فَقَدْ ضَلَّ ضَلالًا مُبِيناً»(35) (و قال عز و جل): «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً»(35)
{اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! اُن پر درود بھیجو اور اُن کے حکم کے آگے پوری طرح گردن جھکاؤ۔}
«1»- مع، معاني الأخبار ل، الخصال لي، الأمالي للصدوق عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ شُقَيْرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بُزُرْجَ الْحَنَّاطِ ١ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْيَسَعِ عَنْ شُعَيْبٍ الْحَدَّادِ قَالَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عليهما السلام يَقُولُ إِنَّ حَدِيثَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ أَوْ مَدِينَةٌ حَصِينَةٌ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لِشُعَيْبٍ يَا أَبَا الْحَسَنِ وَ أَيُّ شَيْ ءٍ الْمَدِينَةُ الْحَصِينَةُ قَالَ فَقَالَ سَأَلْتُ الصَّادِقَ عليه السلام عَنْهَا فَقَالَ لِي الْقَلْبُ الْمُجْتَمِعُ.
معانی الأخبار، الخصال اور امالیِ صدوق: شعیب حدّاد کہتے ہیں: میں نے امام جعفر بن محمد علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: ہماری حدیث سخت اور دشوار ہے؛ اُس کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا سوائے مقرب فرشتے یا مرسل پیغمبر یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزما لیا ہو، یا کسی مستحکم شہر کے! عمرو، شعیب کے شاگرد، نے اُن سے پوچھا: اے شعیب! مستحکم شہر کون سا ہے؟ کہا: میں نے خود امام صادق علیہ السلام سے اُس کا معنی پوچھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: جمع اور مطمئن دل۔
بيان: المراد بالقلب المجتمع القلب الذي لا يتفرق بمتابعة الشكوك و الأهواء و لا يدخل فيه الأوهام الباطلة و الشبهات المضلة و المقابلة بينه و بين الثالث إما بمحض التعبير أي إن شئت قل هكذا و إن شئت هكذا أو يكون المراد بالأول الفرد الكامل من المؤمنين و بالثاني من دونهم في الكمال.
«قلبِ مجتمع» سے مراد وہ دل ہے جو شکوک اور نفسانی خواہشوں کی پیروی سے پراگندہ نہ ہو، اور باطل اوہام اور گمراہ کرنے والے شبہات اُس میں داخل نہ ہوں۔ اُس کے اور تیسرے کے درمیان مقابلہ محض تعبیر کی بات ہے، یعنی اگر چاہو تو یوں کہو اور اگر چاہو تو یوں؛ یا پہلے سے مراد مؤمنوں کا کامل فرد ہے اور دوسرے سے مراد وہ مؤمن ہیں جو کمال کے اعتبار سے اُس سے نیچے ہیں۔
«2»- ل، الخصال فِي الْأَرْبَعِمِائَةِ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام خَالِطُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَ دَعُوهُمْ مِمَّا يُنْكِرُونَ وَ لَا تَحْمِلُوهُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ عَلَيْنَا إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ أَوْ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ أَوْ عَبْدٌ قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ.
الخصال: حضرت علی علیہ السلام نے حدیثِ چہارصد میں فرمایا: لوگوں سے اُن کی معرفت کے مطابق میل جول رکھو، جس کا وہ انکار کرتے ہیں اُسے چھوڑ دو، اور اُسے اپنی گردن پر اور ہم پر بار نہ کرو۔ یقیناً ہماری حدیث سخت اور دشوار ہے؛ اُس کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا سوائے مقرب فرشتے یا مرسل پیغمبر یا اُس بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزما لیا ہو۔
يج، الخرائج و الجرائح روى جماعة منهم القاسم عن جده عن أبي بصير و محمد بن مسلم عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام مثله.
الخرائج و الجرائح: ابوبصیر اور محمد بن مسلم نے اُس حدیث کی مانند روایت کی ہے۔
«3»- مع، معاني الأخبار أَبِی وَ ابْنُ الْوَلِيدِ مَعاً عَنْ سَعْدٍ وَ الْحِمْيَرِيِّ وَ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ وَ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارِ جَمِيعاً عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِيِّ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرْقَدٍ
معانی الأخبار: داود بن فرقد