فَاسْتَجَابَتْ لَهُ ١
اور وہ شخص اُس کی دعوت قبول کرے۔»
شی، تفسير العياشي عن حمران مثله.
تفسیر عیاشی: حمران نے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔
«59»- شی، تفسير العياشي عَنْ سَعْدَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ٢عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي قَوْلِهِ تَعَالَى الم ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فِيهِ قَالَ كِتَابُ عَلِيٍّ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدىً لِلْمُتَّقِينَ قَالَ الْمُتَّقُونَ شِيعَتُنَا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ وَ مِمَّا عَلَّمْنَاهُمْ يَبُثُّونَ.
تفسیر عیاشی: سعدان بن مسلم نے امام صادق علیہ السلام سے آیت «الم ذلِکَ الْکِتابُ لا رَیْبَ فِیهِ» کے بارے میں روایت کی کہ آپ نے فرمایا: یہ علی علیہ السلام کی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں؛ اور «ہدیً للمتقین» سے مراد متقین ہمارے شیعہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، انفاق کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں سکھایا اُسے پھیلاتے ہیں۔
«60»- شی، تفسير العياشي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِهِ تَعَالَی وَ مَنْ أَحْياها فَكَأَنَّما أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً قَالَ لَمْ يَقْتُلْهَا ٣ أَوْ أَنْجَاهَا مِنْ غَرَقٍ أَوْ حَرَقٍ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ يُخْرِجُهَا مِنْ ضَلَالَةٍ إِلَى هُدًى.
تفسیر عیاشی: محمد بن مسلم نے امام باقر علیہ السلام سے آیت «وَ مَنْ أَحْیاها فَکَأَنَّما أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعاً» کے بارے میں روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اُسے قتل نہیں کرتا حالانکہ اُس پر قصاص ثابت ہے؛ یا اُسے ڈوبنے اور جلنے سے نجات دیتا ہے؛ اور سب سے اہم یہ ہے کہ وہ کسی کو گمراہی سے ہدایت کی طرف نکالے۔
«61»- شی، تفسير العياشي عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَ مَنْ أَحْياها فَكَأَنَّما أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً قَالَ مَنِ اسْتَخْرَجَهَا مِنَ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ.
تفسیر عیاشی: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے آیت «وَ مَنْ أَحْیاها فَکَأَنَّما أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعاً» کے بارے میں پوچھا، فرمایا: مراد کفر سے ایمان کی طرف نکالنا ہے۔
«62»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ الْمَشِيخَةِ لِابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي أَبْلِغْ خَيْراً وَ قُلْ خَيْراً وَ لَا تَكُونَنَّ إِمَّعَةً.
سرائر: فضل نے امامِ ہفتم علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: خیر پہنچانے والے اور خیر کہنے والے بنو۔ یہ نہ کہو کہ میں لوگوں کے ساتھ اور اُن میں سے ایک جیسا ہوں۔
مكسورة الألف مشددة الميم المفتوحة و العين غير المعجمة.
«إمّعہ» الف کے کسرہ، میمِ مشدّد مفتوح اور عینِ بے نقطہ کے ساتھ ہے۔
قَالَ: وَ مَا الْإِمَّعَةُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ أَنَا مَعَ النَّاسِ وَ أَنَا كَوَاحِدٍ مِنَ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا هُمَا نَجْدَانِ نَجْدُ خَيْرٍ وَ نَجْدُ شَرٍّ فَمَا بَالُ نَجْدِ الشَّرِّ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ مِنْ نَجْدِ الْخَيْرِ.
ہر کسی سے یہ نہ کہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، کیونکہ پیغمبر نے فرمایا: دو ہی راستے ہیں، ایک خیر کا اور دوسرا شر کا؛ پھر شر کا راستہ تمہارے نزدیک خیر کے راستے سے زیادہ محبوب کیوں ہے؟
جا، المجالس للمفيد أحمد بن الوليد عن أبيه عن الصفار عن أبي معروف عن ابن مهزيار عن ابن محبوب عن الفضل بن يونس مثله
مجالسِ مفید: فضل بن یونس نے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔