إِنَّ سَالِمَ بْنَ أَبِي حَفْصَةَ ١ يَرْوِي عَنْكَ أَنَّكَ تَتَكَلَّمُ عَلَى سَبْعِينَ وَجْهاً لَكَ مِنْهَا الْمَخْرَجُ فَقَالَ مَا يُرِيدُ سَالِمٌ مِنِّي أَ يُرِيدُ أَنْ أَجِي ءَ بِالْمَلَائِكَةِ فَوَ اللَّهِ مَا جَاءَ بِهِمُ النَّبِيُّونَ وَ لَقَدْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنِّی سَقِيمٌ وَ اللَّهِ مَا كَانَ سَقِيماً وَ مَا كَذَبَ وَ لَقَدْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ وَ مَا فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ وَ مَا كَذَبَ وَ لَقَدْ قَالَ يُوسُفُ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ وَ اللَّهِ مَا كَانُوا سَرَقُوا وَ مَا كَذَبَ ٢.
سالم بن ابی حفصہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ستر پہلوؤں سے بات کرتے ہیں اور ہر ایک کے لیے آپ کے پاس نکلنے کی راہ بھی ہے۔ فرمایا: سالم مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ کیا چاہتا ہے کہ میں فرشتے لے آؤں؟ اللہ کی قسم، انبیاء بھی فرشتے نہ لائے! ابراہیم نے کہا: «إِنِّی سَقِیمٌ» میں بیمار ہوں! حالانکہ وہ بیمار نہ تھے اور نہ جھوٹ کہا۔ اُنہوں نے کہا: «بَلْ فَعَلَهُ کَبِیرُهُمْ» یہ کام اُن کے بڑے بت نے کیا، حالانکہ ایسا نہ تھا اور ابراہیم نے جھوٹ بھی نہ کہا۔ اور یوسف نے کہا: «أَیَّتُهَا الْعِیرُ إِنَّکُمْ لَسارِقُونَ» اے قافلے والو! تم چور ہو، حالانکہ اُنہوں نے چوری نہ کی تھی اور یوسف نے بھی جھوٹ نہ کہا۔
«100»- ختص، الإختصاص شی، تفسير العياشي عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ عَلِيٍّ وَ مَثَلُنَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَثَلِ مُوسَى النَّبِيِّ عَلَى نَبِيِّنَا وَ آلِهِ وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ الْعَالِمِ حِينَ لَقِيَهُ وَ اسْتَنْطَقَهُ وَ سَأَلَهُ الصُّحْبَةَ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمَا مَا اقْتَصَّهُ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فِي كِتَابِهِ وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ قَالَ لِمُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسالاتِي وَ بِكَلامِي فَخُذْ ما آتَيْتُكَ وَ كُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ ثُمَّ قَالَ وَ كَتَبْنا لَهُ فِي الْأَلْواحِ مِنْ كُلِّ شَيْ ءٍ مَوْعِظَةً وَ تَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْ ءٍ وَ قَدْ كَانَ عِنْدَ الْعَالِمِ عِلْمٌ لَمْ يُكْتَبْ لِمُوسَى فِي الْأَلْوَاحِ وَ كَانَ مُوسَى يَظُنُّ أَنَّ جَمِيعَ الْأَشْيَاءِ الَّتِي يَحْتَاجُ إِلَيْهَا وَ جَمِيعَ الْعِلْمِ قَدْ كُتِبَ لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ كَمَا يَظُنُّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدَّعُونَ أَنَّهُمْ فُقَهَاءُ وَ عُلَمَاءُ وَ أَنَّهُمْ قَدْ أَثْبَتُوا جَمِيعَ الْعِلْمِ وَ الْفِقْهِ فِي الدِّينِ مِمَّا يَحْتَاجُ هَذِهِ الْأُمَّةُ إِلَيْهِ وَ صَحَّ لَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ عَلِمُوهُ وَ لَفَظُوهُ وَ لَيْسَ كُلُّ عِلْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله عَلِمُوهُ وَ لَا صَارَ إِلَيْهِمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ لَا عَرَفُوهُ وَ ذَلِكَ أَنَّ الشَّيْ ءَ مِنَ الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ وَ الْأَحْكَامِ يَرِدُ عَلَيْهِمْ فَيُسْأَلُونَ عَنْهُ وَ لَا يَكُونُ عِنْدَهُمْ فِيهِ أَثَرٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَنْسُبَهُمُ النَّاسُ إِلَى الْجَهْلِ وَ يَكْرَهُونَ أَنْ يُسْأَلُوا فَلَا يُجِيبُوا فَيَطْلُبَ النَّاسُ الْعِلْمَ مِنْ مَعْدِنِهِ فَلِذَلِكَ اسْتَعْمَلُوا الرَّأْيَ وَ الْقِيَاسَ فِي دِينِ اللَّهِ وَ تَرَكُوا الْآثَارَ وَ دَانُوا لِلَّهِ بِالْبِدَعِ وَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ فَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ سُئِلُوا عَنْ شَيْ ءٍ مِنْ
الاختصاص اور تفسیر عیاشی: اسحاق بن عمار نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا: علی بن ابی طالب علیہ السلام اور ہم ائمہ جو اُن کے بعد ہیں، اِس امت میں موسیٰ اور اُس عالم کی مانند ہیں جس سے موسیٰ علیہ السلام نے ملاقات کی اور اُس سے بات کی اور اُس سے ہمراہی کی اجازت چاہی؛ اور اِسی طرح اللہ نے اُن دونوں کا قصہ اپنی کتاب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے بیان کیا، جہاں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «إِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسالاتِی وَ بِکَلامِی فَخُذْ ما آتَیْتُکَ وَ کُنْ مِنَ الشَّاکِرِینَ» {فرمایا: اے موسیٰ! میں نے تمہیں اپنے پیغامات اور اپنے کلام سے لوگوں پر برگزیدہ کیا؛ پس جو میں نے تمہیں دیا وہ لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔} پھر فرمایا: «وَ کَتَبْنا لَهُ فِی الْأَلْواحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْعِظَةً وَ تَفْصِیلاً لِکُلِّ شَیْءٍ» {اور ہم نے اُس کے لیے الواح [تورات] میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔} اور اُس عالم کے پاس ایسا علم تھا جو موسیٰ کے لیے الواح میں نہ لکھا گیا تھا۔ موسیٰ گمان کرتے تھے کہ وہ تمام مسائل جن کی اُنہیں اپنی نبوت میں حاجت ہے اور تمام علوم اُن کے لیے الواح میں لکھ دیے گئے ہیں ـ جیسا کہ دعویدار فقہاء اور علماء ایسا گمان کرتے ہیں۔ وہ تصور کرتے ہیں کہ دین میں اِس امت کی ضرورت کا تمام فقہ اور علم اُن کے پاس ہے اور یہ علم اُنہوں نے رسول اللہ سے سیکھا اور یاد رکھا ہے، حالانکہ وہ اُس سب کا علم نہیں رکھتے جس کا رسول اللہ کو علم تھا اور اُن کے علم سے بے خبر ہیں اور اُنہیں نہیں پہچانتے۔ جب بھی اُن سے حلال و حرام اور احکام کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے اُس بارے میں کچھ روایت نہ ہوا ہو، تو اُنہیں شرم آتی ہے کہ لوگ اُنہیں جہل کی نسبت دیں اور اُنہیں ناگوار ہے کہ وہ کسی سوال کا جواب نہ دے سکیں۔ یوں لوگ علم کو اُس کی کان کے سوا کہیں اور سے طلب کرتے ہیں۔ وہ اپنی رائے اور قیاس اللہ کے دین میں داخل کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا کلام چھوڑ دیتے ہیں اور بدعت سے اللہ کا کام انجام دینا چاہتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے۔