و رواه الحسن بن سليمان في كتاب المحتضر من كتاب الشفاء و الجلاء مثله.
حسن بن سلیمان نے کتاب «محتضر» میں کتاب «شفا و جلاء» سے اُس حدیث کی مانند روایت کی ہے۔
«10»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَوْ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: لَا تُكَذِّبُوا بِحَدِيثٍ آتَاكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّهُ مِنَ الْحَقِّ فَتُكَذِّبُوا اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ.
بصائر الدرجات: ابوبصیر امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی کی حدیث کی تکذیب نہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے، شاید وہ حدیث حق ہو اور نتیجے میں تم نے اللہ کو اُس کے عرش کے اوپر جھٹلایا ہو۔
«11»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ بَزِيعٍ عَنْ عَلِيٍّ السَّائِيِّ١
بصائر الدرجات: علی سائی ابوالحسن علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک خط میں یوں لکھا:
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ فِي رِسَالَةٍ وَ لَا تَقُلْ لِمَا بَلَغَكَ عَنَّا أَوْ نُسِبَ إِلَيْنَا هَذَا بَاطِلٌ وَ إِنْ كُنْتَ تَعْرِفُ خِلَافَهُ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لِمَ قُلْنَا وَ عَلَی أَيِّ وَجْهٍ وَ صِفَةٍ.
جو کچھ ہم سے تم تک پہنچے اور ہماری طرف منسوب ہو، اُسے باطل نہ کہو، خواہ تمہیں اُس کے خلاف علم ہی ہو؛ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ہم نے کس لیے اور کس پہلو اور کس صفت سے کہا۔
«12»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَمَا وَ اللَّهِ إِنَّ أَحَبَّ أَصْحَابِي إِلَیَّ أَوْرَعُهُمْ وَ أَفْقَهُهُمْ وَ أَكْتَمُهُمْ لِحَدِيثِنَا وَ إِنَّ أَسْوَأَهُمْ عِنْدِي حَالًا وَ أَمْقَتَهُمْ إِلَیَّ الَّذِي إِذَا سَمِعَ الْحَدِيثَ يُنْسَبُ إِلَيْنَا وَ يُرْوَى عَنَّا فَلَمْ يَعْقِلْهُ وَ لَمْ يَقْبَلْهُ قَلْبُهُ اشْمَأَزَّ مِنْهُ وَ جَحَدَهُ وَ كَفَّرَ بِمَنْ دَانَ بِهِ وَ هُوَ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الْحَدِيثَ مِنْ عِنْدِنَا خَرَجَ وَ إِلَيْنَا أُسْنِدَ فَيَكُونُ بِذَلِكَ خَارِجاً مِنْ وَلَايَتِنَا.
بصائر الدرجات: ابوعبیدہ حذّاء کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرمایا: میرے اصحاب میں میرے نزدیک سب سے محبوب، ہماری حدیث کے بارے میں اُن میں سب سے زیادہ متقی اور سب سے زیادہ جاننے والا اور ہماری حدیث کو سب سے زیادہ چھپانے والا ہے؛ اور اُن میں سب سے بُرے حال اور ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ ہے جو ایسی حدیث سنتا ہے جو ہماری طرف منسوب اور ہم سے روایت کی گئی ہو، مگر وہ سمجھتا نہیں اور قبول نہیں کرتا اور اُس کا دل اُس سے منکر اور بیزار ہے ـ اور یہ کفر تک لے جاتا ہے، جبکہ وہ جانتا نہیں۔ شاید وہ حدیث ہم نے کہی ہو اور وہ اُس کے انکار سے ہماری ولایت سے خارج ہو جائے۔
سر، السرائر من كتاب المشيخة لابن محبوب عن جميل عن أبي عبيدة مثله.
السرائر: «مشیخۂ ابن محبوب» کی کتاب سے اُسی کی مانند روایت ہوا ہے۔
«13»- ير، بصائر الدرجات الْهَيْثَمُ النَّهْدِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ٢ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى حَصَّنَ عِبَادَهُ بِآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِهِ أَنْ لَا يَقُولُوا حَتَّى يَعْلَمُوا وَ لَا يَرُدُّوا مَا لَمْ يَعْلَمُوا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَقُولُ أَ لَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثاقُ الْكِتابِ أَنْ لا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَ قَالَ بَلْ كَذَّبُوا بِما لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ
بصائر الدرجات: اسحاق بن عبداللہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ نے قرآن کی دو آیتوں میں اپنے بندوں کو دو چیزوں سے منع فرمایا: پہلی؛ بغیر علم کے کچھ نہ کہو۔ دوسری؛ بغیر علم کے کسی چیز کو رد نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أَ لَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِیثاقُ الْکِتابِ أَنْ لا یَقُولُوا عَلَی اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ» {کیا اُن سے کتاب [آسمانی] کا عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہیں، جبکہ اُنہوں نے وہ سب پڑھ رکھا ہے جو اُس [کتاب] میں ہے؟} اور اللہ کے اِس قول کو شاہد لائے: «بَلْ کَذَّبُوا بِما لَمْ یُحِیطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا یَأْتِهِمْ تَأْوِیلُهُ» {بلکہ اُنہوں نے اُس چیز کو جھٹلایا جس کے علم پر اُنہیں احاطہ نہ تھا اور ابھی اُس کی تاویل اُن کے پاس نہیں آئی۔}
بيان: التحصين المنع أي منعهم و جعلهم في حصن لا يجوز لهم التعدي عنه
«التحصین» منع کے معنی میں ہے، یعنی اللہ نے اپنے بندوں کو منع فرمایا اور اُنہیں ایک ایسے قلعے میں رکھا جس سے تجاوز