أَعْلَمُ مِنْهُ فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنَّ فِي خَلْقِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ وَ ذَاكَ إِذْ خَافَ عَلَى نَبِيِّهِ الْعُجْبَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ أَنْ يُرْشِدَهُ إِلَى الْعَالِمِ قَالَ فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْخَضِرِ فَخَرَقَ السَّفِينَةَ فَلَمْ يَحْتَمِلْ ذَاكَ مُوسَى وَ قَتَلَ الْغُلَامَ فَلَمْ يَحْتَمِلْهُ وَ أَقَامَ الْجِدَارَ فَلَمْ يَحْتَمِلْهُ وَ أَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَإِنَّ نَبِيَّنَا صلى اللّٰه عليه و آله أَخَذَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ بِيَدِي قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيّاً مَوْلَاهُ فَهَلْ رَأَيْتَ احْتَمَلُوا ذَلِكَ إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ مِنْهُمْ فَأَبْشِرُوا ثُمَّ أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ خَصَّكُمْ بِمَا لَمْ يَخُصَّ بِهِ الْمَلَائِكَةَ وَ النَّبِيِّينَ وَ الْمُرْسَلِينَ فِيمَا احْتَمَلْتُمْ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ عِلْمِهِ.
زیادہ جاننے والا نہیں، اور اللہ تعالیٰ نے اِس سبب سے کہ اپنے پیغمبر کے لیے عُجب سے ڈرا، اُنہیں خبر دی کہ میری مخلوقات میں کوئی تم سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ـ آپ نے فرمایا: ـ موسیٰ نے دعا کی کہ اُس عالم کی طرف رہنمائی کی جائے اور اللہ نے اُنہیں حضرت خضر نبی تک پہنچایا؛ اور خضر نے کشتی میں سوراخ کیا اور موسیٰ اُس کا تحمل نہ کر سکے، اور خضر نے لڑکے کو قتل کیا اور موسیٰ تاب نہ لا سکے، اور خضر نے دیوار کھڑی کی اور موسیٰ تحمل نہ کر سکے۔ رہے مؤمن: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے غدیر کے دن میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، علی اُس کے مولا ہیں۔ کیا لوگوں نے اُس کا تحمل کیا ـ سوائے اُس کے جسے اللہ محفوظ رکھے؟ تمہیں بشارت ہو اور تمہیں بشارت ہو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں رسول کے امر اور اُن کے علم کے لیے مخصوص کیا کہ تم نے اُسے قبول کیا، اور فرشتوں، پیغمبروں اور رسولوں کو بھی اُس کے لیے مخصوص نہ کیا۔
«107»- أَقُولُ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ أَنْ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليهما السلام قَالَ لِأَبَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ يَا أَخَا عَبْدِ قَيْسٍ فَإِنْ وَضَحَ لَكَ أَمْرٌ فَاقْبَلْهُ وَ إِلَّا فَاسْكُتْ تَسْلَمْ وَ رُدَّ عِلْمَهُ إِلَى اللَّهِ فَإِنَّكَ فِي أَوْسَعَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ.
کتاب سلیم بن قیس: امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اے برادرِ عبدالقیس! اللہ سے ڈرو! اگر کوئی بات تمہارے لیے روشن ہو جائے تو اُسے قبول کرو، ورنہ خاموش رہو تاکہ سلامت رہو، اور اُس کا علم اللہ کے سپرد کر دو ـ کیونکہ تم ایسی وسعت میں ہو جو آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔
«108»- وَ وَجَدْتُ بِخَطِّ الشَّيْخِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْجُبَاعِيِّ قُدِّسَ سِرُّهُ نَقْلًا مِنْ كِتَابِ الْبَصَائِرِ لِسَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَلَفٍ الْقُمِّيِّ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْكَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فَلا وَ رَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ الْآيَةَ فَقَالَ لَوْ أَنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالُوا لِشَيْ ءٍ صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله لِمَ صَنَعَ كَذَا وَ كَذَا أَوْ لَوْ صَنَعَ كَذَا وَ كَذَا خِلَافَ الَّذِي صَنَعَ لَكَانُوا بِذَلِكَ مُشْرِكِينَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنَّهُمْ عَبَدُوا اللَّهَ وَ وَحَّدُوهُ ثُمَّ قَالُوا لِشَيْ ءٍ صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله لِمَ صَنَعَ كَذَا وَ كَذَا وَ وَجَدُوا ذَلِكَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ لَكَانُوا بِذَلِكَ مُشْرِكِينَ ثُمَّ قَرَأَ الْآيَةَ ١.
شیخ محمد بن علی جباعی قدس سرہ کے قلم سے، جو کتاب بصائرِ سعد بن عبداللہ بن ابی خلف قمی سے، حسین بن سعید سے، صفوان سے، عبداللہ کاہلی سے، امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «فَلا وَ رَبِّکَ لا یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیما شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لا یَجِدُوا فِی أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوا تَسْلِیماً» {مگر ایسا نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم، وہ ایمان نہ لائیں گے جب تک اُس بارے میں جو اُن کے درمیان اختلاف ہے تمہیں منصف نہ بنائیں؛ پھر جو فیصلہ تم کرو اُس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی [اور تردد] نہ پائیں، اور پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں۔} پھر فرمایا: اگر کوئی قوم خدائے واحد کی پرستش کرے، پھر اُس چیز کے بارے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے کی، کہے: پیغمبر نے یوں یوں کیوں کیا؟ یا پیغمبر کے کردار کے خلاف کہے: اگر یوں یوں ہوتا تو بہتر تھا، تو وہ اِس کلام کے سبب مشرک ہو جائیں۔ پھر فرمایا: اگر وہ اللہ کی پرستش کرتے اور اُس کی وحدانیت کا اعتقاد رکھتے اور اُس کے بعد اُس چیز کے بارے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے کی، کہتے: پیغمبر نے یوں یوں کیوں کیا؟ اور یہ بات اپنے اعتقاد سے کہتے، تو وہ ضرور اِس بات سے مشرک ہو جاتے۔ پھر اوپر والی آیت تلاوت فرمائی۔
«109»- وَ رُوِیَ بِعِدَّةِ أَسَانِيدَ إِلَى أَبِي جَعْفَرٍ وَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّ الْمُسْلِمِينَ هُمُ النُّجَبَاءُ.
امام باقر اور امام صادق علیہما السلام نے فرمایا: مسلمان نجبا ہیں۔
«110»- وَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ السِّمْطِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ رَجُلًا يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ يُعْرَفُ بِالْكَذِبِ فَيُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَنَسْتَبْشِعُهُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ لَكَ إِنِّي قُلْتُ لِلَّيْلِ إِنَّهُ نَهَارٌ أَوْ لِلنَّهَارِ إِنَّهُ لَيْلٌ قَالَ لَا قَالَ فَإِنْ
سفیان بن سمط کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! ایک شخص آپ کے پاس سے آتا ہے جو جھوٹ بولنے میں مشہور ہے اور ہمیں ایسی حدیث سناتا ہے جسے ہم پسند نہیں کرتے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا وہ شخص تم سے کہتا ہے کہ میں نے رات کو دن یا دن کو رات کہا؟ کہا: نہیں! فرمایا: اگر