مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ وَ إِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ عِنْدَنَا مَعَاقِلُ الْعِلْمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ وَ فَصْلُ مَا بَيْنَ النَّاسِ.
اشارہ کیا اور فرمایا: ـ علم کے قلعے، امور کی روشنی اور لوگوں کے درمیان قضایا کا حل و فصل ہمارے پاس ہے۔
بيان: الإشارة لبيان أنه صلى اللّٰه عليه و آله نشر العلم في كل جانب و علمه كل أحد فكيف لا يكون في الناس علمه.
آپ کا اشارہ اِس سبب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے علم کو ہر طرف پھیلایا، تو آپ کا علم لوگوں میں کیسے نہ ہو گا؟
«9»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَكَرَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام رَجُلٌ حَدِيثاً وَ أَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ إِنَّهُمْ يَرْوُونَ عَنِ الرِّجَالِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ غَضِبَ فَجَلَسَ وَ كَانَ مُتَّكِئاً وَ وَضَعَ الْمِرْفَقَةَ ١ تَحْتَ إِبْطَيْهِ فَقَالَ أَمَا وَ اللَّهِ إِنَّا نَسْأَلُهُمْ وَ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ وَ لَكِنْ إِنَّمَا نَسْأَلُهُمْ لِنُوَرِّكَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَأَيْتَ رَوَغَانَ أَبِي جَعْفَرٍ حَيْثُ يُرَاوِغُ يَعْنِي الرَّجُلَ لَعَجِبْتَ مِنْ رَوَغَانِهِ.
بصائر الدرجات: معلّیٰ بن عثمان نے روایت کی: ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کے پاس ایک حدیث بیان کی، میں بھی موجود تھا۔ فرمایا: کیا وہ مردوں سے روایت کرتے ہیں؟ ـ گویا امام غضبناک ہوئے، ایک تکیہ اپنے بازو کے نیچے رکھا اور فرمایا: ـ اللہ کی قسم، ہم اُن سے پوچھتے ہیں جبکہ ہم اُن سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ ہمارا پوچھنا اِس لیے ہے کہ ہم اُنہیں پابند کریں تاکہ وہ انکار نہ کر سکیں۔ اگر تم میرے والد کی دشمن سے بحث میں استدلال کی طاقت دیکھتے تو حیران رہ جاتے۔
بيان: قال الفيروزآبادي وركه توريكا أوجبه و الذنب عليه حمله و قال الجوهري راغ إلى كذا أي مال إليه سرّا و حاد و قوله تعالى فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ أي أقبل قال الفراء مال عليهم و قال الجزري فلان يريغني على أمر و عن أمر أي يراودني و يطلبه منی و الحاصل أن السائل عظم ما كان يرويه عنده عليه السلام فغضب و قال إنا لا نحتاج إلى السؤال و إن سألنا أحيانا فما هو إلا للاحتجاج و الإلزام على الخصم بما لا يستطيع إنكاره ثم ذكر عليه السلام قدرة أبيه عليه السلام على الاحتجاج و المغالبة بأنه كان يقبل على الخصم في إقامة الدليل عليه إقبالا على غاية القوة و القدرة على الغلبة أو كان عليه السلام يستخرج الحجة من الخصم و يحمله على الإقرار بالحق بحيث لو رأيته لعجبت من ذلك و قوله عليه السلام يعني الرجل أي أي رجل كان يخاصمه و يناظره ٢.
فیروزآبادی کہتے ہیں: حاصلِ کلام یہ ہے کہ: جو سائل کے لیے امام علیہ السلام کے پاس روایت کیا گیا، وہ بڑا معلوم ہوا، پس امام علیہ السلام غضبناک ہوئے اور فرمایا: ہمیں سوال کی حاجت نہیں؛ اگر کبھی کبھار ہم پوچھتے ہیں تو صرف احتجاج اور دشمن کو اُس چیز کا پابند بنانے کے لیے جس کے انکار کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پھر امام علیہ السلام نے اپنے بزرگوار والد کی حجت لانے اور دشمن پر غلبے کی طاقت بیان فرمائی: کہ آپ نہایت قدرت و قوت کے ساتھ دشمن پر دلیل قائم کرنے کے لیے رُخ کرتے؛ یا آپ علیہ السلام دشمن کے اپنے کلام سے حجت نکال لاتے اور اُسے حق کے اقرار پر مجبور کرتے، کہ اگر تم آپ کو دیکھتے تو اِس کام پر حیران رہ جاتے۔
«10»- سر، السرائر أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ هَارُونَ بْنِ خَارِجَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّا نَأْتِي هَؤُلَاءِ الْمُخَالِفِينَ فَنَسْمَعُ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ يَكُونُ حُجَّةً لَنَا عَلَيْهِمْ قَالَ لَا تَأْتِهِمْ وَ لَا تَسْمَعْ مِنْهُمْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَ لَعَنَ مِلَلَهُمُ الْمُشْرِكَةَ.
السرائر: ہارون بن خارجہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ہم مخالفوں سے ایسی حدیث سنتے ہیں جو ہمارے حق میں اور اُن کے خلاف ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اُن کے پاس نہ جاؤ اور اُن کی بات پر کان نہ دھرو۔ اللہ اُن پر اور اُن کی مشرک ملتوں پر لعنت کرے۔