Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 222

الْخَبَرَيْنِ يُوَافِقُ الْعَامَّةَ وَ الْآخَرَ يُخَالِفُ بِأَيِّهِمَا نَأْخُذُ مِنَ الْخَبَرَيْنِ قَالَ يُنْظَرُ إِلَى مَا هُمْ إِلَيْهِ يَمِيلُونَ فَإِنَّ مَا خَالَفَ الْعَامَّةَ فَفِيهِ الرَّشَادُ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَإِنْ وَافَقَهُمُ الْخَبَرَانِ جَمِيعاً قَالَ انْظُرُوا إِلَى مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ حُكَّامُهُمْ وَ قُضَاتُهُمْ فَاتْرُكُوهُ جَانِباً وَ خُذُوا بِغَيْرِهِ قُلْتُ فَإِنْ وَافَقَ حُكَّامُهُمُ الْخَبَرَيْنِ جَمِيعاً قَالَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَأَرْجِهِ وَ قِفْ عِنْدَهُ حَتَّى تَلْقَی إِمَامَكَ فَإِنَّ الْوُقُوفَ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ خَيْرٌ مِنَ الِاقْتِحَامِ فِي الْهَلَكَاتِ وَ اللَّهُ الْمُرْشِدُ.

دو خبروں میں سے ایک عامہ کے موافق اور دوسری اُن کے مخالف ہو تو کون سی لی جائے؟ فرمایا: جو عامہ کے مخالف ہے، حق اُسی میں ہے۔ میں نے کہا: آپ پر قربان، اگر دونوں خبریں عامہ کے دو گروہوں کے موافق ہوں؟ فرمایا: اُس خبر کی طرف دیکھا جائے جس کی طرف اُن کے حاکم اور قاضی زیادہ مائل ہیں، [اور وہ] چھوڑ دی جائے اور دوسری لی جائے۔ میں نے کہا: اگر عامہ کے حاکم دونوں خبروں پر اتفاقِ نظر دیں؟ فرمایا: جب ایسا ہو تو صبر کرو یہاں تک کہ اپنے امام سے ملاقات کرو؛ کیونکہ شبہات کے وقت توقف ہلاکت میں پڑنے سے بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ مرشد اور راہنما ہے۔

غو، غوالي اللئالي روى محمد بن علي بن محبوب عن محمد بن عيسى عن صفوان عن داود بن الحصين عن عمرو بن حنظلة مثله بيان- رواه الصدوق في الفقيه و ثقة الإسلام في الكافي بسند موثق لكنه من المشهورات و ضعفه منجبر بعمل الأصحاب قوله تعالى يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ الطاغوت مشتق من الطغيان و هو الشيطان أو الأصنام أو كل ما عبد من دون اللّٰه أو صد عن عبادة اللّٰه و المراد هنا من يحكم بالباطل و يتصدى للحكم و لا يكون أهلا له سمي به لفرط طغيانه أو لتشبهه بالشيطان أو لأن التحاكم إليه تحاكم إلى الشيطان من حيث إنه الحامل عليه و الآية بتأييد الخبر تدل على عدم جواز الترافع إلى حكام الجور مطلقا قوله عليه السلام ممن قد روى حديثنا أي كلها بحسب الإمكان أو القدر الوافي منها أو الحديث المتعلق بتلك الواقعة و كذا في نظائره و الأحوط أن لا يتصدى لذلك إلا من تتبع ما يمكنه الوصول إليه من أخبارهم ليطلع على المعارضات و يجمع بينها بحسب الإمكان قوله عليه السلام فإني قد جعلته عليكم حاكما استدل به على أنه نائب للإمام في كل أمر إلا ما أخرجه الدليل و لا يخلو من إشكال بل الظاهر أنه رخص له في الحكم فيما رفع إليه لا أنه يمكنه جبر الناس على الترافع إليه أيضا نعم يجب على الناس الترافع إليه و الرضا بحكمه قوله عليه السلام فيما حكما ظاهره أن اختلافهما بحسب اختلاف الرواية لا الفتوى قوله عليه السلام أعدلهما و أفقههما في الجواب إشعار بأنه لا بد من كونهما عادلين فقيهين صادقين ورعين و الفقه هو العلم بالأحكام الشرعية كما هو الظاهر و هل يعتبر كونه أفقه في خصوص تلك الواقعة أو في مسائل المرافعة و الحكم أو في مطلق المسائل الأوسط أظهر معنى و إن كان الأخير أظهر لفظا و الظاهر أن مناط الترجيح الفضل

عوالی اللئالی: عمر بن حنظلہ نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔ اِس باب کی پہلی حدیث کا ضعف اصحاب کے عمل سے دُور ہو جاتا ہے۔ «طاغوت» کے درج ذیل معانی ہیں: شیطان، بت، اللہ کی عبادت سے روکنے والا، اور اللہ کے سوا ہر معبود؛ اور آیت میں طاغوت سے مراد وہ ہے جو باطل کا حکم کرے اور قضاوت کی اہلیت بھی نہ رکھے۔ طاغوت کہلانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت طغیان اور سرکشی کرتا ہے، یا شیطان کے مشابہ ہے، یا اُس کے پاس مقدمہ لے جانا شیطان کے پاس مقدمہ لے جانے کے مانند ہے، کیونکہ شیطان اُسے اُکساتا ہے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جور کے حاکموں کے پاس مقدمہ لے جانا مطلقاً ممنوع ہے۔ حدیث روایت کرنے سے مراد بھی حسبِ امکان ہے یا اُس مقدار میں جو کافی ہو؛ یا مراد وہ روایت ہے جو اُسی خاص واقعے سے متعلق ہو، اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ قضاوت وہی کرے جسے اہلِ بیت کی اخبار تک رسائی ہو تاکہ متعارض اخبار سے اُن کے درمیان جمع کی کیفیت جان سکے۔ راویِ حدیث ہر امر میں امام کا نائب ہے مگر یہ کہ کوئی خاص دلیل نیابت کی نفی کرے، مگر یہ نیابتِ عامہ اشکال سے خالی نہیں، اِسی لیے بہتر ہے کہ کہیں: روایت کا ظاہر کہتا ہے کہ امام نے راویِ حدیث کو قضاوت کی اجازت دی ہے کہ اگر لوگ اُس کی طرف رجوع کریں تو وہ حکم کرے، نہ یہ کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف رجوع پر مجبور کرے۔ البتہ خیال رہے کہ لوگوں پر واجب ہے کہ اُس کی طرف رجوع کریں اور اُس کے حکم پر راضی ہوں۔ دو راویوں کے اختلاف سے مراد روایت میں اختلاف ہے نہ کہ فتویٰ میں؛ اور دوسری طرف دونوں راویوں کو عادل، فقیہ، سچا اور تقویٰ کے بلند درجے پر ہونا چاہیے۔ فقہ بھی وہی احکامِ شرعی کا علم ہے۔ اِس بارے میں کہ روایت میں افقہ ہونے سے کیا مراد ہے؟ چند احتمال ہیں۔ اول، اُس خاص واقعے میں افقہ ہو۔ دوم، اُن مسائل میں ایسا ہو جن میں اختلاف ہے۔ سوم، تمام مسائل میں افقہ ہو۔ دوسرا احتمال معنی کے اعتبار سے زیادہ واضح ہے اور تیسرا لفظ کے اعتبار سے واضح ہے؛ اور ظاہر یہ ہے کہ قضاوت کا ملاک فضیلت میں ترجیح ہے