Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 204

«82»- ير، بصائر الدرجات عَنْهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّ مِنْ قُرَّةِ الْعَيْنِ التَّسْلِيمَ إِلَيْنَا أَنْ تَقُولُوا لِكُلِّ مَا اخْتَلَفَ عَنَّا أَنْ تَرُدُّوا إِلَيْنَا.

بصائر الدرجات: جمیل بن درّاج امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے ہے ہمارے سامنے تسلیم ہونا، اور یہ کہ ہمارے بارے میں جس چیز میں اختلاف ہو اُسے ہماری طرف لوٹانا۔

«83»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَ تَدْرِی بِمَا أُمِرُوا أُمِرُوا بِمَعْرِفَتِنَا وَ الرَّدِّ إِلَيْنَا وَ التَّسْلِيمِ لَنَا.

بصائر الدرجات: زید کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ تمہیں ہماری شناخت، ہماری طرف لوٹانے اور ہمارے امر کے سامنے تسلیم ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

«84»- سن، المحاسن مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى وَ مَنْصُورِ بْنِ يُونُسَ عَنْ بَشِيرٍ الدَّهَّانِ عَنْ كَامِلٍ التَّمَّارِ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ أَ تَدْرِی مَنْ هُمْ قُلْتُ أَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الْمُسَلِّمُونَ إِنَّ الْمُسَلِّمِينَ هُمُ النُّجَبَاءُ وَ الْمُؤْمِنُ غَرِيبٌ ثُمَّ قَالَ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ.

المحاسن: کامل تمّار کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آیت «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» میں مؤمنوں سے مراد کون لوگ ہیں؟ میں نے عرض کیا: آپ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: اُس سے مراد تسلیم ہونے والے ہیں۔ یقیناً مسلمان نجیب اور گرامی ہیں؛ مؤمن غریب ہے، خوشا بحالِ غریبوں۔

«85»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ كَامِلٍ التَّمَّارِ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا كَامِلُ الْمُؤْمِنُ غَرِيبٌ الْمُؤْمِنُ غَرِيبٌ ثُمَّ قَالَ أَ تَدْرِي مَا قَوْلُ اللَّهِ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ قُلْتُ قَدْ أَفْلَحُوا فَازُوا وَ دَخَلُوا الْجَنَّةَ فَقَالَ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الْمُسَلِّمُونَ إِنَّ الْمُسَلِّمِينَ النُّجَبَاءُ ١.

المحاسن: کامل تمّار کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے کامل! مؤمن غریب ہے! مؤمن غریب ہے! پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: مؤمن کامیاب ہوئے اور جنت میں داخل ہو گئے۔ فرمایا: یعنی تسلیم ہونے والے کامیاب ہوئے؛ بے شک مسلمان ہی نجیب لوگ ہیں۔

«86»- سن، المحاسن أَبِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ حَيَّانَ ٢ عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ الْكِنَانِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَا أَبَا الصَّبَّاحِ إِنَّ الْمُسَلِّمِينَ هُمُ الْمُنْتَجَبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمْ أَصْحَابُ النَّجَائِبِ.

المحاسن: ابوصباح کنانی نے امام صادق علیہ السلام سے اُسی کی مانند روایت کی ہے، اِس اضافے کے ساتھ کہ آپ نے فرمایا: اے اباصباح! بے شک مسلمان قیامت کے دن وہی نجیب، گرامی اور برگزیدہ لوگ ہیں۔

«87»- سن، المحاسن بَعْضُ أَصْحَابِنَا رَفَعَهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام كُلُّ مَنْ تَمَسَّكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى فَهُوَ نَاجٍ قُلْتُ مَا هِيَ قَالَ التَّسْلِيمُ.

المحاسن: بعض اصحاب امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو عروۃ الوثقیٰ کو تھام لے وہ نجات پائے؛ اور عروۃ الوثقیٰ سے تمسک وہی ہمارے سامنے تسلیم ہونا ہے۔

«88»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ سَعْدَانَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً قَالَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ وَ التَّسْلِيمُ لَهُ فِي كُلِّ شَيْ ءٍ جَاءَ بِهِ.

المحاسن: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے آیت «إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِیماً» {اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! اُن پر درود بھیجو اور اُن کے حکم کے آگے پوری طرح گردن جھکاؤ۔} کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا: وہ پیغمبر پر درود بھیجنا اور ہر اُس چیز میں اُن کے سامنے تسلیم ہونا ہے جو وہ لائے۔

«89»- سن، المحاسن عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي الْجَارُودِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِ اللَّهِ فَلا وَ رَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوا تَسْلِيماً قَالَ التَّسْلِيمُ الرِّضَا وَ الْقُنُوعُ بِقَضَائِهِ.

المحاسن: ابوجارود امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے آیت «فَلا وَ رَبِّکَ لا یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیما شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لا یَجِدُوا فِی أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوا تَسْلِیماً» {مگر ایسا نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم، وہ ایمان نہ لائیں گے جب تک اُس بارے میں جو اُن کے درمیان اختلاف ہے تمہیں منصف نہ بنائیں؛ پھر جو فیصلہ تم کرو اُس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی [اور تردد] نہ پائیں، اور پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں۔} کے بارے میں فرمایا: وہی تسلیم، رضا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے فیصلے پر راضی ہونا ہے۔

(١)1- الظاهر اتّحاده مع ما تقدم تحت الرقم 84 و 68 و 66 و اختلاف التعابير جاءت من قبل النقل بالمعنىظاہراً اُس کے ساتھ متحد ہے جو نمبر ۸۴، ۶۸ اور ۶۶ کے تحت گزرا، اور تعبیروں کا اختلاف نقل بالمعنیٰ سے پیدا ہوا ہے۔
(٢)2- و في نسخة: عن سلمة بن حنّان.اور ایک نسخے میں: «عن سلمة بن حنّان»۔