Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 226

الْأَهْوَاءِ الْمُرْدِيَةِ الْمُهْلِكَةِ الَّتِي تُخَالِفُ نَصَّ الْكِتَابِ وَ تَحْقِيقَ الْآيَاتِ الْوَاضِحَاتِ النَّيِّرَاتِ وَ نَحْنُ نَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُوَفِّقَنَا لِلثَّوَابِ وَ يَهْدِيَنَا إِلَى الرَّشَادِ ثُمَّ قَالَ عليه السلام فَإِذَا شَهِدَ الْكِتَابُ بِتَصْدِيقِ خَبَرٍ وَ تَحْقِيقِهِ فَأَنْكَرَتْهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْأُمَّةِ وَ عَارَضَتْهُ بِحَدِيثٍ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الْمُزَوَّرَةِ صَارَتْ بِإِنْكَارِهَا وَ دَفْعِهَا الْكِتَابَ كُفَّاراً ضُلَّالًا وَ أَصَحُّ خَبَرٍ مَا عُرِفَ تَحْقِيقُهُ مِنَ الْكِتَابِ مِثْلُ الْخَبَرِ الْمُجْمَعِ عَلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله حَيْثُ قَالَ إِنِّي مُسْتَخْلِفٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ وَ اللَّفْظَةُ الْأُخْرَى عَنْهُ فِي هَذَا الْمَعْنَى بِعَيْنِهِ قَوْلُهُ صلى اللّٰه عليه و آله إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَمْ تَضِلُّوا ١ فَلَمَّا وَجَدْنَا شَوَاهِدَ هَذَا الْحَدِيثِ نَصّاً فِي كِتَابِ اللَّهِ مِثْلَ قَوْلِهِ إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ ثُمَّ اتَّفَقَتْ رِوَايَاتُ الْعُلَمَاءِ فِي ذَلِكَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِخَاتَمِهِ وَ هُوَ رَاكِعٌ فَشَكَرَ اللَّهُ ذَلِكَ لَهُ وَ أَنْزَلَ الْآيَةَ فِيهِ ثُمَّ وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَدْ أَبَانَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ قَوْلِهِ صلى اللّٰه عليه و آله عَلِیٌّ يَقْضِي دَيْنِي وَ يُنْجِزُ مَوْعِدِي وَ هُوَ خَلِيفَتِي عَلَيْكُمْ بَعْدِي وَ قَوْلِهِ صلى اللّٰه عليه و آله حَيْثُ اسْتَخْلَفَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَ تُخْلِفُنِي عَلَی النِّسَاءِ وَ الصِّبْيَانِ ٢ فَقَالَ أَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي فَعَلِمْنَا أَنَّ الْكِتَابَ شَهِدَ بِتَصْدِيقِ هَذِهِ الْأَخْبَارِ وَ تَحْقِيقِ هَذِهِ الشَّوَاهِدِ فَيَلْزَمُ الْأُمَّةَ الْإِقْرَارُ بِهَا إِذْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَخْبَارُ وَافَقَتِ الْقُرْآنَ وَ وَافَقَ الْقُرْآنُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ فَلَمَّا وَجَدْنَا ذَلِكَ مُوَافِقاً لِكِتَابِ اللَّهِ وَ وَجَدْنَا كِتَابَ اللَّهِ مُوَافِقاً لِهَذِهِ الْأَخْبَارِ وَ عَلَيْهَا دَلِيلًا كَانَ الِاقْتِدَاءُ بِهَذِهِ الْأَخْبَارِ فَرْضاً لَا يَتَعَدَّاهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِنَادِ وَ الْفَسَادِ ثُمَّ قَالَ عليه السلام وَ مُرَادُنَا وَ قَصْدُنَا الْكَلَامُ فِي الْجَبْرِ وَ التَّفْوِيضِ وَ شَرْحِهِمَا وَ بَيَانِهِمَا وَ إِنَّمَا قَدَّمْنَا مَا قَدَّمْنَا لِكَوْنِ اتِّفَاقِ الْكِتَابِ وَ الْخَبَرِ إِذَا اتَّفَقَا دَلِيلًا لِمَا أَرَدْنَاهُ وَ قُوَّةً لِمَا نَحْنُ مُبَيِّنُوهُ مِنْ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْخَبَرُ طَوِيلٌ

اور قرآن کی نصِ صریح اور اُس کی واضح و روشن آیات کی مخالفت کی راہ میں اپنی ہلاک کرنے والی خواہشِ نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ہم خدا سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں راہِ صواب کی توفیق دے اور رشاد کی طرف ہدایت کرے۔ پھر فرمایا: جب قرآن کی کوئی آیت کسی خبر کی تصدیق اور تحقیق کرے، پھر مسلمانوں کا کوئی فرقہ اُس کا منکر ہو جائے اور وہ جھوٹی احادیث میں سے کسی حدیث سے ٹکرائے، تو وہ سب اِس انکار اور قرآن کو رد کرنے سے کافر اور گمراہ ہو جائیں۔ اور سب سے صحیح خبر جس کی تحقیق قرآن سے حاصل ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی اجماعی حدیث ہے، جہاں آپ نے فرمایا: «میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتابِ خدا اور اپنی عترت؛ اگر تم اُن دونوں کو تھامے رہو تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اور وہ دونوں اُس دن تک جدا نہ ہوں گے جب تک حوض پر میرے پاس نہ آ جائیں۔» اور یہی حدیث ایک دوسرے لفظ کے ساتھ بھی آپ سے اِسی معنی میں نقل ہوئی ہے کہ: «میں تمہارے لیے دو گراں بہا چیزیں چھوڑ رہا ہوں: کتابِ خدا اور اپنی عترت، اپنے اہلِ بیت؛ اور وہ دونوں اُس وقت تک جدا نہ ہوں گے جب تک حوض پر میرے پاس وارد نہ ہوں؛ اگر تم اُن دونوں کو تھام لو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔» پس جب ہم نے اِس حدیث کے شواہد نصِ قرآن میں پائے، جیسے یہ آیت: «إِنَّما وَلِیُّکُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راکِعُونَ» {تمہارا ولی صرف اللہ اور اُس کا رسول ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے: وہی جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکات دیتے ہیں۔} پھر اِس آیت میں علماء کی تمام روایات متفق ہیں کہ مذکورہ فرد (وہ مؤمن جس نے رکوع کی حالت میں زکات دی) امیر المؤمنین علیہ السلام ہیں، اور اُنہوں نے نقل کیا ہے کہ آپ نے اپنی انگوٹھی رکوع کی حالت میں صدقہ دی، اور اللہ نے آپ کی قدردانی میں یہ آیت نازل فرمائی۔ پھر اِسی مطلب کی تائید میں ہم اِس حدیثِ نبوی تک پہنچتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: «جس کا میں مولا ہوں، علی اُس کے مولا ہیں؛ خدایا! جو اُن سے دوستی کرے اُس سے دوستی کر اور جو اُن سے دشمنی کرے اُس سے دشمنی کر۔» اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا یہ فرمان: «علی میرا قرض ادا کریں گے اور میرا وعدہ پورا کریں گے، اور میرے بعد وہی تم پر خلیفہ ہیں۔» اور آپ کا وہ قول جب آپ نے اُنہیں اہلِ مدینہ پر اپنا خلیفہ بنایا، اور اُن کے یہ کہنے کے جواب میں کہ اے رسولِ خدا! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں! فرمایا: «کیا تم اِس پر راضی نہیں کہ میرے نزدیک تمہاری منزلت ایسی ہو جیسے موسیٰ کے نزدیک ہارون کی منزلت، سوائے اِس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا؟» پس ہم نے بھی جانا کہ قرآن نے اِن اخبار کی تصدیق اور اِن شواہد کے روشن ہونے کی گواہی دی ہے، پس امت اُن کے اقرار کی پابند ہوئی، کیونکہ یہ اخبار قرآن کے موافق ہیں اور قرآن بھی اُن احادیث کے ساتھ ہم آہنگ اور موافق ہے۔ پس جب ہم نے قرآن اور اخبار میں سے ہر ایک کو دوسرے کا موافق، مؤید اور دلیل پایا، تو اِن احادیث کی اقتدا سب پر فرض اور واجب ہے اور اہلِ عناد و فساد کے سوا کوئی اُن پر تعدی اور بے احترامی نہیں کرتا۔ پھر حضرت ہادی علیہ السلام نے فرمایا: اور ہمارا اصل مراد اور قصد جبر و تفویض کے بارے میں گفتگو اور اُن دونوں کی شرح و بیان تھا، اور جو کچھ ہم نے مقدمے میں کہا اُس سے ہمارا مقصد صرف قرآن و حدیث کے اتفاق اور ہم راہی کا بیان تھا کہ جب وہ دونوں باہم متفق ہوں تو خدا کی مشیت سے ہمارے اصل مقصد میں ہماری دلیل و راہنما اور جو مطالب ہم کہتے ہیں اُن کے بیان میں ایک قوت ہوں گے۔

(١)1- و في نسخة: ما انكم ان كنتم تمسكتم و في أخرى: أما انكم ان تمسكتم.اور ایک نسخے میں: «ما انکم ان کنتم تمسکتم»، اور ایک دوسرے نسخے میں: «أما انکم ان تمسکتم»۔
(٢)2- و في نسخة: مع النساء و الصبياناور ایک نسخے میں: «مع النساء و الصبیان»۔