Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 195

عن الركوب و الحمل و ظاهر أن المراد به هنا الامتناع عن الإدراك و الفهم و ظاهره شمول كل من هو غيرهم فقوله نقطع الحديث أي صدر الحديث عمن ذكر بعده من الملك المقرب و النبي المرسل و لا يبعد أن يكون من مستعملا بمعنى ما و يحتمل أن يكون المراد بقطع الحديث عمن دونه عدم المبالاة بإنكار من لا يفهمه و ينكره فالمراد بمن دون الحديث من لا يدركه عقله و الأول أظهر و قول المفضل لا يتعلق به شي ء المراد به إما عدم تعلق الفهم و الإدراك به أو عدم ورود شبهة و اعتراض عليه هذا غاية ما وصل إليه نظري القاصر في حل تلك العبارات التي تحيرت الأفهام الثاقبة فيها.

کرتا ہے، اور یہ کافی ہے۔ کیونکہ «صعب» وہ اونٹ ہے جو سوار ہونے اور بوجھ اٹھانے سے مانع ہوتا ہے (چموش ہے)، اور یہ مفہوم روشن ہے کہ یہاں مراد ادراک اور سمجھنے سے امتناع ہے، اور اُس کا ظاہر عمومیت رکھتا ہے اور ہر اُس شخص کو شامل ہے جو غیر معصوم ہو۔ پس راوی کا یہ قول «نقطع الحدیث» یعنی ہم نے حدیث کاٹ دی، دو احتمال رکھتا ہے: ۱۔ میں نے حدیث کے اول سے وہ چیز اٹھا دی جو بعد میں ذکر ہوتی، اور وہ عبارت «الملک المقرب و النبی المرسل» تھی؛ اور اِس صورت میں بعید نہیں کہ «من ذکرہ» میں «من» «ما» کے معنی میں ہو، یعنی «عمّا ذکرہ»۔ ۲۔ حدیث کو اُن لوگوں سے کاٹنے سے مراد جو اُن حضرات سے نیچے ہیں، اُن لوگوں کے انکار پر توجہ نہ کرنا اور اہتمام نہ دینا ہے جو نہیں سمجھتے اور انکار کرتے ہیں؛ پس عبارت «من دون الحدیث» سے مقصود وہ لوگ ہیں جن کی عقلیں اُس کے ادراک کی طاقت نہیں رکھتیں؛ اور پہلا احتمال اظہر اور روشن تر ہے۔ اور مفضل کا وہ قول جو اُنہوں نے لفظ «أجرد» کی تفسیر میں کہا: اُس سے آگے اور پیچھے سے کوئی چیز متعلق نہیں ہوتی۔ اِس عبارت «لا یتعلق بہ شیء» سے مقصود دو احتمالوں میں سے ایک ہے: یا مراد یہ ہے کہ حدیث سے فہم و ادراک متعلق نہیں ہوتا، کیونکہ وہ غیر معصوم کے لیے قابلِ ادراک نہیں؛ یا مراد یہ ہے کہ وہ قابلِ اعتراض و شبہ نہیں (اصل مطلب صحیح ہے اور ہماری فہم قاصر)۔ علامہ مجلسی کہتے ہیں: یہ وہ آخری بات تھی جو اُن عبارتوں کے حل میں، جن میں بلند عقلیں اور فہمیں حیران رہ جاتی ہیں، میری ناقص نظر میں آئی۔

«40»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الْبِلَادِ عَنْ سَدِيرٍ الصَّيْرَفِيِّ١قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَعْرِضُ عَلَيْهِ مَسَائِلَ قَدْ أَعْطَانِيهَا أَصْحَابُنَا إِذْ خَطَرَتْ بِقَلْبِي مَسْأَلَةٌ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ مَسْأَلَةٌ خَطَرَتْ بِقَلْبِي السَّاعَةَ قَالَ أَ لَيْسَتْ فِي الْمَسَائِلِ قُلْتُ لَا قَالَ وَ مَا هِيَ قُلْتُ قَوْلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَعْرِفُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ فَقَالَ نَعَمْ إِنَّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُقَرَّبِينَ وَ غَيْرَ مُقَرَّبِينَ وَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مُرْسَلِينَ وَ غَيْرَ مُرْسَلِينَ وَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مُمْتَحَنِينَ وَ غَيْرَ مُمْتَحَنِينَ وَ إِنَّ أَمْرَكُمْ هَذَا عُرِضَ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُقَرَّبُونَ وَ عُرِضَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُرْسَلُونَ وَ عُرِضَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُمْتَحَنُونَ.

بصائر الدرجات: سدیر صیرفی کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کے سامنے وہ مسائل پیش کیے جو اصحاب کے درمیان زیرِ بحث تھے، اور ایک مسئلہ جو میرے دل میں آیا۔ امام نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہی امیر المؤمنین علیہ السلام کی حدیث جس میں فرمایا: ہماری ولایت سخت اور دشوار ہے اور اُس کا تحمل سوائے مقرب فرشتے یا مرسل پیغمبر یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا، کوئی نہیں کر سکتا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسا ہی ہے: فرشتے مقرب اور غیر مقرب ہیں، انبیاء مرسل اور غیر مرسل ہیں، اور مؤمن بھی آزمائے ہوئے اور غیر آزمائے ہوئے ہیں؛ اور اِس امر (امامت و ولایت) کا اقرار سوائے مقرب فرشتوں، مرسل انبیاء اور ایمان کی راہ میں آزمائے ہوئے مؤمنوں کے کسی نے نہ کیا۔

«41»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَنْ كَتَبَ اللَّهُ فِي قَلْبِهِ الْإِيمَانَ.

بصائر الدرجات: ابوبصیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہمارا امر (ولایت) سخت اور دشوار ہے، اُس کا تحمل سوائے اُس کے جس کے دل میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہو، کوئی نہیں کر سکتا۔

«42»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَ أَبُو طَالِبٍ جَمِيعاً عَنْ حَنَانٍ ٢ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَمْسَتْ شِيعَتُنَا وَ أَصْبَحَتْ عَلَى أَمْرٍ مَا أَقَرَّ بِهِ إِلَّا مَلَكٌ

بصائر الدرجات: حنان کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اے ابوالفضل! ہمارے شیعوں نے ایک ایسے امر (ولایت) پر صبح و شام کی جس کا اقرار سوائے مقرب فرشتے

(١)1- بفتح السين المهملة و كسر الدال المهملة و سكون الياء بعدها راء مهملة هو سدير بن حكيم ابن صهيب أبو الفضل، عده الشيخ في رجاله من أصحاب السجّاد و الباقر و الصادق عليهم السلام. و في الكشّيّ روايتان تدلّ علی مدحه فليراجع.سینِ بے نقطہ کے فتحہ، دالِ بے نقطہ کے کسرہ، یاء کے سکون اور اُس کے بعد راءِ بے نقطہ کے ساتھ؛ وہ سدیر بن حکیم بن صہیب، ابوالفضل ہیں۔ شیخ نے اُنہیں اپنی رجال میں امام سجاد، امام باقر اور امام صادق علیہم السلام کے اصحاب میں شمار کیا۔ اور کشّی میں دو روایتیں ہیں جو اُن کی مدح پر دلالت کرتی ہیں؛ اُن کی طرف رجوع کیا جائے۔
(٢)2- هو حنان بن سدير بن حكيم بن صهيب.وہ حنان بن سدیر بن حکیم بن صہیب ہیں۔