Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 190

عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: حَدِيثُنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ مُؤْمِنٌ مُمْتَحَنٌ أَوْ مَدِينَةٌ حَصِينَةٌ فَإِذَا وَقَعَ أَمْرُنَا وَ جَاءَ مَهْدِيُّنَا عليه السلام كَانَ الرَّجُلُ مِنْ شِيعَتِنَا أَجْرَأَ مِنْ لَيْثٍ وَ أَمْضَی مِنْ سِنَانٍ يَطَأُ عَدُوَّنَا بِرِجْلَيْهِ وَ يَضْرِبُهُ بِكَفَّيْهِ وَ ذَلِكَ عِنْدَ نُزُولِ رَحْمَةِ اللَّهِ وَ فَرَجِهِ عَلَى الْعِبَادِ.

سعد امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہماری حدیث سخت اور دشوار ہے؛ سوائے مقرب فرشتے، نبیِ مرسل، آزمائے ہوئے مؤمن، یا قلعہ دار شہر کے، کوئی اُس کا تحمل نہیں رکھتا۔ جب ہمارا امر واقع ہو اور ہمارا مہدی آئے تو ہمارے شیعوں میں سے [ہر] آدمی شیر سے زیادہ بہادر اور نیزے سے زیادہ کاٹنے والا ہو گا، جو ہمارے دشمنوں کو اپنے پاؤں تلے کچلے گا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے مارے گا؛ اور یہ اللہ کی رحمت کے نزول اور بندوں پر اُس کی کشائش کا وقت ہے۔

«23»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ حَدِيثَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا ثَلَاثٌ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَ لَا تَرَى أَنَّهُ اخْتَارَ لِأَمْرِنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَ مِنَ النَّبِيِّينَ الْمُرْسَلِينَ وَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُمْتَحَنِينَ ١.

بصائر الدرجات: ابوحمزہ ثمالی نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ سے سنا، ہمیشہ فرماتے تھے: ہماری حدیث سخت اور دشوار ہے؛ سوائے مقرب فرشتے، نبیِ مرسل اور آزمائے ہوئے مؤمن کے، کوئی اُس کا تحمل نہیں رکھتا۔ پھر فرمایا: اے ابوحمزہ! کیا تم نہیں سوچتے کہ مقرب فرشتوں، مرسل انبیاء اور آزمائے ہوئے مؤمنوں میں سے کچھ ہمارے امر کے لیے چنے گئے ہیں؟

«24»- ير، بصائر الدرجات إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْقِيِّ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ أَوْ غَيْرِهِ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ حَدِيثَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا صُدُورٌ مُنِيرَةٌ أَوْ قُلُوبٌ سَلِيمَةٌ وَ أَخْلَاقٌ حَسَنَةٌ إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ مِنْ شِيعَتِنَا الْمِيثَاقَ كَمَا أَخَذَ عَلَى بَنِي آدَمَ حَيْثُ يَقُولُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلى أَنْفُسِهِمْ أَ لَسْتُ بِرَبِّكُمْ قالُوا بَلى فَمَنْ وَفَى لَنَا وَفَى اللَّهُ لَهُ بِالْجَنَّةِ وَ مَنْ أَبْغَضَنَا وَ لَمْ يُؤَدِّ إِلَيْنَا حَقَّنَا فَفِي النَّارِ خَالِداً مُخَلَّداً.

بصائر الدرجات: ابن سنان یا اُن کے علاوہ کوئی ایک مرفوع حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہماری حدیث سخت اور دشوار ہے؛ سوائے نورانی سینوں، سالم دلوں اور نیک خُلق والوں کے، کوئی اُس کا تحمل نہیں کرتا۔ اللہ نے ہمارے شیعوں سے عہد لیا، جیسا کہ اُس نے بنی آدم سے بھی عہد لیا، جب فرمایا: «وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قالُوا بَلی» {اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور اُنہیں اُن کے اپنے اوپر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں؟ اُنہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی۔} پس جو ہمارے لیے اور راہِ خدا میں وفا کرے، اُس کے لیے جنت ہے؛ اور جو ہم سے بغض رکھے اور ہمارا حق ادا نہ کرے، وہ جہنم میں ہو گا۔

«25»- ير، بصائر الدرجات عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ غَيْرِهِ عَنْ هَارُونَ عَنِ ابْنِ صَدَقَةَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ: ذُكِرَ التَّقِيَّةُ يَوْماً عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عليهما السلام فَقَالَ وَ اللَّهِ لَوْ عَلِمَ أَبُو ذَرٍّ مَا فِي قَلْبِ سَلْمَانَ لَقَتَلَهُ وَ لَقَدْ آخَی رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بَيْنَهُمَا فَمَا ظَنُّكُمْ بِسَائِرِ الْخَلْقِ إِنَّ عِلْمَ الْعَالِمِ صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ قَالَ وَ إِنَّمَا صَارَ سَلْمَانُ مِنَ الْعُلَمَاءِ لِأَنَّهُ امْرُؤٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلِذَلِكَ نَسَبَهُ إِلَيْنَا.

بصائر الدرجات: ابوجعفر روایت کرتے ہیں کہ ایک دن امام سجاد علیہ السلام کے پاس تقیہ کے بارے میں کوئی بات کہی گئی۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم، اگر ابوذر جانتے کہ سلمان کے دل میں کیا ہے تو اُنہیں قتل کر دیتے، حالانکہ پیغمبر نے اُن دونوں کو بھائی بنایا تھا۔ باقی لوگوں کا حساب تو واضح ہے۔ ہمارا علم و دانش سخت اور دشوار ہے؛ سوائے نبیِ مرسل، مقرب فرشتے اور ایمان کی راہ میں آزمائے ہوئے بندے کے، کوئی اُس کا تحمل نہیں رکھتا۔ اگر سلمان علماء میں سے ہوئے تو اِس دلیل سے کہ وہ ہم اہلِ بیت میں سے ایک آدمی اور ہماری طرف منسوب تھے۔

«26»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ عِيسَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ٢ عَنِ الْمُحَارِبِيِّ ٣ عَنِ الثُّمَالِيِّ عَنْ

بصائر الدرجات: ابوحمزہ ثمالی

(١)1- الظاهر اتّحاده مع الحديث 26ظاہراً حدیث ۲۶ کے ساتھ متحد ہے۔
(٢)2- الكوفيّ الثقة جليل القدر.کوفی، ثقہ اور جلیل القدر۔
(٣)3- هو ذريح بن محمّد بن يزيد؛ أبو الوليد المحاربي الكوفيّ الثقة من أصحاب أبي عبد اللّٰه و أبي الحسن عليهما السلام.وہ ذریح بن محمد بن یزید، ابوالولید محاربی کوفی، ثقہ، ابوعبداللہ اور ابوالحسن علیہما السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔