الجاثية: «وَ ما لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ»(23)
{اور اُنہیں اِس [بات] کا کوئی علم نہیں [اور] وہ گمان [کی راہ] کے سوا کچھ نہیں چلتے۔}
الحجرات: «إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى ما فَعَلْتُمْ نادِمِينَ»(6)
{اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح چھان بین کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور [بعد میں] جو تم نے کیا اُس پر پشیمان ہو۔}
النجم: «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنَّ الظَّنَّ لا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً»(28)
النجم: {اور اُنہیں اِس [کام] کا کوئی علم نہیں۔ وہ اپنے گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے، اور درحقیقت گمان حقیقت [تک پہنچنے] میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔}
«1»- قَالَ الشَّيْخُ الطَّبْرِسِيُّ فِي كِتَابِ الْإِحْتِجَاجَاتِ، رُوِيَ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: مَا وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَالْعَمَلُ بِهِ لَازِمٌ وَ لَا عُذْرَ لَكُمْ فِي تَرْكِهِ وَ مَا لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَانَ فِي سُنَّةٍ مِنِّي ١ فَلَا عُذْرَ لَكُمْ فِي تَرْكِ سُنَّتِي وَ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنِّي فَمَا قَالَ أَصْحَابِي فَقُولُوا بِهِ٢ فَإِنَّمَا مَثَلُ أَصْحَابِي فِيكُمْ كَمَثَلِ النُّجُومِ بِأَيِّهَا أُخِذَ اهْتَدَى ٣وَ بِأَيِّ أَقَاوِيلِ أَصْحَابِي أَخَذْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ وَ اخْتِلَافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصْحَابُكَ قَالَ أَهْلُ بَيْتِي.
کتاب الاحتجاجات: امام صادق علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو کچھ کتابِ خدا میں پاؤ اُس پر عمل کرو اور اُس کے ترک میں تمہارا کوئی عذر نہیں؛ اور جو قرآن میں نہ ہو وہ میری سنت اور روش میں ہے اور اُس پر عمل واجب اور ناقابلِ ترک ہے؛ اور جو میری سنت میں نہ ہو، اُس پر عمل کرو جو میرے صحابہ نے کہا، اُن کی جو بات بھی تم لو، ہدایت پاؤ گے؛ اور میرے اصحاب کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔ کسی نے پوچھا: اے رسولِ خدا! آپ کے اصحاب کون ہیں؟ فرمایا: میرے اہلِ بیت۔
قال محمد بن الحسين بن بابويه القمي رضوان اللّٰه عليه إن أهل البيت لا يختلفون و لكن يفتون الشيعة بمر الحق و ربما أفتوهم بالتقية فما يختلف من قولهم فهو للتقية و التقية رحمة للشيعة.
شیخِ صدوق رحمہ اللہ کہتے ہیں: بلا شبہ اہلِ بیت اختلاف نہیں کرتے بلکہ شیعوں کو خالص حق کا فتویٰ دیتے ہیں، اور کبھی اُن کا فتویٰ تقیہ کا پہلو رکھتا ہے، اور اختلاف کی جڑ یہی تقیہ کا مسئلہ ہے ـ اور تقیہ شیعوں کے لیے رحمت ہے۔
- أقول روى الصدوق في كتاب معاني الأخبار عن ابن الوليد عن الصفار عن الخشاب عن ابن كلوب عن إسحاق بن عمار عن الصادق عن آبائه عليهم السلام إلى آخر ما نقل و رواه الصفار في البصائر ثم قال الطبرسي رحمه اللّٰه و يؤيد تأويله رضي اللّٰه عنه أخبار كثيرة
مؤلف: شیخِ صدوق نے کتاب «معانی الأخبار» میں ابن ولید سے، صفّار سے، امام صادق علیہ السلام سے، اور اِسی طرح صفّار نے «بصائر» میں وہ حدیث روایت کی ہے۔ طبرسی کہتے ہیں: اُس بزرگوار شیخ کی تاویل کی تائید میں بہت سی اخبار وارد ہوئی ہیں۔
مِنْهَا مَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ نَصْرٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مَنْ عَرَفَ مِنْ أَمْرِنَا أَنْ لَا نَقُولَ إِلَّا حَقّاً فَلْيَكْتَفِ بِمَا يَعْلَمُ مِنَّا فَإِنْ سَمِعَ مِنَّا خِلَافَ مَا يَعْلَمُ فَلْيَعْلَمْ أَنَّ ذَلِكَ مِنَّا دِفَاعٌ وَ اخْتِيَارٌ لَهُ ٤
اُن اخبار میں سے ایک وہ روایت ہے جو محمد بن سنان نے نصر خثعمی سے نقل کی کہ اُنہوں نے کہا: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: جو ہمارے امر کو اِس قدر پہچانے کہ ہم حق کے سوا کچھ نہیں کہتے، اُسے وہی کافی ہے جو وہ ہم سے جانتا ہے؛ اور اگر اُس نے ہم سے کوئی ایسی بات سنی جو اُس کے علم کے خلاف ہو (بظاہر ناحق بات) تو یہ ہمارے لیے دفاع ہے اور اُس کے لیے اختیار۔
وَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِنَا بَيْنَهُمَا
عمر بن حنظلہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہمارے اپنے اصحاب میں سے دو آدمی