«4»- يج، الخرائج و الجرائح قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الْهَرَوِيُّ خَرَجَ تَوْقِيعٌ مِنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام إِلَى بَعْضِ بَنِي أَسْبَاطٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ أُخْبِرُهُ مِنِ اخْتِلَافِ الْمَوَالِي وَ أَسْأَلُهُ بِإِظْهَارِ دَلِيلٍ فَكَتَبَ إِنَّمَا خَاطَبَ اللَّهُ الْعَاقِلَ وَ لَيْسَ أَحَدٌ يَأْتِي بِآيَةٍ وَ يُظْهِرُ دَلِيلًا أَكْثَرَ مِمَّا جَاءَ بِهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَ سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ صلى اللّٰه عليه و آله فَقَالُوا كَاهِنٌ وَ سَاحِرٌ وَ كَذَّابٌ وَ هُدِیَ مَنِ اهْتَدَى غَيْرَ أَنَّ الْأَدِلَّةَ يَسْكُنُ إِلَيْهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَأْذَنُ لَنَا فَنَتَكَلَّمُ وَ يَمْنَعُ فَنَصْمُتُ وَ لَوْ أَحَبَّ اللَّهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ حَقَّنَا مَا ظَهَرَ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ يَصْدَعُونَ بِالْحَقِّ فِي حَالِ الضَّعْفِ وَ الْقُوَّةِ وَ يَنْطِقُونَ فِي أَوْقَاتٍ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرَهُ وَ يُنْفِذَ حُكْمَهُ وَ النَّاسُ عَلَى طَبَقَاتٍ مُخْتَلِفِينَ شَتَّى فَالْمُسْتَبْصِرُ عَلَى سَبِيلِ نَجَاةٍ مُتَمَسِّكٌ بِالْحَقِّ فَيَتَعَلَّقُ بِفَرْعٍ أَصِيلٍ غَيْرُ شَاكٍّ وَ لَا مُرْتَابٍ لَا يَجِدُ عَنِّي مَلْجَأً وَ طَبَقَةٌ لَمْ يَأْخُذِ الْحَقَّ مِنْ أَهْلِهِ فَهُمْ كَرَاكِبِ الْبَحْرِ يَمُوجُ عِنْدَ مَوْجِهِ وَ يَسْكُنُ عِنْدَ سُكُونِهِ وَ طَبَقَةٌ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ شَأْنُهُمُ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الْحَقِّ وَ دَفْعُ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ حَسَداً مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ فَدَعْ مَنْ ذَهَبَ يَمِيناً وَ شِمَالًا كَالرَّاعِي إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ غَنَمَهُ جَمَعَهَا بِأَدْوَنِ السَّعْيِ ذَكَرْتَ مَا اخْتَلَفَ فِيهِ مَوَالِيَّ فَإِذَا كَانَتِ الْوَصِيَّةُ وَ الْكِبَرُ فَلَا رَيْبَ وَ مَنْ جَلَسَ بِمَجَالِسِ الْحُكْمِ فَهُوَ أَوْلَى بِالْحُكْمِ أَحْسِنْ رِعَايَةَ مَنِ اسْتَرْعَيْتَ فَإِيَّاكَ وَ الْإِذَاعَةَ وَ طَلَبَ الرِّئَاسَةِ فَإِنَّهُمَا تَدْعُوَانِ إِلَى الْهَلَكَةِ ذَكَرْتَ شُخُوصَكَ إِلَى فَارِسَ ١ فَاشْخَصْ عَافَاكَ اللَّهُ خَارَ اللَّهُ لَكَ ٢ وَ تَدْخُلُ مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِناً فَأَقْرِئْ مَنْ تَثِقُ بِهِ مِنْ مَوَالِيَّ السَّلَامَ وَ مُرْهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَ أَعْلِمْهُمْ أَنَّ الْمُذِيعَ عَلَيْنَا حَرْبٌ لَنَا فَلَمَّا قَرَأْتُ وَ تَدْخُلُ مِصْرَ لَمْ أَعْرِفْ لَهُ مَعْنًى وَ قَدِمْتُ بَغْدَادَ وَ عَزِيمَتِیَ الْخُرُوجُ إِلَى فَارِسَ فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لِيَ الْخُرُوجُ إِلَى فَارِسَ وَ خَرَجْتُ إِلَى مِصْرَ.
الخرائج و الجرائح: ابوالقاسم ہروی کہتے ہیں: میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو ایک خط لکھا اور خبر دی کہ آپ کے دوست اختلاف رکھتے ہیں، اور آپ سے چاہا کہ کوئی دلیل عطا فرمائیں۔ آپ نے جواب میں یوں تحریر فرمایا: اللہ تعالیٰ عاقل کو مخاطب کرتا ہے، اور کوئی اُتنی دلیل اور برہان قائم نہ کر سکا جتنی خاتم الانبیاء اور سیدِ مرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ نے کی۔ اِس کے باوجود اُنہیں ـ نعوذ باللہ ـ ساحر، کاہن اور جھوٹا قرار دیا گیا۔ اور جو کوئی طالبِ ہدایت ہو، وہ ہدایت پاتا ہے، مگر یہ کہ اکثر لوگ دلائل اور معجزات سے مطمئن ہوتے ہیں۔ اور اِس بارے میں، اگر اللہ ہمیں اجازت دے تو ہم بات کرتے ہیں اور اگر روکے تو خاموش رہتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا کہ ہمارا حق ظاہر نہ ہو تو انبیاء کو بشارت اور ڈرانے کے لیے نہ بھیجتا تاکہ وہ ضعف کی حالت میں ہو یا قدرت کی، حق کا اعلان کریں اور ہمیشہ حق کہیں۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا کام پورا کرے اور اپنا حکم نافذ کرے۔ اور لوگ کئی طرح کے ہیں: ۱۔ بعض لوگ آگاہ ہیں اور نجات و رستگاری کی راہ پر قدم رکھتے ہیں، حق سے تمسک کرتے ہیں، مضبوط جگہ سے چمٹے ہوئے ہیں، شک و تردد کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے اور ہمارے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں جانتے۔ ۲۔ اور بعض دوسرے، حق کو اُس کے اہل سے نہیں لیتے اور اُس شخص کی مانند ہیں جسے سمندر کا تلاطم اِدھر اُدھر لے جاتا ہے؛ اور جب موج تھم جائے تو وہ بھی تھم جاتا ہے (اور خود سے کوئی استقلال نہیں رکھتا)۔ ۳۔ کچھ اور لوگ وہ ہیں جن پر شیطان غالب آ گیا اور جن کا کام اہلِ حق کو رد کرنا ہے، اور باطل کے ذریعے حقیقت کو دفع کرتے ہیں؛ اور یہ اُس حسد کے سبب ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ پس دائیں بائیں کو چھوڑ دو۔ ہم اُس چرواہے کی مانند ہیں جو جب چاہے اپنی بھیڑیں جمع کرے، کم سے کم کوشش سے یہ کام کر لیتا ہے۔ اور جو تم نے ہمارے دوستوں کے اختلاف کے بارے میں کہا، تو میرے والد کے مجھے وصیت کرنے کے بعد، اور میں اُن کی اولاد میں سب سے بڑا ہوں، کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے گا۔ اور جو کوئی مسندِ حکم پر بیٹھے اور لوگوں کے حال کی بہتر رعایت کرے، وہ اِس کام کا زیادہ حق دار ہے۔ اور تم بھی ہمارے اسرار فاش نہ کرو اور سرداری کے پیچھے نہ جاؤ کہ یہ دونوں کام ہلاکت کا سبب ہیں۔ اور اِسی طرح تم نے لکھا کہ فارس جانا چاہتے ہو، وہاں جاؤ۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے اور خیر و نیکی تمہارے ساتھ کرے۔ اور ان شاء اللہ تم سلامتی اور امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو گے۔ ہمارے دوستوں کو سلام پہنچاؤ اور اُنہیں تقوائے الٰہی اور ادائے امانت کی دعوت دو۔ اور اُن سے کہو: جو ہمارے اسرار فاش کرے، وہ ہمارا دشمن شمار ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے: جب میں نے خط پڑھا تو آپ کا مقصود نہ سمجھا۔ بغداد پہنچا تو ارادہ تھا کہ فارس جاؤں، مگر فارس کے سفر کا سامان مہیا نہ ہوا، لہٰذا مصر چلا گیا۔ اُس وقت میں سمجھا کہ امام علیہ السلام جانتے تھے کہ میں فارس نہ جاؤں گا۔
بيان: لعل قوله عليه السلام و ذلك أن اللّٰه تعليل لما يفهم من كلامه عليه السلام من الآباء عن إظهار الدليل و الحجة و المعجزة و قوله عليه السلام و لو أحب اللّٰه لعل المراد أنه لو أمرنا ربنا بأن لا نظهر دعوى الإمامة أصلا لما أظهرنا ثم بين عليه السلام الفرق بين النبي و الإمام في ذلك بأن النبي إنما يبعث في حال اضمحلال الدين و خفاء الحجة فيلزمه
«و ذلک أن اللہ» اُس چیز کی علت بیان کرنا ہے جو آپ کے کلام سے آپ کے آباء کے بارے میں سمجھی جاتی ہے، یعنی دلیل و حجت و معجزہ کے اظہار سے [باز رہنا]۔ «و لو أحبّ اللہ»: شاید مقصود یہ ہو کہ اگر ہمارا پروردگار حکم دیتا کہ امامت کا دعویٰ بالکل ظاہر نہ کریں تو ہم ہرگز اظہار نہ کرتے۔ پس آپ نے اِس بارے میں «نبی» اور «امام» کا فرق بیان فرمایا: اِس طور پر کہ «نبی» دین کے مٹ جانے اور حجت کے پوشیدہ رہ جانے کی حالت میں مبعوث ہوتا ہے، پس اُس پر لازم ہے