«103»- كش، رجال الكشي ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَامِرٍ وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قِيلَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ أَنَا عِنْدَهُ إِنَّ سَالِمَ بْنَ أَبِي حَفْصَةَ يَرْوِي عَنْكَ أَنَّكَ تَتَكَلَّمُ عَلَى سَبْعِينَ وَجْهاً لَكَ مِنْ كُلِّهَا الْمَخْرَجُ قَالَ فَقَالَ مَا يُرِيدُ سَالِمٌ مِنِّي أَ يُرِيدُ أَنْ أَجِي ءَ بِالْمَلَائِكَةِ فَوَ اللَّهِ مَا جَاءَ بِهَا النَّبِيُّونَ وَ لَقَدْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنِّی سَقِيمٌ وَ اللَّهِ مَا كَانَ سَقِيماً وَ مَا كَذَبَ وَ لَقَدْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا وَ مَا فَعَلَهُ وَ مَا كَذَبَ وَ لَقَدْ قَالَ يُوسُفُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ وَ اللَّهِ مَا كَانُوا سَارِقِينَ وَ مَا كَذَبَ ١.
رجال الکشی: ابوبصیر کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا کہ آپ سے کہا گیا: سالم بن ابی حفصہ ـ جو امامت کا عقیدہ نہ رکھتے تھے ـ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ستر صورتوں سے بات کرتے ہیں اور اُن سب سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سالم امامت کے اثبات کے لیے ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیا چاہتا ہے کہ ہم اپنی امامت کے اثبات کے لیے فرشتے لے آئیں؟ اللہ کی قسم، پیغمبر بھی اُنہیں نہ لائے۔ حضرت ابراہیم خلیل نے فرمایا: «إنی سقیم» (میں بیمار ہوں) اور اللہ کی قسم وہ بیمار نہ تھے اور نہ جھوٹ کہا؛ اور ابراہیم نے کہا: بلکہ بڑے بت نے اُنہیں توڑا ہے، حالانکہ اُس نے نہ توڑا تھا اور نہ اُنہوں نے جھوٹ کہا۔ اور حضرت یوسف نے کہا: «تم چور ہو»، اللہ کی قسم وہ چور نہ تھے اور یوسف نے بھی جھوٹ نہ کہا۔
بيان: لما كان سبب هذا الاعتراض عدم إذعان سالم بإمامته عليه السلام إذ بعد الإذعان بها يجب التسليم في كل ما يصدر عنهم عليهم السلام ذكر عليه السلام أولا أن سالما أي شي ء يريد مني من البرهان حتى يرجع إلى الإذعان فإن كان يكفي في ذلك إلقاء البراهين و الحجج و إظهار المعجزات فقد سمع و شاهد فوق ما يكفي لذلك و إن كان يريد أن أجي ء بالملائكة ليشاهدهم و يشهدوا على صدقي فهذا مما لم يأت به النبيون أيضا ثم رجع عليه السلام إلى تصحيح خصوص هذا الكلام بأن المراد إلقاء معاريض الكلام على وجه التقية و المصلحة و ليس هذا بكذب و قد صدر مثله عن الأنبياء عليهم السلام.
چونکہ اِس اعتراض کا سبب سالم کا آپ کی امامت پر اعتقاد نہ ہونا تھا ـ کیونکہ امامت پر اعتقاد کے بعد واجب ہے کہ ہر اُس چیز میں تسلیم ہوا جائے جو ائمہ علیہم السلام سے صادر ہو ـ امام علیہ السلام نے فرمایا: اول تو سالم ہم سے کون سی برہان چاہتا ہے تاکہ امامت کا معتقد ہو؟ اگر اِس بارے میں برہانوں اور حجتوں کا القا اور معجزات کا اظہار کافی ہے تو وہ ہم سے سن چکا اور کافی سے بھی زیادہ دیکھ چکا۔ اور اگر وہ چاہتا ہے کہ میں فرشتے لے آؤں تاکہ وہ اُنہیں دیکھے اور وہ ہماری بات کی سچی گواہی دیں، تو یہ ایسی چیز ہے جو پیغمبر بھی نہ لائے۔ پھر امام علیہ السلام اپنے کلام کی تصحیح کی طرف لوٹے، اِس طور پر کہ کلام کی مختلف صورتوں سے مراد تقیہ اور مصلحت کے پہلو پر کلام کے تعارض کو دُور کرنا ہے اور یہ جھوٹ نہیں؛ اور اِسی جیسا پیغمبروں سے بھی صادر ہوا ہے۔
«104»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّائِيِّ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام وَ هُوَ فِي الْحَبْسِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ امْرُؤٌ نَزَّلَكَ اللَّهُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ بِمَنْزِلَةٍ خَاصَّةٍ بِمَا أَلْهَمَكَ مِنْ رُشْدِكَ وَ بَصَّرَكَ مِنْ أَمْرِ دِينِكَ بِتَفْضِيلِهِمْ وَ رَدِّ الْأُمُورِ إِلَيْهِمْ وَ الرِّضَا بِمَا قَالُوا فِي كَلَامٍ طَوِيلٍ وَ قَالَ وَ ادْعُ إِلَى صِرَاطِ رَبِّكَ فِينَا مَنْ رَجَوْتَ إِجَابَتَهُ وَ وَالِ آلَ مُحَمَّدٍ وَ لَا تَقُلْ لِمَا بَلَغَكَ عَنَّا أَوْ نُسِبَ إِلَيْنَا هَذَا بَاطِلٌ وَ إِنْ كُنْتَ تَعْرِفُ خِلَافَهُ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لِمَ قُلْنَاهُ وَ عَلَی أَيِّ وَجْهٍ وَصَفْنَاهُ آمِنْ بِمَا أَخْبَرْتُكَ وَ لَا تُفْشِ مَا اسْتَكْتَمْتُكَ أُخْبِرُكَ أَنَّ مِنْ أَوْجَبِ حَقِّ أَخِيكَ أَنْ لَا تَكْتُمَهُ شَيْئاً يَنْفَعُهُ لَا مِنْ دُنْيَاهُ وَ لَا مِنْ آخِرَتِهِ.
رجال الکشی: علی بن سوید سائی کہتے ہیں: امام کاظم علیہ السلام نے جب وہ قید میں تھے، مجھے لکھا: اما بعد، تم ایک ایسے آدمی ہو جسے اللہ تعالیٰ نے آلِ محمد کے خاصوں میں سے بنایا، اِس سبب سے کہ اُس نے تمہیں رشد کا الہام کیا اور تمہیں امورِ دین میں بینا بنایا، کہ تم نے آلِ محمد کو دوسروں پر فضیلت دی اور کام اُنہی کی طرف لوٹاتے ہو اور اُن کے کلام پر راضی ہو… اور ایک طویل کلام کے بعد لکھا: جس سے بھی قبولیت کی امید رکھو، اُسے ہمارے بارے میں اپنے پروردگار کی راہ کی طرف بلاؤ، اور آلِ محمد علیہم السلام سے محبت رکھو۔ ہماری جو بھی بات تم تک پہنچے یا ہماری طرف منسوب کی جائے، یہ نہ کہو کہ یہ باطل ہے، خواہ تم اُس کے خلاف جانتے ہو؛ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ہم نے اُسے کس لیے کہا اور کس صورت میں بیان کیا۔ جو میں تمہیں خبر دوں اُس پر ایمان لاؤ اور جو میں تم سے چھپاؤں اُس کی تفتیش نہ کرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارے بھائی کے سب سے واجب حقوق میں سے تم پر یہ ہے کہ دنیا یا آخرت کی کوئی ایسی چیز جو اُس کے لیے فائدہ مند ہو، اُس سے نہ چھپاؤ۔
«105»- مِنْ كِتَابِ رِيَاضِ الْجِنَانِ، لِفَضْلِ اللَّهِ بْنِ مَحْمُودٍ الْفَارِسِيِّ رَوَى الْمُفَضَّلُ بْنُ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: