بيان: على حشاياه أي على فرشه المحشوة و يظهر من آخر الخبر أن المراد التكذيب الذي يكون بمحض الرأي من غير أن يعرضه على الآيات و الأخبار المتواترة و يحتمل أن يكون المراد لا تعملوا بما لا يوافق الحق الذي في أيديكم و لا تكذبوا الخبر أيضا إذ لعله كان موافقا للحق و لم تعرفوا معناه بل ردوا علمه إلى من يعلمه.
اوپر والی حدیث کے دو احتمال ہیں: ۱۔ مراد وہ تکذیب ہے جو رائے اور خواہش سے اور آیات اور متواتر روایات پر پیش کیے بغیر ہو۔ ۲۔ تکذیب سے مراد یہ ہو کہ تم اُس حق کے سوا جو تمہارے پاس ہے عمل نہ کرو اور خبر کی تکذیب بھی نہ کرو ـ شاید وہ حدیث حق کے موافق ہو اور تم نے اُس کا معنی نہ سمجھا ہو؛ بلکہ اُس کا عمل اُس کی طرف لوٹاؤ جو جانتا ہے۔
«20»- فِي الْأَرْبَعِمِائَةِ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِذَا سَمِعْتُمْ مِنْ حَدِيثِنَا مَا لَا تَعْرِفُونَ فَرُدُّوهُ إِلَيْنَا وَ قِفُوا عِنْدَهُ وَ سَلِّمُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْحَقُّ وَ لَا تَكُونُوا مَذَايِيعَ عَجْلَي.
حضرت علی علیہ السلام نے حدیثِ چہارصد میں فرمایا: جب تم ہماری حدیث میں سے کوئی ایسی بات سنو جسے تم نہیں پہچانتے تو اُسے ہماری طرف لوٹاؤ اور اُس میں توقف کرو اور تسلیم رہو یہاں تک کہ حق تمہارے لیے واضح ہو جائے؛ اور تم جلد بازی سے فاش کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
بيان: المذاييع جمع مذياع من أذاع الشي ء إذا أفشاه.
«المذاییع» «مذیاع» کی جمع ہے، بابِ اذاعہ سے، بمعنیٔ فاش کرنا۔
«21»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ مَرْوَانَ عَنِ الْمُنَخَّلِ ١ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ حَدِيثَ آلِ مُحَمَّدٍ صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يُؤْمِنُ بِهِ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ فَمَا وَرَدَ عَلَيْكُمْ ٢ مِنْ حَدِيثِ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَلَانَتْ لَهُ قُلُوبُكُمْ وَ عَرَفْتُمُوهُ فَاقْبَلُوهُ ٣ وَ مَا اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُكُمْ وَ أَنْكَرْتُمُوهُ فَرُدُّوهُ إِلَی اللَّهِ وَ إِلَی الرَّسُولِ وَ إِلَی الْعَالِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عليهم السلام وَ إِنَّمَا الْهَالِكُ أَنْ يُحَدَّثَ بِشَيْ ءٍ مِنْهُ لَا يَحْتَمِلُهُ فَيَقُولَ وَ اللَّهِ مَا كَانَ هَذَا شَيْئاً٤وَ الْإِنْكَارُ هُوَ الْكُفْرُ.
بصائر الدرجات: جابر کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: آلِ محمد کی حدیث سخت اور دشوار ہے؛ اُس پر کوئی ایمان نہیں لاتا سوائے مقرب فرشتے یا مرسل پیغمبر یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کی راہ میں آزمایا۔ اگر تم نے آلِ محمد سے کوئی ایسی حدیث سنی جس سے تمہارا دل نرم ہوا اور تم نے اُسے پہچانا تو قبول کر لو؛ لیکن اگر تم نے انکار کیا یا تمہارے دل نے اُس کے قبول سے انکار کیا اور وہ اُسے ناخوشگوار لگی تو وہ حدیث اللہ، رسول اور عالمِ آلِ محمد کی طرف لوٹا دو۔ ہلاکت اُن کے لیے ہے جو کوئی حدیث سنیں اور اُس کا تحمل نہ رکھیں اور کہیں: اللہ کی قسم یہ کچھ نہیں ـ اور اِس طرح انکار کریں، اور انکار ہی کفر ہے۔
يج، الخرائج و الجرائح أخبرنا الشيخ علي بن عبد الصمد عن أبيه عن علي بن الحسين الجوزي عن الصدوق عن أبيه عن سعد عن ابن أبي الخطاب مثله بيان الاشمئزاز الانقباض و الكراهة.
الخرائج و الجرائح: اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔ «اشمئزاز» کا معنی انقباض، سکڑنا اور کراہت ہے۔
«22»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ حَمَّادٍ الطَّائِيِ
بصائر الدرجات: