قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ أَنْتُمْ أَفْقَهُ النَّاسِ إِذَا عَرَفْتُمْ مَعَانِيَ كَلَامِنَا إِنَّ الْكَلِمَةَ لَتَنْصَرِفُ عَلَى وُجُوهٍ فَلَوْ شَاءَ إِنْسَانٌ لَصَرَفَ كَلَامَهُ كَيْفَ شَاءَ وَ لَا يَكْذِبُ.
کہتے ہیں: میں نے یوں سنا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم اُس وقت شریعت کے احکام و آداب سے سب سے زیادہ آگاہ ہو گے جب ہماری باتوں سے ہمارا مقصود اور مراد سمجھ لو، کیونکہ ہر جملہ کئی مفہوم رکھتا ہے، اور نتیجے میں ہر کوئی ہر بات کو ایسے پہلو سے کہہ سکتا ہے جو زحمت پیدا نہ کرے اور جھوٹ بھی نہ ہو۔
«4»- مع، معاني الأخبار أَبِي عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ زَيْدٍ الزَّرَّادِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا بُنَيَّ اعْرِفْ مَنَازِلَ الشِّيعَةِ عَلَى قَدْرِ رِوَايَتِهِمْ وَ مَعْرِفَتِهِمْ فَإِنَّ الْمَعْرِفَةَ هِيَ الدِّرَايَةُ لِلرِّوَايَةِ وَ بِالدِّرَايَاتِ لِلرِّوَايَاتِ يَعْلُو الْمُؤْمِنُ إِلَى أَقْصَى دَرَجَاتِ الْإِيمَانِ إِنِّي نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ لِعَلِيٍّ عليه السلام فَوَجَدْتُ فِي الْكِتَابِ أَنَّ قِيمَةَ كُلِّ امْرِئٍ وَ قَدْرَهُ مَعْرِفَتُهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يُحَاسِبُ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَا آتَاهُمْ مِنَ الْعُقُولِ فِي دَارِ الدُّنْيَا.
معانی الأخبار: برید زرّاد نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: [میرے والد] امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے یوں فرمایا: میرے بیٹے! مکتبِ علی علیہ السلام کے پیروکاروں کے علم و فہم کی حد اِس سے معلوم کرو کہ اُنہوں نے معصومین علیہم السلام کی باتوں میں سے کتنا سیکھا اور سمجھا ہے اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی دینی پیشواؤں کے کلام سے شناخت اور معصومین کے فرمودات کے فہم کے ذریعے اُن کی آگاہی مؤمن کو ایمان کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچاتی ہے۔ میں حضرت علی علیہ السلام کی ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا اور اُس میں یہ عبارت دیکھی: ہر شخص کی قدر و منزلت کا معیار اُس کی آگاہی اور شناخت کی مقدار ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کے اعمال تولتے وقت اُس عقل کے مطابق اُس کے کردار کا حساب لیتا ہے جو اُس نے دنیا میں اُسے دی۔
كتاب زيد الزراد، عنه عليه السلام مثله.
کتاب زید الزرّاد: آپ علیہ السلام سے اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔
«5»- مع، معاني الأخبار ابْنُ مَسْرُورٍ عَنِ ابْنِ عَامِرٍ عَنْ عَمِّهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْخِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثٌ تَدْرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفٍ تَرْوِيهِ وَ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ فَقِيهاً حَتَّى يَعْرِفَ مَعَارِيضَ كَلَامِنَا وَ إِنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِنَا لَتَنْصَرِفُ عَلَى سَبْعِينَ وَجْهاً لَنَا مِنْ جَمِيعِهَا الْمَخْرَجُ.
معانی الأخبار: ابراہیم کرخی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ایک حدیث اگر تم نے پوری طرح سمجھ لی ہو تو اُن ہزار روایتوں سے زیادہ قیمتی ہے جنہیں تم (طوطے کی طرح) دوسروں کے لیے نقل کرو؛ اور نہ ہی تم میں سے کوئی دین میں فقیہ ہو گا جب تک ہماری باتوں سے مختلف اور متعارض مفہوم نہ سمجھ لے۔ یقیناً ہمارے کلام کا ہر جملہ ستر طرح سے تعبیر ہوتا ہے، جن میں سے ہر ایک سے نکلنے کی راہ ہمارے لیے کھلی ہے۔
بيان: لعل المراد ما يصدر عنهم تقية و تورية و الأحكام التي تصدر عنهم لخصوص شخص لخصوصية لا تجرى في غيره فيتوهم لذلك تناف بين أخبارهم.
شاید مراد وہ احادیث ہوں جو تقیہ اور توریہ کے باب سے وارد ہوئیں، اور وہ احکام جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے کسی معین شخص کی خاطر وارد ہوئے جو اُس کے سوا کہیں جاری نہیں ہوتے، اور اِسی سبب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی اخبار میں اختلاف ہے۔
«6»- مع، معاني الأخبار أَبِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْمَدَائِنِ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام رُوِيَ لَنَا عَنْ آبَائِكُمْ عليهم السلام أَنَّ حَدِيثَكُمْ صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ لَا مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ قَالَ فَجَاءَهُ الْجَوَابُ إِنَّمَا مَعْنَاهُ أَنَّ الْمَلَكَ لَا يَحْتَمِلُهُ فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُخْرِجَهُ إِلَى مَلَكٍ مِثْلِهِ وَ لَا يَحْتَمِلُهُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخْرِجَهُ إِلَى نَبِيٍّ مِثْلِهِ وَ لَا يَحْتَمِلُهُ مُؤْمِنٌ حَتَّى يُخْرِجَهُ إِلَى مُؤْمِنٍ مِثْلِهِ إِنَّمَا مَعْنَاهُ أَنْ لَا يَحْتَمِلَهُ فِي قَلْبِهِ مِنْ حَلَاوَةِ مَا هُوَ فِي صَدْرِهِ حَتَّى يُخْرِجَهُ إِلَى غَيْرِهِ.
معانی الأخبار: یقطینی نے اہلِ مدائن کے ایک شخص سے نقل کیا: میں نے ابومحمد امام حسن عسکری علیہ السلام کو لکھا: آپ کے بزرگوار اجداد علیہم السلام سے ہمارے لیے روایت ہوا کہ اُنہوں نے فرمایا: بے شک آپ کی حدیث دشوار اور سخت ہے، ایسی کہ نہ مقرب فرشتہ، نہ مرسل پیغمبر، اور نہ وہ مؤمن جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا، کوئی بھی اُس کے تحمل کی تاب نہیں رکھتا۔ کہتے ہیں: اُس کے لیے جواب یوں آیا: بے شک اُس کا معنی یہ ہے کہ فرشتہ اُسے اپنے باطن میں نہیں رکھتا یہاں تک کہ اپنے جیسے کسی فرشتے پر پیش کرے، اور پیغمبر اُس کا تحمل نہیں کرتا یہاں تک کہ اپنے جیسے کسی دوسرے پیغمبر تک پہنچائے، اور کوئی مؤمن اُسے ذخیرہ نہیں کرتا یہاں تک کہ اپنے جیسے کسی دوسرے مؤمن کو دے ـ یعنی جو اُس کے سینے میں ہے اُس کی شیرینی اپنے دل میں نہیں رکھتا یہاں تک کہ اپنے غیر تک پہنچائے۔
بيان: هذا الاحتمال غير الاحتمال الوارد في الأخبار الأخر و لذا لم يستثن فيه أحد.
یہ احتمال اُس احتمال کے علاوہ ہے جو دیگر اخبار میں وارد ہے، اِسی لیے کسی نے اُس میں استثنا نہیں کیا۔
«7»- مع، معاني الأخبار أَبِی عَنْ سَعْدٍ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ ١ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ
معانی الأخبار: