«49»- ير، بصائر الدرجات يَعْقُوبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُخَلَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الشَّامِيِّ ١ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: كُنْتُ مَعَهُ جَالِساً فَرَأَيْتُ أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام قَدْ قَامَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَ هُوَ يَقُولُ يَا أَبَا الرَّبِيعِ حَدِيثٌ تَمْضَغُهُ الشِّيعَةُ بِأَلْسِنَتِهَا لَا تَدْرِي مَا كُنْهُهُ قُلْتُ مَا هُوَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ قَوْلُ أَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ يَا أَبَا الرَّبِيعِ أَ لَا تَرَى أَنَّهُ يَكُونُ مَلَكٌ وَ لَا يَكُونُ مُقَرَّباً وَ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مُقَرَّبٌ وَ قَدْ يَكُونُ نَبِيٌّ وَ لَيْسَ بِمُرْسَلٍ وَ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مُرْسَلٌ وَ قَدْ يَكُونُ مُؤْمِنٌ وَ لَيْسَ بِمُمْتَحَنٍ وَ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ.
بصائر الدرجات: ابوربیع شامی کہتے ہیں: میں امام باقر علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا تھا۔ امام اپنی جگہ سے اٹھے، سر اٹھایا اور فرمایا: اے ابوربیع! ایک حدیث شیعوں میں رائج ہے اور وہ اُسے زبان پر لاتے ہیں، مگر تم نہیں جانتے کہ اُس کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں، وہ کون سی ہے؟ فرمایا: میرے جد علی بن ابی طالب علیہ السلام کا قول جس میں فرمایا: ہمارا امر سخت اور دشوار ہے؛ سوائے اللہ کے مقرب فرشتے یا مرسل نبی یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے آزمایا، کوئی اُس کے تحمل کی تاب نہیں رکھتا۔ کیونکہ بعض فرشتے مقرب نہیں اور بعض انبیاء مرسل نہیں، جیسا کہ بعض مؤمن آزمائے نہیں گئے۔
يج، الخرائج و الجرائح محمد بن علي بن المحسن عن الشيخ أبي جعفر الطوسي عن أحمد بن الوليد عن أبيه عن الصفار عن ابن يزيد مثله.
الخرائج و الجرائح: اوپر والی حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔
«50»- ختص، الإختصاص ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَعْيَنَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَ عَلِيُّ بْنُ حَنْظَلَةَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَسَأَلَهُ عَلِيُّ بْنُ حَنْظَلَةَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَ فِيهَا فَقَالَ عَلِيٌّ فَإِنْ كَانَ كَذَا وَ كَذَا فَأَجَابَهُ فِيهَا بِوَجْهٍ آخَرَ وَ إِنْ كَانَ كَذَا وَ كَذَا فَأَجَابَهُ بِوَجْهٍ آخَرَ حَتَّى أَجَابَهُ فِيهَا بِأَرْبَعَةِ وُجُوهٍ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ عَلِيُّ بْنُ حَنْظَلَةَ قَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَدْ أَحْكَمْنَاهُ فَسَمِعَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ لَا تَقُلْ هَكَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ فَإِنَّكَ رَجُلٌ وَرِعٌ إِنَّ مِنَ الْأَشْيَاءِ أَشْيَاءَ ضَيِّقَةً وَ لَيْسَ تَجْرِي إِلَّا عَلَى وَجْهٍ وَاحِدٍ مِنْهَا وَقْتُ الْجُمُعَةِ لَيْسَ لِوَقْتِهَا إِلَّا وَاحِدٌ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَ مِنَ الْأَشْيَاءِ أَشْيَاءَ مُوَسَّعَةً تَجْرِي عَلَى وُجُوهٍ كَثِيرَةٍ وَ هَذَا مِنْهَا وَ اللَّهِ إِنَّ لَهُ عِنْدِي سَبْعِينَ وَجْهاً ٢».
الاختصاص اور بصائر الدرجات: عبدالاعلیٰ بن اعین کہتے ہیں: میں اور علی بن حنظلہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابن حنظلہ نے ایک مسئلہ پوچھا، امام نے جواب دیا۔ اُس نے مسئلے کی صورت بدل دی، امام نے ایک اور طرح جواب دیا۔ اِسی طرح سوال و جواب جاری رہا یہاں تک کہ آپ نے چار طرح سے جواب دیا۔ ـ راوی کہتے ہیں: ـ ابن حنظلہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے ابومحمد! ہم نے اُنہیں پکڑ لیا (اعتراض کے طور پر اُن سے مسئلہ پوچھتے ہیں اور وہ کئی طرح جواب دیتے ہیں)۔ امام نے اُن کی بات سنی اور فرمایا: ایسا نہ کہو! تم باتقویٰ آدمی ہو۔ بعض چیزوں کا جواب منحصر اور صرف ایک ہوتا ہے، جیسے جمعے کا وقت جو صرف زوالِ آفتاب کے وقت ہے؛ اور بعض چیزوں کے، اُن کی وسعت کے سبب، کئی جواب دیے جا سکتے ہیں، جیسے یہی تمہارا سوال۔ اللہ کی قسم، اُس کے لیے میرے پاس ستر جواب موجود ہیں۔
بيان: لعل ذكر وقت الجمعة على سبيل التمثيل و الغرض بيان أنه لا ينبغي مقايسة
شاید جمعے کے وقت کا ذکر بطورِ مثال ہو اور مقصد یہ بیان کرنا ہو کہ سزاوار نہیں کہ