Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 187

بسبب آيتين و قوله عليه السلام أن لا يقولوا بيان للتحصين لا مفعوله و في أكثر نسخ الكافي خص بالخاء المعجمة و الصاد المهملة فقوله أن لا يقولوا متعلق بخص بتقدير الباء و في بعضها حض بالحاء المهملة و الضاد المعجمة أي حث و رغب بتقدير على.

قرآن کی اوپر والی دو آیتوں کے سبب جائز نہیں۔ «أن لا یقولوا» تحصین کا بیان ہے اور مفعول نہیں۔ کافی کے اکثر نسخوں میں «خصّ» ہے؛ پس جملہ «أن لا یقولوا» «خصّ» سے متعلق ہے، باء کی تقدیر کے ساتھ۔ اور کافی کے بعض نسخوں میں «حضّ» آیا ہے، بمعنیٔ ترغیب و تشویق، «علی» کی تقدیر کے ساتھ۔

«14»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ السِّمْطِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكَ فَيُخْبِرُنَا عَنْكَ بِالْعَظِيمِ مِنَ الْأَمْرِ فَيَضِيقُ بِذَلِكَ صُدُورُنَا حَتَّى نُكَذِّبَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَ لَيْسَ عَنِّي يُحَدِّثُكُمْ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَيَقُولُ لِلَّيْلِ إِنَّهُ نَهَارٌ وَ لِلنَّهَارِ إِنَّهُ لَيْلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ فَقَالَ رُدَّهُ إِلَيْنَا فَإِنَّكَ إِنْ كَذَّبْتَ فَإِنَّمَا تُكَذِّبُنَا.

بصائر الدرجات: سفیان بن سمط کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپ پر قربان! ایک شخص آپ کی طرف سے آتا ہے اور آپ سے عظیم خبریں نقل کرتا ہے، ایسی کہ ہمارا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور ہم اُس کی تکذیب کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا وہ مجھ سے حدیث نہیں کہتا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: کیا وہ کہتا ہے کہ امام صادق نے رات کو دن اور دن کو رات کہا؟ میں نے عرض کیا: ایسا نہیں کہتا۔ فرمایا: اُسے ہماری ہی طرف لوٹاؤ، کیونکہ اُس کی تکذیب ہماری تکذیب ہے۔

بيان: فيما وجدنا من النسخ فتقول بتاء الخطاب و لعل المراد أنك بعد ما علمت أنه منسوب إلينا فإذا أنكرته فكأنك قد أنكرت كون الليل ليلا و النهار نهارا أي ترك تكذيب هذا الأمر و قبحه ظاهر لا خفاء فيه و يحتمل أن يكون بالياء على الغيبة كما سيأتي أي هل يروي هذا الرجل شيئا يخالف بديهة العقل قال لا فقال فإذا احتمل الصدق فلا تكذبه و رد علمه إلينا و يحتمل أن يكون بالنون على صيغة التكلم أي هل تظن بنا أنا نقول ما يخالف العقل فإذا وصل إليك عنا مثل هذا فاعلم أنا أردنا به أمرا آخر غير ما فهمت أو صدر عنا لغرض فلا تكذبه.

موجود نسخوں میں «فتقول» صیغۂ مضارع مخاطب ہے۔ شاید مراد یہ ہو: اُس کے بعد کہ تم نے جان لیا کہ وہ حدیث ہماری طرف منسوب ہے اور تم نے اُس کی تکذیب کی، تو گویا تم نے دن کے دن ہونے اور رات کے رات ہونے کا انکار کیا۔ یعنی حدیث کی تکذیب چھوڑنا اور اُس کی قباحت واضح ہے اور اُس میں کوئی خفا نہیں۔ اور احتمال ہے کہ «فیقول» صیغۂ غائب مضارع ہو، یعنی یہ شخص جو ہماری طرف سے حدیث نقل کرتا ہے، کیا اُس نے کسی بدیہی چیز کا انکار کیا؟ راوی کہتا ہے: نہیں۔ آپ نے فرمایا: جب صدق کا احتمال ہو تو اُس کی تکذیب نہ کرو اور اُس کا علم ہماری طرف لوٹاؤ۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ «فنقول» صیغۂ متکلم مع الغیر کا فعلِ مضارع ہو، یعنی کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم کوئی ایسی بات کہتے ہیں جو عقل کے خلاف ہو؟ جب اِس جیسی باتیں ہماری طرف سے تم تک پہنچیں تو جان لو کہ ہم نے اُس حدیث سے کوئی اور چیز مراد لی ہے، اُس کے سوا جو تم نے سمجھا؛ یا وہ حدیث کسی مقصد کے سبب ہماری طرف سے تم تک پہنچی ہے، پس اُس کی تکذیب نہ کرو۔

«15»- ل، الخصال أَبِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ سَهْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْمَكْفُوفِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى آلَى عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُسْكِنَ جَنَّتَهُ أَصْنَافاً ثَلَاثَةً رَادّاً عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَوْ رَادّاً عَلَى إِمَامٍ هُدًى أَوْ مَنْ حَبَسَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ الْخَبَرَ.

الخصال: ابوہارون مکفوف کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہارون! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی کہ تین گروہوں کو اپنی جنت میں جگہ نہ دے گا: وہ جو اللہ کے حکم کو رد کرے، یا برحق پیشوا اور امام کے حکم کو رد کرے، یا کسی مؤمن مرد کا حق روک رکھے… حدیث کے آخر تک۔

بيان: آلى أي حلف.

«آلیٰ» یعنی قسم کھائی۔

«16»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنِ ابْنِ بَزِيعٍ عَنِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحَدِهِمَا عليهما السلام قَالَ: لَا تُكَذِّبُوا بِحَدِيثٍ آتَاكُمْ مُرْجِئِيٌّ ١

علل الشرائع: ابوبصیر نے امام باقر یا امام صادق علیہما السلام سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: وہ حدیث جو کوئی مُرجِئی مذہب

(١)1- قال صاحب منتهى المقال: المرجئة هم المعتقدون بان الايمان لا يضر المعصية كما لا ينفع مع الكفر طاعة، سموا بذلك؟ لاعتقادهم ان اللّٰه تعالى أرجأ تعذيبهم أي أخّره عنهم، و عن ابن قتيبة: هم الذين يقولون: الايمان قول بلا عمل. و في الاخبار: المرجئی يقول: من لم يصل و لم يصم و لم يغتسل عن جنابة و هدم الكعبة و نكح أمه فهو على ايمان جبرئيل و ميكائيل، و قيل: هم الذين يقولون: كل الافعال من اللّٰه تعالى، و ربما فسر المرجئی بالاشعری. اه.صاحبِ «منتہی المقال» کہتے ہیں: مرجئہ وہ لوگ ہیں جو مانتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ نقصان نہیں دیتا، جیسے کفر کے ساتھ طاعت فائدہ نہیں دیتی۔ اِسی نام سے پکارے گئے کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کا عذاب مؤخر کر دیا ہے۔ اور ابن قتیبہ سے: وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ایمان بغیر عمل کے گفتار ہے۔ اور اخبار میں آیا ہے: مرجئی کہتا ہے کہ جو نماز نہ پڑھے اور روزہ نہ رکھے اور جنابت سے غسل نہ کرے اور کعبہ ڈھا دے اور اپنی ماں سے نکاح کرے، وہ جبرئیل اور میکائیل کے ایمان پر ہے۔ اور کہا گیا ہے: وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں؛ اور بسا اوقات «مرجئی» کی تفسیر «اشعری» سے کی گئی ہے۔