Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 215

«4»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى عَنِ النَّضْرِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ عِنْدَنَا مَعَاقِلُ الْعِلْمِ وَ آثَارُ النُّبُوَّةِ وَ عِلْمُ الْكِتَابِ وَ فَصْلُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ.

بصائر الدرجات: حسن بن یحییٰ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرمایا: علم کا مستحکم قلعہ، نبوت کے آثار، کتاب کا علم اور حق کی باطل سے جدائی ہم اہلِ بیت علیہم السلام کے پاس ہے۔

«5»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمُؤْمِنِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ وَ أَبِي خَالِدٍ وَ أَبِي أَيُّوبَ الْخَزَّازِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَالَ فِي النَّاسِ وَ أَنَالَ وَ عِنْدَنَا عُرَی الْأَمْرِ وَ أَبْوَابُ الحِكْمَةِ وَ مَعَاقِلُ الْعِلْمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ وَ أَوَاخِيهِ فَمَنْ عَرَفَنَا نَفَعَتْهُ مَعْرِفَتُهُ وَ قُبِلَ مِنْهُ عَمَلُهُ وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْنَا لَمْ تَنْفَعْهُ مَعْرِفَتُهُ وَ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ عَمَلُهُ ١

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے لوگوں کو بہت علم دیا، مگر حکمت کے دروازے، علم کا مستحکم قلعہ اور امور کی روشنی ہمارے پاس ہے اور اِن امور میں ہماری مضبوط رسی کو تھامنا چاہیے۔ لوگوں کے علم و معرفت کی قبولیت ہماری شناخت سے وابستہ ہے، اور اُس کے بغیر علم بے فائدہ اور عمل نامقبول ہے۔

«6»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَّالِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَدْ أَنَالَ وَ أَنَالَ وَ أَنَالَ يُشِيرُ كَذَا وَ كَذَا وَ عِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أُصُولُ الْعِلْمِ وَ عُرَاهُ وَ ضِيَاؤُهُ وَ أَوَاخِيهِ.

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم نے کہا: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے لوگوں کو بہت علم دیا… پھر آپ نے کچھ موارد کی طرف اشارہ کیا اور یوں جاری رکھا: جڑیں، روشنی اور علم کا حلقہ ہمارے پاس ہے۔

«7»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْقِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: خَطَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام بِالنَّاسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مُحَمَّداً صلى اللّٰه عليه و آله بِالرِّسَالَةِ وَ أَنْبَأَهُ بِالْوَصِيِّ وَ أَنَالَ فِي النَّاسِ وَ أَنَالَ وَ فِينَا أَهْلَ الْبَيْتِ مَعَاقِلُ الْعِلْمِ وَ أَبْوَابُ الحِكْمَةِ وَ ضِيَاؤُهُ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ فَمَنْ يُحِبَّنَا مِنْكُمْ نَفَعَهُ إِيمَانُهُ وَ يُقْبَلُ عَمَلُهُ ٢ وَ مَنْ لَمْ يُحِبَّنَا مِنْكُمْ لَمْ يَنْفَعْهُ إِيمَانُهُ وَ لَا يُتَقَبَّلُ عَمَلُهُ.

بصائر الدرجات: ثمالی کہتے ہیں: حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبے میں یوں فرمایا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو رسالت کے لیے برگزیدہ کیا اور وصایت کے مسئلے کا بھی ذکر کیا، اور لوگوں کو بہت علم دیا، مگر علم کے قلعے، حکمت کے دروازے اور امور کی روشنی ہمارے درمیان ہے۔ لوگوں کے ایمان اور عمل کی قبولیت ہماری محبت سے وابستہ ہے، ورنہ وہ مقبول نہیں۔

«8»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّا نَجِدُ الشَّيْ ءَ مِنْ أَحَادِيثِنَا فِي أَيْدِي النَّاسِ قَالَ فَقَالَ لِي لَعَلَّكَ لَا تَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَالَ وَ أَنَالَ ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَ عَنْ شِمَالِهِ وَ

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ہماری کچھ روایتیں اہلِ سنت لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ فرمایا: شاید تم نہیں جانتے کہ پیغمبر نے لوگوں کو بہت علم دیا ـ اور پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے چاروں طرف

(١)1- تقدم عن محمّد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام حديثان تحت الرقم 1 و 3 مثل ذلك مع اختلاف في ألفاظه، فيحتمل سماعه عنه عليه السلام مرة واحدة و الاختلاف نشأ عن نقله أو نقل راويه بالمعنی أو أنّه سمعه عنه عليه السلام مكرّرا و اختلاف التعابير كان في كلامه عليه السلام، و يأتي عنه عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام حديثان آخران مثل ذلك تحت الرقم 6 و 8.محمد بن مسلم سے، ابوجعفر علیہ السلام سے اُسی جیسی دو حدیثیں الفاظ کے اختلاف کے ساتھ نمبر ۱ اور ۳ کے تحت گزریں؛ پس محتمل ہے کہ اُنہوں نے آپ علیہ السلام سے ایک بار سنا ہو اور اختلاف اُن کے یا اُن کے راوی کے نقل بالمعنیٰ سے پیدا ہوا ہو، یا یہ کہ اُنہوں نے آپ سے کئی بار سنا ہو اور تعبیروں کا اختلاف خود آپ علیہ السلام کے کلام میں رہا ہو۔ اور اُنہی سے، ابوعبداللہ علیہ السلام سے اُسی جیسی دو اور حدیثیں نمبر ۶ اور ۸ کے تحت آتی ہیں۔
(٢)2- و في نسخة: و يتقبل عملهاور ایک نسخے میں: «و یتقبل عملہ»۔