أن يصدع بالحق على أي حال فلما ظهر للناس سبيلهم و تمت الحجة عليهم لم يلزم الإمام أن يظهر المعجزة و يصدع بالحق في كل حال بل يظهره حينا و يتقى حينا على حسب ما يؤمر قوله عليه السلام كالراعي أي نحن كالراعي إذا أردنا جمعهم و أمرنا بذلك جمعناهم بأدنى سعي قوله عليه السلام فإذا كانت الوصية و الكبر فلا ريب أي بعد أن أوصى أبي إلى و كونی أكبر أولاد أبي لا يبقى ريب في إمامتي و قوله عليه السلام و من جلس مجالس الحكم لعله تقية منه عليه السلام أي الخليفة أولى بالحكم أو المراد أنه أولى بالحكم عند الناس و يحتمل أن يكون المراد بالجلوس في مجالس الحكم بيان الأحكام للناس أي من بين الأحكام للناس من غير خطاء فهو أولى بالحكم و الإمامة فيكون الغرض إظهار حجة أخرى على إمامته صلوات اللّٰه عليه.
کہ وہ ہر حال میں حق کا اعلان کرے؛ لیکن جب راستہ لوگوں کے لیے روشن ہو گیا اور اُن پر اتمامِ حجت ہو گیا تو امام کے لیے لازم نہیں کہ معجزہ لائے اور ہر حال میں حق کی آواز بلند کرے، بلکہ کبھی حق کی آواز بلند کرتے ہیں اور کبھی اِس کام سے پرہیز کرتے ہیں، [جو بھی] اُنہیں حکم ہو۔ «کالراعی» یعنی ہم چرواہے کی مانند ہیں، جب ہم لوگوں کو جمع کرنا چاہیں اور اُس کا حکم پائیں تو کم سے کم کوشش سے اُنہیں جمع کر لیتے ہیں۔ «فإذا کانت الوصیۃ و الکِبَر فلا ریب» یعنی میرے والد کے مجھے وصیت کرنے کے بعد، جبکہ میں اپنے والد کی اولاد میں سب سے بڑا تھا، میری امامت میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ «و من جلس مجالس الحکم» ـ شاید یہ آپ علیہ السلام کی طرف سے تقیہ ہو ـ یعنی خلیفہ خلافت کا سزاوار ہے؛ یا مقصود یہ ہے کہ خلیفہ لوگوں کے نزدیک قضاوت میں اولویت رکھتا ہے۔ اور احتمال ہے کہ مجالسِ قضاوت میں بیٹھنے سے مراد لوگوں کے لیے احکام کا بیان ہو، یعنی جو بغیر خطا کے لوگوں کے لیے احکام بیان کرے، وہی قضاوت اور امامت کا سزاوار ہے؛ پس ہدف آپ کی امامت پر ایک اور دلیل قائم کرنا ہے۔
باب 26 أن حديثهم عليهم السلام صعب مستصعب و أن كلامهم ذو وجوه كثيرة و فضل التدبر في أخبارهم عليهم السلام و التسليم لهم و النهي عن رد أخبارهم
باب چھبیسواں: اہلِ بیت کی احادیث کا سخت ہونا اور مختلف پہلو رکھنا، اور اُن کی روایات میں غور و فکر اور اُن کے سامنے تسلیم ہونے کی فضیلت، اور اُن کی احادیث کو رد کرنے کی مذمت
الآيات؛
آیات
النساء: «فَلا وَ رَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوا تَسْلِيماً»(64)
النساء: {مگر ایسا نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم، وہ ایمان نہ لائیں گے جب تک اُس بارے میں جو اُن کے درمیان اختلاف ہے تمہیں منصف نہ بنائیں؛ پھر جو فیصلہ تم کرو اُس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی [اور تردد] نہ پائیں، اور پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں۔}
يونس: «بَلْ كَذَّبُوا بِما لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الظَّالِمِينَ»(38)
یونس: {بلکہ اُنہوں نے اُس چیز کو جھٹلایا جس کے علم پر اُنہیں احاطہ نہ تھا اور ابھی اُس کی تاویل اُن کے پاس نہیں آئی۔ اِسی طرح اُن لوگوں نے بھی جھٹلایا جو اُن سے پہلے تھے۔ پس دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔}
الكهف: «قالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً وَ كَيْفَ تَصْبِرُ عَلى ما لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْراً»(66 ، 67)
الکہف: {اُس نے کہا: تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے۔ اور تم اُس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہو جس کے علم پر تمہیں احاطہ نہیں؟}
النور: «إِنَّما كانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَ رَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنا وَ أَطَعْنا وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ»(50)
النور: {مؤمنوں کا قول ـ جب اُنہیں اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے ـ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ یہی لوگ کامیاب ہیں۔}
الأحزاب: «وَ ما زادَهُمْ إِلَّا إِيماناً وَ تَسْلِيماً»(22) (و قال سبحانه): «وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَی اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ
{اور جب مؤمنوں نے دشمن کے گروہوں کو دیکھا تو کہا: یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اُس کے رسول نے سچ کہا ـ اور اِس نے اُنہیں ایمان اور فرمانبرداری کے سوا کچھ نہ بڑھایا۔} {اور کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اُس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دیں تو اُن کے لیے اپنے کام میں کوئی اختیار ہو؛ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ یقیناً کھلی گمراہی میں جا پڑا۔}