لِي جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ ذَكْوَانُ ذَكِيٌّ أَبَداً قُلْتُ أَجْرَدُ قَالَ طَرِيٌّ أَبَداً قُلْتُ مُقَنَّعٌ قَالَ مَسْتُورٌ.
آپ پر فدا ہوں! میرے لیے اُس کی تفسیر فرمائیے۔ فرمایا: «ذکوان» ہمیشہ «ذکی» ہے جو مسلسل نور پاشی کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: «أجرد» کیا؟ فرمایا: ہمیشہ تازہ ہے۔ میں نے عرض کیا: «مقنّع» کیا؟ فرمایا: ہمیشہ پوشیدہ ہے۔
بيان: الذكاء التوقد و الالتهاب أي ينور الخلق دائما و الأجرد الذي لا شعر على بدنه و مثل هذا يكون طريا حسنا فاستعير للطراوة و الحسن.
«الذکاء» آگ کا وہ شعلہ جو ہمیشہ لوگوں کے لیے نور افشانی کرتا ہے۔ «الأجرد» وہ چیز جس کے بدن پر بال نہ ہوں، اور ایسی چیز ہمیشہ تازہ اور نیکو ہوتی ہے (تازگی اور خوبی کا کنایہ)۔
«33»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: إِنَّ حَدِيثَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ أَجْرَدُ ذَكْوَانُ وَعْرٌ شَرِيفٌ كَرِيمٌ فَإِذَا سَمِعْتُمْ مِنْهُ شَيْئاً وَ لَانَتْ لَهُ قُلُوبُكُمْ فَاحْتَمِلُوهُ وَ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَ إِنْ لَمْ تَحْتَمِلُوهُ وَ لَمْ تُطِيقُوهُ فَرُدُّوهُ إِلَى الْإِمَامِ الْعَالِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عليهم السلام فَإِنَّمَا الشَّقِيُّ الْهَالِكُ الَّذِي يَقُولُ وَ اللَّهِ مَا كَانَ هَذَا ثُمَّ قَالَ يَا جَابِرُ إِنَّ الْإِنْكَارَ هُوَ الْكُفْرُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ.
بصائر الدرجات: جابر امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہماری حدیث سخت اور دشوار، نیکو اور پُرطراوت، ہموار سرزمین، شریف، کریم اور مشکل ہے۔ جب تم ہماری حدیث میں سے کچھ سنو اور تمہارا دل نرم ہو جائے تو اُسے قبول کر لو اور اللہ کا شکر کرو؛ اور اگر تم اُس کی طاقت اور تحمل نہیں رکھتے تو عالمِ آلِ محمد کی طرف لوٹا دو۔ بدبخت وہی ہلاک ہونے والا ہے جو کہتا ہے: اللہ کی قسم ایسا نہیں ـ اور انکار کرتا ہے، اور انکار اللہِ بزرگ کا کفر ہے۔
بيان: الوعر ضد السهل من الأرض.
«الوعر» سخت زمین کو کہتے ہیں۔
«34»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ عَنْ أَبِي الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ حَدِيثَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ شَرِيفٌ كَرِيمٌ ذَكْوَانُ ذَكِيٌّ وَعْرٌ لَا يَحْتَمِلُهُ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ لَا مُؤْمِنٌ مُمْتَحَنٌ قُلْتُ فَمَنْ يَحْتَمِلُهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ مَنْ شِئْنَا يَا أَبَا الصَّامِتِ قَالَ أَبُو الصَّامِتِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لِلَّهِ عِبَاداً هُمْ أَفْضَلُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ.
بصائر الدرجات: ابوصامت کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہماری حدیث سخت اور دشوار، شریف، کریم، مشکل، نورانی اور ہموار ہے؛ سوائے مقرب فرشتے یا مرسل نبی یا آزمائے ہوئے مؤمن بندے کے، کوئی اُس کے تحمل کی تاب نہیں رکھتا۔ میں نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! تو پھر اُس کا تحمل کون رکھتا ہے؟ فرمایا: اے ابوصامت! جسے ہم چاہیں۔ ابوصامت کہتے ہیں: میں نے گمان کیا کہ اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو مقرب فرشتے، مرسل نبی اور آزمائے ہوئے مؤمن سے افضل ہیں۔
بيان: لعل المراد الإمام الذي بعدهم فإنه أفضل من الثلاثة و استثناء نبينا صلى اللّٰه عليه و آله ظاهر و المراد بهذا الحديث الأمور الغريبة التي لا يحتملها غيرهم عليهم السلام ١.
شاید امام علیہ السلام کی اُن تینوں کو ردیف کرنے سے مراد یہ ہو کہ مؤمن اُن میں بہترین ہے، اور ہمارے پیغمبر کا استثنا واضح ہے۔ یہاں حدیث سے مراد وہ عجیب امور ہیں جن کا ائمہ معصومین علیہم السلام کے سوا کوئی تحمل نہیں رکھتا۔
«35»- ير، بصائر الدرجات إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْ صَبَّاحٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ٢ عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَ
بصائر الدرجات: اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں: میں نے علی علیہ السلام سے سنا، فرمایا: