَاسِخٌ وَ مَنْسُوخٌ وَ خَاصٌّ وَ عَامٌّ وَ مُحْكَمٌ وَ مُتَشَابِهٌ وَ قَدْ كَانَ يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله الْكَلَامُ لَهُ وَجْهَانِ وَ كَلَامٌ عَامٌّ وَ كَلَامٌ خَاصٌّ مِثْلُ الْقُرْآنِ وَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي كِتَابِهِ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا فَيَشْتَبِهُ عَلَى مَنْ لَمْ يَعْرِفْ وَ لَمْ يَدْرِ مَا عَنَى اللَّهُ بِهِ

بے شک پیغمبر کی حدیث تم تک چار آدمیوں سے پہنچتی ہے جن کا کوئی پانچواں نہیں۔ اول، اُس منافق آدمی سے جو ایمان کا اظہار کرتا ہے اور اسلام کی ظاہرداری کرتا ہے مگر باطن میں بے دین ہے؛ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پر جھوٹ باندھنے میں کوئی پروا نہیں۔ اگر لوگ جان لیں کہ وہ منافق اور جھوٹا ہے تو اُس سے قبول نہ کریں اور اُس کی بات کا یقین نہ کریں، مگر وہ کہتے ہیں: یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ رہا اور آپ کو دیکھا اور یہ حدیث آپ سے سنی؛ تو وہ اُس کی حدیث لے لیتے ہیں اور اُس کا حال نہیں جانتے۔ خدا نے اپنے رسول کو منافقین کی خبر دی اور اُنہیں جیسا چاہیے تھا ویسا وصف کیا اور فرمایا: «وَ إِذا رَأَیْتَهُمْ تُعْجِبُک أَجْسامُهُمْ وَ إِنْ یَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ» {اور جب تم اُنہیں دیکھو تو اُن کے جسم تمہیں تعجب میں ڈالتے ہیں، اور جب وہ بات کریں تو تم اُن کی بات کان لگا کر سنتے ہو۔} یہی منافقین پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے درمیان رہے اور خود کو گمراہی کے پیشواؤں اور دوزخ کی طرف بلانے والوں سے قریب کیا اور اُن کے فائدے میں بیہودہ باتیں، جھوٹ اور بہتان گھڑے یہاں تک کہ اُنہیں بڑے کاموں پر بٹھا دیا اور لوگوں کی گردنوں پر سوار کر دیا اور اُن کی مدد سے دنیا کھائی۔ بے شک لوگ دنیا طلب بادشاہوں کے پیرو ہیں، مگر وہ جسے خدا محفوظ رکھے۔ یہ اُن چار میں سے ایک ہے۔ دوم، وہ آدمی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے کچھ سنا مگر اُسے درست یاد نہ رکھا؛ جھوٹ کا ارادہ نہیں رکھتا مگر غلط سمجھا ہے۔ یہ غلط کلام اُس کے ہاتھ میں ہے، اُسی سے رائے دیتا ہے اور عمل کرتا ہے اور اُسے روایت کرتا ہے اور کہتا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا ہے۔ اگر مسلمان جان لیں کہ اُس نے غلط سمجھا ہے تو اُسے قبول نہ کریں، اور اگر خود وہ بھی جان لے کہ غلط ہے تو اُسے چھوڑ دے۔ سوم، وہ جس نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے کوئی حکم دیا اور یہ نہ جانا کہ آپ نے بعد میں اُس سے منع کیا، یا سنا کہ آپ نے کسی چیز سے منع کیا اور یہ نہ جانا کہ بعد میں اُس کا حکم دیا؛ منسوخ حکم اُسے یاد ہے اور اُس کا ناسخ یاد نہیں۔ اگر خود جانتا تو منسوخ شدہ کو چھوڑ دیتا؛ اگر مسلمان بھی جانتے کہ منسوخ ہو چکا ہے تو اُسے چھوڑ دیتے۔ چہارم، وہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پر جھوٹ نہ باندھا اور خوفِ خدا اور پیغمبر کے احترام کی وجہ سے جھوٹ کا دشمن ہے؛ بھولتا نہیں، جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا اُسے درست یاد رکھا اور جیسا سنا ویسا ہی بغیر کمی و بیشی کے کہتا ہے۔ ناسخ کو منسوخ سے پہچانا، ناسخ پر عمل کرتا ہے اور منسوخ کو چھوڑ دیتا ہے۔ پیغمبر کے احکام بھی آیاتِ قرآن کی طرح ناسخ و منسوخ رکھتے ہیں، خاص و عام رکھتے ہیں، محکم و متشابہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی عادت تھی کہ دو پہلو رکھنے والی باتیں فرماتے اور آپ کا کلام قرآن کی طرح عام و خاص رکھتا تھا۔ خدائے عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا»،

(١)1- و في نسخة: و اكلوا بهم الدنيا.اور ایک نسخے میں: «و اکلوا بہم الدنیا»۔
(٢)2- في الخصال: لم ينسه.«الخصال» میں: «لم ینسہ»۔