عُمَرَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا صُدُورٌ مُشْرِقَةٌ وَ قُلُوبٌ مُنِيرَةٌ وَ أَفْئِدَةٌ سَلِيمَةٌ وَ أَخْلَاقٌ حَسَنَةٌ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَخَذَ عَلَى شِيعَتِنَا الْمِيثَاقَ فَمَنْ وَفَى لَنَا وَفَى اللَّهُ لَهُ بِالْجَنَّةِ وَ مَنْ أَبْغَضَنَا وَ لَمْ يُؤَدِّ إِلَيْنَا حَقَّنَا فَهُوَ فِي النَّارِ وَ إِنَّ عِنْدَنَا سِرّاً مِنَ اللَّهِ مَا كَلَّفَ اللَّهُ بِهِ أَحَداً غَيْرَنَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِتَبْلِيغِهِ فَبَلَّغْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْ لَهُ أَهْلًا وَ لَا مَوْضِعاً وَ لَا حَمَلَةً يَحْمِلُونَهُ حَتَّى خَلَقَ اللَّهُ لِذَلِكَ قَوْماً خُلِقُوا مِنْ طِينَةِ مُحَمَّدٍ وَ ذُرِّيَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَ مِنْ نُورِهِمْ صَنَعَهُمُ اللَّهُ بِفَضْلِ صُنْعِ رَحْمَتِهِ فَبَلَّغْنَاهُمْ عَنِ اللَّهِ مَا أَمَرَنَا فَقَبِلُوهُ وَ احْتَمَلُوا ذَلِكَ وَ لَمْ تَضْطَرِبْ قُلُوبُهُمْ وَ مَالَتْ أَرْوَاحُهُمْ إِلَى مَعْرِفَتِنَا وَ سِرِّنَا وَ الْبَحْثِ عَنْ أَمْرِنَا وَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَقْوَاماً لِلنَّارِ وَ أَمَرَنَا أَنْ نُبَلِّغَهُمْ ذَلِكَ فَبَلَّغْنَاهُ فَاشْمَأَزَّتْ قَلْبُهُمْ مِنْهُ وَ نَفَرُوا عَنْهُ وَ رَدُّوهُ عَلَيْنَا وَ لَمْ يَحْتَمِلُوهُ وَ كَذَّبُوا بِهِ وَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ أَطْلَقَ أَلْسِنَتَهُمْ بِبَعْضِ الْحَقِّ فَهُمْ يَنْطِقُونَ بِهِ لَفْظاً وَ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ لَهُ ثُمَّ بَكَى عليه السلام وَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذِهِ الشِّرْذِمَةَ الْمُطِيعِينَ لِأَمْرِكَ قَلِيلُونَ اللَّهُمَّ فَاجْعَلْ مَحْيَاهُمْ مَحْيَانَا وَ مَمَاتَهُمْ مَمَاتَنَا وَ لَا تُسَلِّطْ عَلَيْهِمْ عَدُوّاً فَإِنَّكَ إِنْ سَلَّطْتَ عَلَيْهِمْ عَدُوّاً لَنْ تُعْبَدَ.
ہماری ولایت و امامت سخت اور دشوار ہے؛ سوائے درخشاں سینوں، نورانی و سالم دلوں اور نیک خُلقوں کے، کوئی اُس کا تحمل نہیں کر سکتا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے شیعوں سے عہد لیا ہے: جو اپنے عہد کو وفا کرے، اللہ اُس کے لیے جنت وفا کرے گا۔ جو ہم سے دشمنی کرے اور ہمارا حق ادا نہ کرے، وہ آگ میں ہے۔ اور ہمارے پاس ایک الٰہی راز ہے جس کا اللہ نے ہمارے سوا کسی اور کو مکلف نہیں کیا، پھر ہمیں اُس کی تبلیغ کا حکم دیا اور ہم نے اُسے پہنچایا اور اُس کے لیے کوئی اہل، کوئی جگہ اور کوئی اٹھانے والے نہ پائے، یہاں تک کہ اللہ نے اُس کے لیے ایک گروہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اور اُن کی ذریت کی طینت سے اور اُن کے نور سے پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنی رحمت کی خلقت سے پیدا کیا۔ ہم نے جو اللہ کی طرف سے مامور تھے اُنہیں پہنچایا اور اُنہوں نے قبول کیا اور اُسے اٹھایا اور اُن کے دل مضطرب نہ ہوئے، اور اُن کی روحیں ہماری شناخت، ہماری ولایت اور ہمارے اسرار کی تلاش کی طرف مائل ہوئیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ آگ کے لیے پیدا کیا اور ہمیں اُن تک پہنچانے کا حکم دیا اور ہم نے ولایت اُن تک پہنچائی۔ اُن کے دل ولایت سے ناخوش ہوئے اور نفرت کی اور اُسے ہم پر رد کیا اور تحمل نہ کیا اور جھوٹ سمجھا، اور اللہ نے اُن کے دلوں پر مہر لگا دی، پھر اُن کی زبانیں بعض حقائق پر جاری کیں کہ وہ بعض حقائق زبان سے کہتے ہیں مگر اُن کے دل اُنہیں قبول نہیں کرتے۔ پھر آپ روئے اور اپنے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: اے اللہ! یہ گروہ تھوڑا ہے، تیرے امر کی اطاعت کرنے والے کم ہیں۔ بارِ الٰہا! اُن کی زندگی ہماری زندگی اور اُن کی موت ہماری موت قرار دے، اور اُن پر کوئی دشمن مسلط نہ کر؛ اگر تو اُن پر دشمن مسلط کر دے تو تیری پرستش نہ ہو گی۔
«106»- بشا، بشارة المصطفى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الطَّيِّبِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عِيسَى عَنْ فَرَجِ بْنِ فَرْوَةَ عَنْ مَسْعَدَةَ بْنِ صَدَقَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ مِيثَمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا فِي السُّوقِ إِذْ أَتَانِي أَصْبَغُ بْنُ نُبَاتَةَ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا مِيثَمُ لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام حَدِيثاً صَعْباً شَدِيداً فَأَيُّنَا نَكُونُ كَذَلِكَ قُلْتُ وَ مَا هُوَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ حَدِيثَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ فَقُمْتُ مِنْ فَوْرَتِي فَأَتَيْتُ عَلِيّاً عليه السلام فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَدِيثٌ أَخْبَرَنِي بِهِ الْأَصْبَغُ عَنْكَ قَدْ ضِقْتُ بِهِ ذَرْعاً قَالَ وَ مَا هُوَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ يَا مِيثَمُ أَ وَ كُلُّ عِلْمٍ يَحْتَمِلُهُ عَالِمٌ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمَلَائِكَتِهِ إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قالُوا أَ تَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها وَ يَسْفِكُ الدِّماءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنِّي أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُونَ فَهَلْ رَأَيْتَ الْمَلَائِكَةَ احْتَمَلُوا الْعِلْمَ قَالَ قُلْتُ هَذِهِ وَ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ وَ الْأُخْرَى أَنَّ مُوسَى عليه السلام أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ فَظَنَّ أَنْ لَا أَحَدَ
بشارۃ المصطفیٰ: صالح بن میثم نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک دن وہ بازار میں تھے کہ اصبغ بن نباتہ اُن کے پاس آئے اور کہا: وائے تم پر اے میثم! میں نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے ایک سخت حدیث سنی، ہم میں سے کون ایسا ہے؟ میں نے کہا: وہ حدیث کیا تھی؟ کہا: میں نے آپ کو فرماتے سنا: ہم اہلِ بیت کی حدیث دشوار اور سخت ہے؛ سوائے مقرب فرشتے یا مرسل پیغمبر یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا ہو، کوئی اور اُس کے تحمل کی طاقت نہیں رکھتا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور امیر المؤمنین کے پاس آیا۔ میں نے کہا: یا امیر المؤمنین! اصبغ بن نباتہ نے آپ سے مجھے ایک حدیث سنائی جس سے میرا دل تنگ ہو گیا۔ فرمایا: وہ حدیث کیا تھی؟ میں نے حدیث سنائی۔ آپ مسکرائے اور فرمایا: اے میثم! بیٹھ جاؤ۔ کیا ہر علم کو ہر عالم تحمل کر سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: «وَ إِذْ قالَ رَبُّکَ لِلْمَلائِکَةِ إِنِّی جاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً قالُوا أَ تَجْعَلُ فِیها مَنْ یُفْسِدُ فِیها وَ یَسْفِکُ الدِّماءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ قالَ إِنِّی أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُونَ» {اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، [فرشتوں نے] کہا: کیا تو اُس میں ایسے کو رکھے گا جو اُس میں فساد کرے اور خون بہائے؟ جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس میں لگے ہیں۔ فرمایا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔} کیا فرشتے اُس علم کے تحمل کی طاقت رکھتے تھے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم یہ حدیث اصبغ بن نباتہ کی حدیث سے زیادہ سخت ہے۔ ـ فرمایا: ـ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی تو اُنہوں نے گمان کیا کہ اُن سے کوئی