Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 223

في جميع تلك الخصال و يحتمل أن تكون كلمة الواو بمعنى أو فعلى الأول لا يظهر الحكم فيما إذا كان الفضل في بعضها و علی الثاني فيما إذا كان أحدهما فاضلا في إحداهما و الآخر في الأخرى و في سؤال السائل إشعار بفهم المعنى الثاني قوله عليه السلام المجمع عليه استدل به على حجية الإجماع و ظاهر السياق أن المراد الاتفاق في النقل لا الفتوى و يدل على أن شهرة الخبر بين الأصحاب و تكرره في الأصول من المرجحات و عليه كان عمل قدماء الأصحاب رضوان اللّٰه عليهم قوله عليه السلام و شبهات تتردد بين ذلك المراد الأمور التي اشتبه الحكم فيها و يحتمل شموله لما كان فيه احتمال الحرمة و إن كان حلالا بظاهر الشريعة.

اُن تمام خصوصیات میں۔ احتمال ہے کہ کلمۂ «واو» «أو» کے معنی میں ہو، کہ پہلی صورت میں وہ حکم واضح نہیں ہوتا جہاں فضیلت اُن میں سے بعض میں ہو؛ اور دوسری کی بنا پر وہ اُس صورت میں ہے جہاں ایک ایک جہت سے فضل رکھتا ہو اور دوسرا دوسری جہت سے ـ اور سائل کا سوال بھی دوسری صورت کی تائید کرتا ہے۔

قوله عليه السلام ارتكب المحرمات أي الحرام واقعا فيكون محمولا على الأولوية و الفضل و يحتمل أن يكون المراد الحكم في المشتبهات و يكون الهلاك من حيث الحكم بغير علم و يدل على رجحان الاحتياط بل وجوبه قوله عليه السلام قد رواهما الثقات عنكم استدل به على جواز العمل بالخبر الموثق و فيه نظر لانضمام قيد الشهرة و لعل تقريره عليه السلام لمجموع القيدين على أنه يمكن أن يقال الكافر لا يوثق بقوله شرعا لكفره و إن كان عادلا بمذهبه قوله عليه السلام و السنة أي السنة المتواترة قوله عليه السلام فأرجه بكسر الجيم و الهاء من أرجيت الأمر بالياء أو من أرجأت الأمر بالهمزة و كلاهما بمعنى أخرته فعلى الأول حذفت الياء في الأمر و علی الثاني أبدلت الهمزة ياء ثم حذفت الياء و الهاء ضمير راجع إلى الأخذ بأحد الخبرين أو بسكون الهاء لتشبيه المنفصل بالمتصل أو من أرجه الأمر أي أخره عن وقته كما ذكره الفيروزآبادي لكنه تفرد به و لم أجده في كلام غيره ثم قال الطبرسي رحمه اللّٰه جاء هذا الخبر على سبيل التقدير لأنه قل ما يتفق في الآثار أن يرد خبران مختلفان في حكم من الأحكام موافقين للكتاب و السنة و ذلك مثل الحكم في غسل الوجه و اليدين في الوضوء لأن الأخبار جاءت بغسلها مرة مرة و بغسلها مرتين مرتين و ظاهر القرآن لا يقتضي خلاف ذلك بل يحتمل كلتا الروايتين و مثل ذلك يوجد في أحكام الشرع و أما قوله عليه السلام للسائل أرجه و قف عنده حتى تلقى إمامك أمره بذلك عند تمكنه من الوصول إلى الإمام فأما إذا كان غائبا و لا

اجماع سے مراد نقل میں اتفاق ہے نہ کہ فتویٰ میں۔ دونوں روایتوں میں سے ایک کی اصحاب کے درمیان شہرت اور اُصول کی کتابوں میں اُس کا مکرر ہونا مرجحات میں سے ہے، قدمائے اصحاب کا طریقہ بھی یہی تھا۔ مشتبہات سے مراد وہ امور ہیں جن میں حکم مشتبہ ہے، اگرچہ احتمال ہے کہ لفظِ مشتبہات اُس مورد کو بھی شامل ہو جس میں حرمت کا احتمال ہو، اگرچہ ظاہرِ شریعت میں حلال ہو۔ «ارتکابِ محرمات» سے مراد درج ذیل موارد ہو سکتے ہیں: اُسے اولویت اور فضل پر محمول کیا جائے، یا یہ کہ مراد مشتبہات میں قضاوت کرنا ہو اور ہلاکت بھی بغیر علم کے حکم کے سبب ہو۔ روایت کا یہ حصہ احتیاط کے رجحان بلکہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ یوں استدلال کیا گیا ہے کہ خبرِ موثق پر عمل کرنا جائز ہے، مگر یہ استدلال اشکال رکھتا ہے کیونکہ شہرت کی قید بھی ساتھ لگی ہے؛ یعنی امام کا مقصود یہ ہے کہ وہ موثق بھی ہو اور مشہور بھی؛ اِس کے علاوہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شرعاً اُس کی بات پر اطمینان نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ کافر ہے، اگرچہ اپنے مذہب میں عادل ہو۔ سنت سے مراد متواتر ہے۔ امام علیہ السلام کا قول «فأرجہ» جیم اور ہاء کے کسرہ کے ساتھ «أرجیت الأمر» سے ہے یا «أرجأت الأمر» سے، اور دونوں تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہیں؛ پہلی صورت میں امر میں یاء حذف ہوئی اور دوسری میں ہمزہ یاء سے بدلا پھر یاء حذف ہوئی، اور ہاء ضمیر ہے جو دو خبروں میں سے ایک کے لینے کی طرف لوٹتی ہے؛ یا ہاء کے سکون کے ساتھ، منفصل کو متصل سے تشبیہ دیتے ہوئے؛ یا «أرجہ الأمر» سے یعنی کام کو اُس کے وقت سے مؤخر کیا، جیسا کہ فیروزآبادی نے کہا، مگر صرف اُنہوں نے کہا اور میں نے کسی اور کے کلام میں یہ نہ پایا۔ طبرسی کہتے ہیں: یہ روایت فرض کے باب سے ہے، کیونکہ بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ کسی حکم میں دو مختلف روایتیں وارد ہوں اور دونوں کتاب و سنت کے موافق بھی ہوں، جیسے وضو میں چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کا حکم کہ ایک روایت کہتی ہے ہر ایک کو ایک بار دھویا جائے اور دوسری کہتی ہے دو بار، اور ظاہرِ قرآن بھی کسی سے مخالف نہیں، کیونکہ دونوں روایتوں کا مضمون محتمل ہے؛ ایسے موارد احکامِ شرعی میں موجود ہیں۔ امام کا یہ فرمانا کہ «توقف کرو یا تاخیر میں ڈالو یہاں تک کہ امام سے ملاقات کرو»، اُس سے مراد یہ ہے کہ اگر امام تک رسائی ممکن ہو؛ اور اگر ممکن نہ ہو اور امام غائب ہوں،