بيان: قال في النهاية اغد عالما أو متعلما و لا تكن إمعة الإمعة بكسر الهمزة و تشديد الميم الذي لا رأى له فهو يتابع كل أحد على رأيه و الهاء فيه للمبالغة و يقال فيه إمع أيضا و لا يقال للمرأة إمعة و همزته أصلية لأنه لا يكون أفعل وصفا و قيل هو الذي يقول لكل أحد أنا معك و منه حديث ابن مسعود لا يكونن أحدكم إمعة قيل و ما الإمعة قال الذي يقول أنا مع الناس انتهى و النجد الطريق الواضح المرتفع و الحاصل أنه لا واسطة بين الحق و الباطل فالخروج عن الحق لمتابعة الناس ينتهي إلى الباطل.
ابن اثیر کی کتاب «النہایہ» میں آیا ہے: «صبح کرو اِس حال میں کہ عالم ہو یا متعلّم، اور «امّعہ» نہ بنو» — یعنی وہ جس کی اپنی کوئی رائے نہ ہو اور ہر کسی کی رائے کا تابع ہو۔ «امّعہ» میں ہاء مبالغے کے لیے ہے، اور «امّع» بھی کہا جاتا ہے۔ عورت کے لیے «امّعہ» نہیں کہا جاتا، اور اِس کا ہمزہ اصلی ہے، کیونکہ یہ «افعل» بطورِ وصف نہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ لفظ اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہر ملنے والے سے کہے: میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اسی قبیل سے ابن مسعود کی حدیث ہے کہ اُنہوں نے کہا: تم میں سے کوئی «امّعہ» نہ ہو۔ پوچھا گیا: «امّعہ» کیا ہے؟ کہا: وہ جو کہے میں لوگوں کے ساتھ ہوں۔ «نجد» روشن اور بلند راستے کو کہتے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ حق و باطل کے درمیان کوئی واسطہ نہیں؛ لوگوں کی پیروی کے لیے حق سے نکلنا لازماً باطل پر منتج ہوتا ہے۔
«63»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ الْمَشِيخَةِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ لَيْلًا فَقَالَ لِي يَا حَارِثُ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَمَا لَتَحْمِلُنَّ ذُنُوبَ سُفَهَائِكُمْ عَلَى عُلَمَائِكُمْ ثُمَّ مَضَى قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لِمَ قُلْتَ لَتَحْمِلُنَّ ذُنُوبَ سُفَهَائِكُمْ عَلَى عُلَمَائِكُمْ فَقَدْ دَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ فَقَالَ نَعَمْ مَا يَمْنَعُكُمْ إِذَا بَلَغَكُمْ عَنِ الرَّجُلِ مِنْكُمْ مَا تَكْرَهُونَهُ مِمَّا يَدْخُلُ بِهِ عَلَيْنَا الْأَذَى وَ الْعَيْبُ عِنْدَ النَّاسِ أَنْ تَأْتُوهُ فَتُؤَنِّبُوهُ ١ وَ تَعِظُوهُ وَ تَقُولُوا لَهُ قَوْلًا بَلِيغاً فَقُلْتُ لَهُ إِذًا لَا يَقْبَلُ مِنَّا وَ لَا يُطِيعُنَا قَالَ فَقَالَ فَإِذًا فَاهْجُرُوهُ عِنْدَ ذَلِكَ وَ اجْتَنِبُوا مُجَالَسَتَهُ.
سرائر: حارث بن مغیرہ کہتے ہیں: ایک رات مدینہ کے کسی راستے پر امام صادق علیہ السلام نے مجھے دیکھا اور فرمایا: تم اپنے جاہلوں کے گناہ اپنے علماء کی گردن پر ڈالتے ہو۔ پھر آپ آگے بڑھ گئے اور میں کچھ دیر بعد آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: آپ کا فرمان مجھ پر گراں گزرا۔ فرمایا: ہاں! تم میں سے ایک شخص ہمیں اذیت دیتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہم پر عیب جوئی کرتا ہے؛ تم اُسے کھلی زبان میں نصیحت کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: وہ قبول نہیں کرتا۔ فرمایا: تو پھر اُس سے دُوری اختیار کرو اور اُس کی ہم نشینی سے بچو۔
«64»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْهُ.
سرائر: عبداللہ بن بکیر کی کتاب سے، امام صادق علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو گمراہی کی طرف بلائے، وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہتا ہے یہاں تک کہ اُس سے باز آ جائے۔
«65»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله إِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.
عوالی اللئالی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جب مؤمن مر جاتا ہے تو اُس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ۱۔ صدقۂ جاریہ؛ ۲۔ وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھائیں؛ ۳۔ نیک اولاد جو اُس کے لیے دعا کرے۔
«66»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله يَا عَلِيُّ نَوْمُ الْعَالِمِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ يُصَلِّيهَا الْعَابِدُ يَا عَلِيُّ لَا فَقْرَ أَشَدُّ مِنَ الْجَهْلِ وَ لَا عِبَادَةَ مِثْلُ التَّفَكُّرِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے علی! عالم کی نیند عابد کی ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے۔
«67»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں۔