يتمكن من الوصول إليه و الأصحاب كلهم مجمعون على الخبرين و لم يكن هناك رجحان لرواة أحدهما على رواة الآخر بالكثرة و العدالة كان الحكم بهما من باب التخيير يدل على ما قلناه ما
اور اصحاب بھی دونوں خبروں پر اجماع رکھتے ہوں اور دونوں روایتوں میں سے کسی ایک کو کوئی ترجیح بھی نہ ہو، جیسے کثرتِ روایت اور عدالت؛ اِس صورت میں قانونِ تخییر ہے اور اُس کی دلیل یہ ہے
رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَهْمٍ عَنِ الرِّضَا عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِلرِّضَا عليه السلام تَجِيئُنَا الْأَحَادِيثُ عَنْكُمْ مُخْتَلِفَةً قَالَ مَا جَاءَكَ عَنَّا فَقِسْهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ أَحَادِيثِنَا فَإِنْ كَانَ يُشْبِهُهُمَا فَهُوَ مِنَّا وَ إِنْ لَمْ يُشْبِهْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا قُلْتُ يَجِيئُنَا الرَّجُلَانِ وَ كِلَاهُمَا ثِقَةٌ بِحَدِيثَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ فَلَا نَعْلَمُ أَيُّهُمَا الْحَقُّ فَقَالَ إِذَا لَمْ تَعْلَمْ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْكَ بِأَيِّهِمَا أَخَذْتَ.
کہ حسن بن جہم کہتے ہیں: میں نے امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا: آپ سے ہمیں ایسی احادیث پہنچتی ہیں جو اختلاف رکھتی ہیں۔ امام نے فرمایا: ہماری روایتیں کتابِ خدا اور ہماری دیگر روایتوں سے موازنہ کرو (اُن پر پیش کرو)؛ اگر وہ اُن دونوں کے مشابہ ہوں تو ہم سے ہیں ورنہ ہم سے نہیں۔ میں نے عرض کیا: دو ثقہ راوی دو متعارض حدیثیں روایت کرتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ اُن میں سے کون سی حق ہے! فرمایا: جب تم نہیں جانتے تو تم وسعت میں ہو، جس پر چاہو عمل کرو۔
وَ مَا رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ مِنْ أَصْحَابِكَ الْحَدِيثَ وَ كُلُّهُمْ ثِقَةٌ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْكَ حَتَّى تَرَى الْقَائِمَ عَجَّلَ اللَّهُ تَعَالَى فَرَجَهُ فَتَرُدَّهُ إِلَيْهِ.
حارث بن مغیرہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم اپنے اصحاب سے کوئی حدیث سنو اور وہ سب ثقہ ہوں تو تم وسعت میں ہو یہاں تک کہ حضرتِ قائم عجل اللہ فرجہ سے ملاقات کرو اور اُن پر پیش کرو۔
وَ رُوِيَ عَنْ سَمَاعَةَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قُلْتُ يَرِدُ عَلَيْنَا حَدِيثَانِ وَاحِدٌ يَأْمُرُنَا بِالْأَخْذِ بِهِ وَ الْآخَرُ يَنْهَانَا عَنْهُ قَالَ لَا تَعْمَلْ بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا حَتَّى تَلْقَى صَاحِبَكَ فَتَسْأَلَهُ قَالَ قُلْتُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ نَعْمَلَ بِأَحَدِهِمَا قَالَ خُذْ بِمَا فِيهِ خِلَافُ الْعَامَّةِ.
سماعۃ بن مہران کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم پر دو حدیثیں وارد ہوئی ہیں، ایک ہمیں حکم دیتی ہے اور دوسری منع کرتی ہے۔ فرمایا: کسی پر عمل نہ کرو یہاں تک کہ امام سے ملاقات کرو اور اُن سے پوچھو۔ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس اُن دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کے سوا چارہ نہیں۔ فرمایا: اُس روایت پر عمل کرو جو عامہ کے مخالف ہو۔
أمر عليه السلام بترك ما وافق العامة لأنه يحتمل أن يكون قد ورد مورد التقية و ما خالفهم لا يحتمل ذلك.
آپ نے حکم دیا کہ عامہ کے موافق روایت چھوڑ دی جائے، کیونکہ احتمال ہے کہ وہ موردِ تقیہ ہو، مگر جو روایت عامہ کے مخالف ہو، اُس میں تقیہ کا احتمال نہیں۔
وَ رُوِیَ أَيْضاً عَنْهُمْ عليهم السلام أَنَّهُمْ قَالُوا إِذَا اخْتَلَفَتْ أَحَادِيثُنَا عَلَيْكُمْ فَخُذُوا بِمَا اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ شِيعَتُنَا فَإِنَّهُ لَا رَيْبَ فِيهِ.
اور ائمہ علیہم السلام سے روایت ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: ہماری احادیث کے اختلاف کی صورت میں اُن روایات پر عمل کرو جن پر ہمارے شیعہ اجماع رکھتے ہیں، کیونکہ اُن میں کوئی شک نہیں۔
و أمثال هذه الأخبار كثيرة لا يحتمل ذكره هاهنا و ما أوردناه عارض ليس هذا موضعه إلى هنا كلام الطبرسي و الأخبار التي نقلها مع ما أورد بينها من كلامه.
اور اِس بارے میں روایات فراوان ہیں جن کے بیان کی یہ جگہ نہیں۔
أقول: ما ذكره في الجمع بين الخبرين من حمل الإرجاء على ما إذا تمكن من الوصول إلى إمامه و الرجوع إليه و التخيير على عدمه هو أظهر الوجوه و أوجهها و جمع بينهما بعض الأفاضل بحمل التخيير على ما ورد في العبادات و تخصيص الإرجاء بما إذا تعلق بالمعاملات و الأحكام و يمكن الجمع بحمل الإرجاء على عدم الحكم بأحدهما بخصوصه فلا ينافي جواز العمل بأيهما شاء أو بحمل الإرجاء على الاستحباب
مجلسی: جمع کی یہ روش جو طبرسی نے بیان کی اور کہا کہ روایت میں ارجاع سے مراد یہ ہے کہ امام تک رسائی ممکن ہو اور عدمِ رسائی کی صورت میں ہم مخیر ہوں، سب سے واضح روشِ جمع ہے۔ لیکن بعض فضلاء نے کہا ہے کہ تخییر عبادات کے بارے میں ہے اور ارجاع معاملات سے متعلق۔ مجلسی: روایت میں ارجاع کو اِس معنی میں لیا جا سکتا ہے کہ ہم دونوں روایتوں میں سے کسی ایک کے خصوص کے مطابق حکم نہ کریں، اور یہ اِس سے منافات نہیں رکھتا کہ جس پر چاہیں عمل کریں؛ یا ارجاع کو استحباب پر محمول کیا جائے۔