Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 188

وَ لَا قَدَرِيٌّ ١ وَ لَا خَارِجِيٌّ ٢ نَسَبَهُ إِلَيْنَا فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّهُ شَيْ ءٌ مِنَ الْحَقِّ فَتُكَذِّبُوا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فَوْقَ عَرْشِهِ.

یا قدری مسلک یا خارجی مرام والا تمہارے لیے لائے اور ہماری طرف منسوب کرے، اُس کی تکذیب نہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے؛ شاید وہ حق اور صحیح حدیث ہو، تب اِس طرح تم نے اللہ عزوجل کو اُس کے عرش کے اوپر جھٹلایا۔

سن، المحاسن ابن بزيع عن ابن بشير عن أبي بصير مثله بيان أي مستوليا على عرشه أو كائنا على عرش العظمة و الجلال لا العرش الجسماني.

المحاسن: اوپر والی حدیث کی مانند آیا ہے۔ یعنی وہ خدا جو اپنے عرش پر تسلط رکھتا ہے، یا جو عظمت و جلالت کے عرش پر ہے، نہ کہ جسمانی عرش۔

«17»- مع، معاني الأخبار أَبِي وَ ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ الْجَازِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَأَلَهُ يَعْنِي الصَّادِقَ عليه السلام هَلْ يَكُونُ كُفْرٌ لَا يَبْلُغُ الشِّرْكَ قَالَ إِنَّ الْكُفْرَ هُوَ الشِّرْكُ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَ قَالَ نَعَمْ الرَّجُلُ يَحْمِلُ الْحَدِيثَ إِلَى صَاحِبِهِ فَلَا يَعْرِفُهُ فَيَرُدُّهُ عَلَيْهِ فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا وَ لَمْ يَبْلُغِ الشِّرْكَ.

معانی الأخبار: عبدالغفّار جازی کہتے ہیں: کسی نے مجھے بتایا کہ اُس نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیا کوئی ایسا کفر ہے جو شرک کی حد تک نہ پہنچے؟ فرمایا: البتہ کفر وہی شرک ہے۔ پھر آپ اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے، اور مجھ پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا: ہاں، ایک شخص اپنے دوست کے لیے کوئی حدیث لے جاتا ہے، وہ اُس کی قدر نہیں کرتا اور اُسے لوٹا دیتا ہے؛ پس یہ ایک نعمت ہے جس کی اُس نے ناشکری کی، مگر وہ شرک کی حد تک نہیں پہنچی۔

بيان: الجواب الأول مبني على ما هو المتبادر من لفظ الكفر و الجواب الثاني على معنى آخر للكفر فلا تنافي بينهما و إنما أفاده ثانيا لئلا يتوهم السائل أن الكفر بجميع معانيه يرادف الشرك.

پہلا جواب لفظِ کفر سے متبادر معنی کی بنا پر ہے اور دوسرا جواب لفظِ کفر کے ایک اور معنی پر؛ پس دونوں جوابوں میں منافات نہیں۔ امام علیہ السلام نے دوسری بار جواب دیا تاکہ سائل یہ گمان نہ کرے کہ لفظِ کفر ہر جگہ لفظِ «شرک» کا مترادف ہے۔

«18»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي لي، الأمالي للصدوق مع، معاني الأخبار فِي خَبَرِ الشَّيْخِ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَيُّ الْأَعْمَالِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ التَّسْلِيمُ وَ الْوَرَعُ.

امالیِ شیخ طوسی، امالیِ صدوق، معانی الأخبار: شامی بوڑھے کی خبر میں آیا ہے کہ زید بن صوحان نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: کون سا عمل اللہ کے نزدیک بڑا ہے؟ فرمایا: تسلیم اور ورع۔

«19»- مع، معاني الأخبار أَبِي عَنْ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارِ عَنْ سَهْلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدِّهْقَانِ عَنْ دُرُسْتَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَلَا هَلْ عَسَى رَجُلٌ يُكَذِّبُنِي وَ هُوَ عَلَى حَشَايَاهُ مُتَّكِئٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَنِ الَّذِي يُكَذِّبُكَ قَالَ الَّذِي يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ فَيَقُولُ مَا قَالَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ قَطُّ فَمَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ حَدِيثٍ مُوَافِقٍ لِلْحَقِّ فَأَنَا قُلْتُهُ وَ مَا أَتَاكُمْ عَنِّي مِنْ حَدِيثٍ لَا يُوَافِقُ الْحَقَّ فَلَمْ أَقُلْهُ وَ لَنْ أَقُولَ إِلَّا الْحَقَّ.

معانی الأخبار: عبدالحمید نے امام کاظم علیہ السلام سے روایت کی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: دھیان دو! کیا ممکن ہے کہ کوئی مجھے جھوٹ گوئی سے متہم کرے؟ ـ جبکہ آپ اپنی جگہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ حاضرین نے عرض کیا: اے پیغمبرِ خدا! کون ہے جو آپ کی تکذیب کرے؟ فرمایا: وہ جس تک میری کوئی حدیث پہنچے اور وہ کہے: پیغمبرِ خدا نے ہرگز یہ نہیں کہا۔ پس جو حدیث بھی تمہارے لیے مجھ سے نقل کی جائے، اُسے تولو: اگر حق کے موافق ہو تو وہ بات مجھ سے ہے؛ اور جو حدیث بھی تمہارے لیے مجھ سے نقل کی جائے اور حق سے سازگار نہ ہو، میں نے اُسے نہیں کہا؛ میں ہرگز حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔

(١)1- 1 منسوب الی القدرية و هم قائلون: أن كل أفعالهم مخلوقة لهم و ليس لله تعالى فيها قضاء و لا قدر، و في الحديث: لا يدخل الجنة قدري، و هم الذين يقولون: لا يكون ما شاء اللّٰه و يكون ما شاء إبليس و ربما فسر القدري بالمعتزلی. نقل ذلك صاحب منتهى المقال عن الوحيد قدّس سرّه.قدریہ کی طرف منسوب؛ اور وہ کہتے ہیں کہ اُن کے تمام کام اُن کے اپنے پیدا کردہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا اُن میں کوئی قضا و قدر نہیں۔ اور حدیث میں آیا ہے: قدری جنت میں داخل نہ ہو گا۔ اور وہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: جو اللہ چاہے وہ نہیں ہوتا اور جو ابلیس چاہے وہ ہوتا ہے۔ اور بسا اوقات «قدری» کی تفسیر «معتزلی» سے کی گئی ہے۔ یہ صاحبِ «منتہی المقال» نے وحید قدّس سرّہ سے نقل کیا ہے۔
(٢)2- الخوارج هم الذين خرجوا علی علیّ عليه السلام و للفرقة الثلاثة ابحاث ضائفة في كتاب الملل و النحل للشهرستانی، و الفرق بين الفرق للبغدادیّ فليراجع.خوارج وہ لوگ ہیں جنہوں نے علی علیہ السلام پر خروج کیا۔ اِن تین فرقوں کے بارے میں شہرستانی کی «الملل و النحل» اور بغدادی کی «الفرق بین الفرق» میں مفید بحثیں ہیں؛ اُن کی طرف رجوع کیا جائے۔