Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 185

أَبِي الْبِلَادِ عَنْ سَدِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مِنْ قَوْلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يُقِرُّ بِهِ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُقَرَّبِينَ وَ غَيْرَ مُقَرَّبِينَ وَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مُرْسَلِينَ وَ غَيْرَ مُرْسَلِينَ وَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مُمْتَحَنِينَ وَ غَيْرَ مُمْتَحَنِينَ فَعَرَضَ أَمْرَكُمْ هَذَا عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُقَرَّبُونَ وَ عَرَضَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُرْسَلُونَ وَ عَرَضَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَلَمْ يُقِرَّ بِهِ إِلَّا الْمُمْتَحَنُونَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي مُرَّ فِي حَدِيثِكَ.

سدیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اُس قول کے بارے میں پوچھا جس میں فرمایا: یقیناً ہمارا امر دشوار اور طاقت فرسا ہے، اُس کا اقرار کوئی نہیں کرتا سوائے مقرب فرشتے، یا مرسل پیغمبر، یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا۔ آپ نے میرے جواب میں فرمایا: کیونکہ فرشتے دو قسم کے ہیں: وہ جو بارگاہِ خدا کے مقرب ہیں اور وہ جو مقرب نہیں؛ اور پیغمبر مرسل اور غیر مرسل ہیں؛ اور مؤمن بھی آزمائے ہوئے اور نہ آزمائے ہوئے ہیں۔ پس تمہارے اِس امر (ولایت) کا فرشتوں نے اقرار نہ کیا مگر [اُن میں سے] آزمائے ہوئے نے؛ اور پیغمبروں پر پیش ہوا تو اُس کا اقرار نہ کیا مگر مرسلوں نے؛ اور مؤمنوں پر بھی پیش کیا گیا تو اُس کا اقرار نہ کیا مگر آزمائے ہوئے نے۔ ـ کہتے ہیں: ـ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اپنی حدیث دہرا لو۔

بيان: لعل المراد الإقرار التام الذي يكون عن معرفة تامة بعلو قدرهم و غرائب شأنهم فلا ينافي عدم إقرار بعض الملائكة و الأنبياء هذا النوع من الإقرار عصمتهم و طهارتهم ١.

شاید مراد اقرارِ تام ہو جو ائمہ علیہم السلام کی قدر کی بلندی اور منزلت کے عجیب ہونے کی کامل شناخت سے پیدا ہوتا ہے؛ پس نتیجے میں بعض ملائکہ اور انبیاء کا اِس قسم کا اقرار نہ کرنا اُن کی عصمت اور پاکی کے منافی نہیں۔

«8»- ج، الإحتجاج عَنِ الرِّضَا عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ فِي أَخْبَارِنَا مُتَشَابِهاً كَمُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ وَ مُحْكَماً كَمُحْكَمِ الْقُرْآنِ فَرُدُّوا مُتَشَابِهَهَا دُونَ مُحْكَمِهَا.

الاحتجاج: امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ہماری احادیث میں قرآن کے متشابہ کی طرح متشابہ حدیث بھی ہے، اور قرآن کے محکم کی طرح محکم بھی۔ پس اُن کے متشابہات کو لوٹاؤ، نہ کہ اُن کے محکمات کو۔

بيان: قوله عليه السلام دون محكمها أي إليه أي انظروا إلى محكمات الأخبار التي لا تحتمل إلا وجها واحدا و ردوا المتشابهات التي تحتمل وجوها إليها بأن تعملوا بما يوافق تلك المحكمات من الوجوه أو المراد ردوا علم المتشابه إلينا و لا تتفكروا فيه دون المحكم فإنه يلزمكم التفكر فيه و العمل به و يؤيد الأول الخبر الذي بعده بل الظاهر أن هذا الخبر مختصر ذلك.

«دون محکمہا» یعنی اخبار کے اُن محکمات کو دیکھو جن میں ایک سے زیادہ وجہ کا احتمال نہیں، اور متشابہات کو جن میں کئی وجوہ کا احتمال ہے، محکمات کی طرف لوٹاؤ، اِس معنی میں کہ محکمات کے مطابق عمل کرو۔ یا حدیث کا معنی یہ ہے کہ متشابہ کا علم ہماری طرف لوٹاؤ اور اُس میں غور نہ کرو، نہ کہ محکم حدیث، کیونکہ اُس میں غور کرنا اور عمل کرنا چاہیے۔ پہلے احتمال کی تائید آنے والی خبر بھی کرتی ہے؛ بلکہ بظاہر اوپر والی خبر بعد والی خبر کا ایک مختصر ہے۔

«9»- ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام أَبِی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَيُّونٍ مَوْلَى الرِّضَا عَنِ الرِّضَا عليه السلام قَالَ: مَنْ رَدَّ مُتَشَابِهَ الْقُرْآنِ إِلَى مُحْكَمِهِ هُدِيَ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ ثُمَّ قَالَ عليه السلام إِنَّ فِي أَخْبَارِنَا مُتَشَابِهاً كَمُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ وَ مُحْكَماً كَمُحْكَمِ الْقُرْآنِ فَرُدُّوا مُتَشَابِهَهَا إِلَى مُحْكَمِهَا وَ لَا تَتَّبِعُوا مُتَشَابِهَهَا دُونَ مُحْكَمِهَا فَتَضِلُّوا.

عیون أخبار الرضا علیہ السلام: ابوحیّون نے امام رضا علیہ السلام سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: جو قرآن کے متشابہات کو اُس کے محکمات کی طرف لوٹائے، وہ سیدھی راہ کی ہدایت پا گیا؛ پھر فرمایا: ہماری اخبار میں بھی قرآن کی طرح محکم اور متشابہ موجود ہے، لہٰذا اُس کے متشابہات کو اُس کے محکمات کی طرف لوٹاؤ اور صرف اُس کے متشابہات کے پیچھے نہ جاؤ کہ گمراہ ہو جاؤ گے۔

بيان: ينبغي تقدير ضمير الشأن في قوله إن في أخبارنا و في بعض النسخ بالنصب

سزاوار ہے کہ امام علیہ السلام کے قول «إن فی اخبارنا» میں ضمیرِ شان مقدر مانیں۔ اور بعض نسخوں میں [اخبارنا] نصب کے ساتھ آیا ہے۔

(١)1- بل المراد بالإقرار نيل ما عندهم عليهم السلام من حقيقة الدين و هو كمال التوحيد الذي هو الولاية فانه أمر ذو مراتب، و لا ينال المرتبة الكاملة منها إلّا من ذكروه بل يظهر من بعض الأخبار ما هو أعلى من ذلك و أغلی، و لشرح ذلك مقام آخر. ط.بلکہ اقرار سے مراد اُس حقیقتِ دین تک پہنچنا ہے جو اُن علیہم السلام کے پاس ہے، اور وہ کمالِ توحید ہے جو وہی ولایت ہے؛ اور یہ ایسا امر ہے جس کے کئی مراتب ہیں، اور اُس کے کامل مرتبے تک اُنہی لوگوں کے سوا کوئی نہیں پہنچتا جن کا ذکر کیا؛ بلکہ بعض اخبار سے اِس سے بھی برتر اور گراں بہا تر چیز معلوم ہوتی ہے، اور اُس کی شرح کا مقام دوسرا ہے۔ ط۔