نَذْكُرُهُ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الْجَبْرِ وَ التَّفْوِيضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
خبر طویل ہے، ان شاء اللہ باب جبر و تفویض میں اُس کی پوری [روایت] لائیں گے۔
«4»- لي، الأمالي للصدوق أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ عَلِيٌّ عليه السلام إِنَّ عَلَى كُلِّ حَقٍّ حَقِيقَةً وَ عَلَی كُلِّ صَوَابٍ نُوراً فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَخُذُوهُ وَ مَا خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَدَعُوهُ.
امالیِ صدوق: سکونی نے امام صادق علیہ السلام سے، اُن کے آباء سے، حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر حق کی ایک حقیقت ہے اور ہر درستی کا ایک نور ہے۔ جو کچھ قرآن کے موافق ہے اُسے لے لو اور جو اُس کے مخالف ہے اُسے چھوڑ دو۔
بيان: الحقيقة ماهية الشي ء التي بها يتحصل ذلك الشي ء و المراد بالحقيقة هنا ما به يتحقق ذلك الشي ء من العلة الواقعية كحكمه تعالى و أمره في الأحكام الشرعية و كالتحقق في نفس الأمر في الأحكام الخبرية أطلقت عليه مجازا و النور الدليل و البرهان الذي به يظهر حقيقة الأشياء و الغرض أن اللّٰه تعالى جعل لكل شي ء دليلا و برهانا في كتابه و سنة نبيه صلى اللّٰه عليه و آله فيجب عرض الأخبار على كتاب اللّٰه.
حقیقت اُس چیز کی ماہیت ہے جس پر اُس شے کا شے ہونا اور اُس کا قوام موقوف ہے، اور یہاں حقیقت سے مراد شے کے وجود میں آنے کی واقعی علت ہے، جیسے احکامِ شرعی میں خدا کا حکم اور امر، اور جیسے احکامِ خبریہ میں نفس الامر کا تحقق، جس پر اُس کا استعمال مجازی ہے۔ نور وہ دلیل و برہان ہے جس کے ذریعے اشیاء کی حقیقت آشکار ہوتی ہے، اور مقصود یہ ہے کہ خداوند متعال نے ہر چیز کے لیے کتاب اور سنتِ پیغمبر میں دلیل و برہان رکھی ہے، لہٰذا واجب ہے کہ روایات کو کتابِ خدا پر پیش کیا جائے۔
«5»- ب، قرب الإسناد ابْنُ ظَرِيفٍ عَنِ ابْنِ عُلْوَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ لِعَلِيٍّ عليه السلام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ إِنَّهُ سَيُكْذَبُ عَلَيَّ كَمَا كُذِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلِي فَمَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ حَدِيثٍ وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ حَدِيثِي وَ أَمَّا مَا خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَيْسَ مِنْ حَدِيثِي.
قرب الإسناد: ابن علوان امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے ایک کتاب میں جو حضرت علی علیہ السلام کی تحریر تھی، پڑھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: عنقریب مجھ پر جھوٹ بولا جائے گا، جیسا کہ مجھ سے پہلے انبیاء پر جھوٹ بولا گیا۔ پس جو حدیث تم تک مجھ سے پہنچے اور وہ کتابِ خدا کے موافق ہو تو وہ میری حدیث ہے، اور جو حدیث کتاب اللہ کے مخالف ہو وہ میری حدیث نہیں۔
«6»- كا، الكافي عَلِيٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى وَ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ جَمِيعاً عَنْ سَمَاعَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ اخْتَلَفَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ دِينِهِ فِي أَمْرٍ كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِأَخْذِهِ وَ الْآخَرُ يَنْهَاهُ عَنْهُ كَيْفَ يَصْنَعُ قَالَ يُرْجِئُهُ حَتَّى يَلْقَى مَنْ يُخْبِرُهُ فَهُوَ فِي سَعَةٍ حَتَّى يَلْقَاهُ.
کافی: سماعہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ایک آدمی ہے اور اُس کے دو ہم مذہب ایک دینی مسئلے میں مختلف حکم دیتے ہیں اور ہر ایک کے پاس اپنی بات کے لیے ایک روایت بھی ہے؛ ایک اُسے کسی کام کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اُسی کام سے منع کرتا ہے، یہ آدمی کیا کرے؟ فرمایا: حقیقت کے سمجھنے کو مؤخر کرے یہاں تک کہ کسی امام تک پہنچے جو اُسے اصل مطلب کی خبر دے؛ جب تک امام سے ملاقات نہ کرے، اپنے کام میں مختار ہے۔
وَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى بِأَيِّهِمَا أَخَذْتَ مِنْ بَابِ التَّسْلِيمِ وَسِعَكَ.
ایک دوسری روایت میں ہے کہ دونوں روایتوں میں سے جس پر بھی تسلیمِ حکم کے حساب سے عمل کرو، تمہارے لیے جائز ہے۔
«7»- كا، الكافي عَلِيٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمُخْتَارِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَ رَأَيْتَكَ لَوْ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ الْعَامَ ثُمَّ جِئْتَنِي مِنْ قَابِلٍ فَحَدَّثْتُكَ بِخِلَافِهِ فَبِأَيِّهِمَا كُنْتَ تَأْخُذُ قَالَ كُنْتُ آخُذُ بِالْأَخِيرِ فَقَالَ لِي رَحِمَكَ اللَّهُ.
کافی: حسین بن مختار نے کسی سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: مجھے بتاؤ، اگر میں اِس سال تمہیں ایک حدیث بیان کروں اور اگلے سال جب تم میرے پاس آؤ تو اُس کے خلاف تمہیں بتاؤں، تو تم دونوں حدیثوں میں سے کس پر عمل کرو گے؟ میں نے عرض کیا: دوسری پر۔ فرمایا: خدا تم پر رحم کرے۔
«8»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَرَّارٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ فَرْقَدٍ عَنِ ابْنِ خُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِذَا جَاءَ حَدِيثٌ عَنْ أَوَّلِكُمْ وَ حَدِيثٌ عَنْ آخِرِكُمْ
کافی: ابن خنیس کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اگر کوئی حدیث سابق امام سے پہنچے اور اُس کے خلاف ایک حدیث بعد والے امام سے،