Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 180

الجاثية: «فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ ما جاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْياً بَيْنَهُمْ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ فِيما كانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ»(16)

{اور ہم نے اُنہیں [دین کے] معاملے میں روشن دلیلیں دیں، اور وہ اختلاف میں نہ پڑے مگر اُس کے بعد کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، [وہ بھی] آپس میں حسد اور رقابت کے سبب۔ یقیناً تمہارا پروردگار قیامت کے دن اُن کے درمیان اُس بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔}

«1»- نهج، نهج البلاغة قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام فِي خُطْبَةٍ لَهُ انْتَفِعُوا بِبَيَانِ اللَّهِ وَ اتَّعِظُوا بِمَوَاعِظِ اللَّهِ وَ اقْبَلُوا نَصِيحَةَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْذَرَ إِلَيْكُمْ بِالْجَلِيَّةِ وَ أَخَذَ عَلَيْكُمُ الْحُجَّةَ وَ بَيَّنَ لَكُمْ مَحَابَّهُ مِنَ الْأَعْمَالِ وَ مَكَارِهَهُ مِنْهَا لِتَبْتَغُوا هَذِهِ وَ تَجْتَنِبُوا هَذِهِ.

روایت ۱۔ نہج البلاغہ: امیر المؤمنین علیہ السلام: لوگو! جو کچھ اللہ نے بیان کیا، اُس سے فائدہ اٹھاؤ، اور اللہ کے پند و نصائح سے نصیحت لو، اور اُس کی نصیحتیں قبول کرو؛ کیونکہ اللہ نے روشن دلیلوں کے ساتھ تم پر عذر کی راہ بند کر دی اور تم پر حجت تمام کر دی۔ اور جو اعمال وہ پسند کرتا ہے بیان فرمائے، اور جو ناپسند کرتا ہے پہچنوایا، تاکہ تم نیکیوں کی پیروی کرو اور برائیوں سے دُور رہو۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہمیشہ فرماتے تھے: «جنت کے چاروں طرف دشواریاں ہیں اور جہنم کی آگ کے چاروں طرف خواہشیں اور شہوتیں۔» آگاہ رہو! اللہ کی اطاعت میں سے کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ کراہت کے ساتھ انجام پاتی ہے، اور اللہ کی معصیت میں سے کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ میل اور رغبت کے ساتھ ہوتی ہے۔ پس اللہ کی رحمت ہو اُس پر جو اپنی شہوتوں کو مغلوب کرے اور ہوائے نفس کو کچل دے، کیونکہ مشکل کام نفس کو شہوت سے روکنا ہے جو ہمیشہ نافرمانی اور معصیت کا خواہاں ہے۔ اے بندگانِ خدا! جان لو کہ صاحبِ ایمان انسان رات کو دن اور دن کو رات تک نہیں پہنچاتا مگر یہ کہ اپنے نفس کو متہم جانتا ہے، ہمیشہ نفس کو سرزنش کرتا ہے اور اُسے گنہگار شمار کرتا ہے۔ پس دنیا میں اپنے صالح پیشروؤں کی طرح ہو جو تمہارے سامنے گزر گئے اور مسافروں کی طرح اپنے خیمے اکھاڑ کر اپنی راہ چل دیے۔

«2»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ كَثِيراً

امالیِ صدوق: ابن ابی عمیر نے اُس شخص سے روایت کی جس نے سنا کہ امام صادق علیہ السلام بہت فرماتے تھے:

عَلَمُ الْمَحَجَّةِ وَاضِحٌ لِمُرِيدِهِ- وَ أَرَی الْقُلُوبَ عَنِ الْمَحَجَّةِ فِي عَمًى ١

حجتِ الٰہی کی نشانیاں اُس کے طالب کے لیے واضح اور روشن ہیں

وَ لَقَدْ عَجِبْتُ لِهَالِكٍ وَ نَجَاتُهُ- مَوْجُودَةٌ وَ لَقَدْ عَجِبْتُ لِمَنْ نَجَا

مگر میں دلوں کو اِس حجت کے بارے میں غفلت اور اندھے پن میں دیکھتا ہوں۔ مجھے اُس ہلاک ہونے والے پر تعجب ہے جس کی نجات کی راہ موجود تھی، اور اِسی کے ساتھ مجھے اُس پر بھی تعجب ہے جو نجات پاتا ہے۔

بيان: العجب من الهلاك لكثرة بواعث الهداية و وضوح الحجة و العجب من النجاة لندورها و كثرة الهالكين و كل أمر نادر مما يتعجب منه.

امام علیہ السلام کا ہلاک ہونے والوں پر تعجب، ہدایت کے اسباب کی کثرت اور دلیل کے واضح ہونے کے سبب ہے؛ اور نجات پانے والوں پر تعجب اُن کی قلت اور ہلاک ہونے والوں کی کثرت کے سبب ہے، اور ہر کم چیز تعجب کا سبب ہوتی ہے۔

«3»- قبس، قبس المصباح أَخْبَرَنِي جَمَاعَةٌ مِنْ مَشَايِخِي الَّذِينَ قَرَأْتُ عَلَيْهِمْ مِنْهُمُ الشَّرِيفُ الْمُرْشِدُ أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ حَمْزَةَ الْجَعْفَرِيُّ وَ الشَّيْخُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الطُّوسِيُّ وَ الشَّيْخُ الصَّدُوقُ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّجَاشِيُّ بِبَغْدَادَ وَ الشَّيْخُ الزَّكِيُّ أَبُو الْفَرَجِ الْمُظَفَّرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْقَزْوِينِيُّ بِقَزْوِينَ قَالُوا جَمِيعاً أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْجَلِيلُ الْمُفِيدُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْحَارِثِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ السَّبْتِ الثَّالِثِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ الْمُعَظَّمِ سَنَةَ عَشْرٍ وَ أَرْبَعِمِائَةٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُولَوَيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَسْعَدَةُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عليهما السلام وَ قَدْ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْعَبْدِ أَ كُنْتَ عَالِماً فَإِنْ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَ فَلَا عَمِلْتَ بِمَا عَلِمْتَ وَ إِنْ قَالَ كُنْتُ جَاهِلًا قَالَ لَهُ أَ فَلَا تَعَلَّمْتَ فَتِلْكَ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ لِلَّهِ تَعَالَى ٢.

قبس المصباح: مسعدۃ بن زیاد کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، جب آیتِ مبارکہ «قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ» {کہہ دو: پوری حجت اللہ ہی کی ہے۔} کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ اپنے بندے سے فرمائے گا: کیا تم عالم تھے؟ اگر کہے: ہاں، تو فرمائے گا: پھر تم نے اپنے علم پر عمل کیوں نہ کیا؟ اگر کہے: میں نادان تھا، تو فرمائے گا: پھر تم نے علم کیوں نہ سیکھا؟ پس یہی اللہ کی حجتِ بالغہ ہے۔

(١)1- المحجة: وسط الطريق.«محجّہ»: راستے کا درمیان۔
(٢)2- تقدم الحديث من أمالي المفيد في الباب التاسع «استعمال العلم» تحت الرقم 10یہ حدیث امالیِ مفید سے باب نہم «علم کو کام میں لانا» میں نمبر ۱۰ کے تحت گزری۔