Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 212

قَالَ لَكَ هَذَا إِنِّي قُلْتُهُ فَلَا تُكَذِّبْ بِهِ فَإِنَّكَ إِنَّمَا تُكَذِّبُنِي ١.

وہ شخص تمہارے لیے ایسی خبر لائے تو اُس کی تکذیب نہ کرو، کیونکہ درحقیقت تم میری تکذیب کرتے ہو۔

«111»- وَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحَدِهِمَا عليهما السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا تُكَذِّبْ بِحَدِيثٍ أَتَاكُمْ بِهِ مُرْجِئِيٌّ وَ لَا قَدَرِيٌّ وَ لَا خَارِجِيٌّ نَسَبَهُ إِلَيْنَا فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّهُ شَيْ ءٌ مِنَ الْحَقِّ فَتُكَذِّبُونَ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فَوْقَ عَرْشِهِ.

ابوبصیر نے امام باقر یا امام صادق علیہما السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: اگر ہماری طرف منسوب کوئی حدیث کوئی مرجئی، قدری یا خارجی تمہارے لیے لائے تو تکذیب نہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے، شاید وہ حدیث برحق ہو اور تم نے اللہ تعالیٰ کو اُس کے عرش کے اوپر جھٹلا دیا ہو۔ جو کچھ کتاب بصائر سے مستخرج تھا، وہ یہاں ختم ہوا۔

انتهى ما أخرجه من كتاب البصائر ٢.

روایت ۱۱۲۔

«112»- وَ بِخَطِّهِ أَيْضاً قَالَ رَوَى الصَّفْوَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مُرْسَلًا عَنِ الرِّضَا عليه السلام أَنَّ الْعِبَادَةَ عَلَى سَبْعِينَ وَجْهاً فَتِسْعَةٌ وَ سِتُّونَ مِنْهَا فِي الرِّضَا وَ التَّسْلِيمِ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِأُولِی الْأَمْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ.

اور اُنہی کے قلم سے ہے کہ کہتے ہیں: صفوانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں امام رضا علیہ السلام سے مرسل روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: عبادت کی ستر صورتیں ہیں، جن میں سے انہتر اللہ عزوجل، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اولی الامر کی رضا اور اُن کے سامنے تسلیم ہونے میں ہیں۔

«113»- نهج، نهج البلاغة قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ وَ لَا تَعِي حَدِيثَنَا إِلَّا صُدُورٌ أَمِينَةٌ وَ أَحْلَامٌ رَزِينَةٌ.

نہج البلاغہ: امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بے شک ہمارا کام ـ پیغمبر کے اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت ـ سخت اور اُس کا تحمل دشوار ہے؛ اُسے قبول کرنے اور تحمل کرنے کی طاقت اُس دیندار مؤمن کے سوا کسی میں نہیں جسے اللہ نے آزمایا ہو اور اُس کا ایمان دل میں مضبوط ہو؛ اور ہماری حدیث امانت دار سینوں اور بردبار عقلوں کے سوا کوئی نہیں پاتا۔

«114»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ رَدَّ حَدِيثاً بَلَغَهُ عَنِّي فَأَنَا مُخَاصِمُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَلَغَكُمْ عَنِّي حَدِيثٌ لَمْ تَعْرِفُوا فَقُولُوا اللَّهُ أَعْلَمُ.

منیۃ المرید: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو ہماری طرف سے پہنچنے والی کوئی حدیث رد کرے، تو میں قیامت کے دن اُس کا دشمن ہوں۔ پس جب ہماری کوئی حدیث تم تک پہنچے اور تمہیں اُس کا علم نہ ہو تو کہو: اللہ بہتر جانتا ہے۔

«115»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّداً أَوْ رَدَّ شَيْئاً أَمَرْتُ بِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتاً فِي جَهَنَّمَ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو ہم پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے یا کسی ایسی چیز کو رد کرے جس کا ہم نے حکم دیا، وہ جہنم کے ایک گھر میں اپنا ٹھکانا تیار کر لے۔

«116»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ بَلَغَهُ عَنِّي حَدِيثٌ فَكَذَّبَ بِهِ فَقَدْ كَذَّبَ ثَلَاثَةً اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ الَّذِي حَدَّثَ بِهِ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جس تک ہماری کوئی حدیث پہنچے اور وہ اُس کی تکذیب کرے، اُس نے تین چیزوں کی تکذیب کی: اللہ کی، اُس کے رسول کی، اور اُس کی جس نے اُسے حدیث سنائی۔

باب 27 العلة التي من أجلها كتم الأئمة عليهم السلام بعض العلوم و الأحكام

باب ستائیسواں: اہلِ بیت علیہم السلام کے بعض علوم اور احکام چھپانے کا راز

«1»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ ذَرِيحٍ الْمُحَارِبِيِّ وَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ ذَرِيحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ أَبِي نِعْمَ الْأَبُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ كَانَ يَقُولُ لَوْ أَجِدُ ثَلَاثَةَ رَهْطٍ أَسْتَوْدِعُهُمُ الْعِلْمَ وَ هُمْ أَهْلٌ لِذَلِكَ لَحَدَّثْتُ بِمَا لَا يُحْتَاجُ فِيهِ إِلَى نَظَرٍ فِي حَلَالٍ وَ لَا حَرَامٍ وَ مَا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِنَّ حَدِيثَنَا

بصائر الدرجات: ذریح کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: میرے والد، اللہ اُن پر رحم کرے، کیا ہی اچھے والد تھے؛ وہ ہمیشہ فرماتے تھے: اگر میں تین لوگوں کو پا لوں تو علم اُن کے سپرد کر دوں، کیونکہ وہ اُس کی اہلیت رکھتے ہیں، اور ایسی باتیں کہوں کہ اُن کے ہوتے ہوئے قیامت تک حلال و حرام میں غور و فکر کی حاجت نہ رہے۔ بے شک ہماری حدیث اور ہمارا کلام

(١)1- 1 قد تقدم الحديث مسندا عن البصائر تحت الرقم 14.یہ حدیث سند کے ساتھ «البصائر» سے نمبر ۱۴ کے تحت گزری۔
(٢)2- تقدم الحديث مسندا تحت الرقم 16یہ حدیث سند کے ساتھ نمبر ۱۶ کے تحت گزری۔