Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 19

خمسمائة عام أو أنهما يسيران في المحشر و العالم قدام العابد مرتفعا عليه قدر خمس مائة عام.

یا مراد پانچ سو سال کی مسافت ہے، یعنی عالم اور عابد محشر میں گردش کرتے ہیں، اِس حال میں کہ عالم عابد سے آگے اور اُس سے پانچ سو سال پہلے وہاں گردش کر رہا ہوتا ہے۔

«49»- ير، بصائر الدرجات عُمَرُ بْنُ مُوسَى عَنْ هَارُونَ عَنِ ابْنِ زِيَادٍ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام أَنَّ النَّبِيَّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: إِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الشَّمْسِ عَلَى الْكَوَاكِبِ وَ فَضْلَ الْعَابِدِ عَلَى غَيْرِ الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى الْكَوَاكِبِ.

بصائر الدرجات: ابن زیاد نے امام صادق علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: عالم کی عابد پر برتری ایسی ہے جیسے سورج کی باقی ستاروں پر؛ اور عابد کی غیر عابد پر برتری ایسی ہے جیسے چاند کی باقی ستاروں پر۔

«50»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيِّ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: عَالِمٌ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ وَ مِنْ أَلْفِ زَاهِدٍ.

بصائر الدرجات: محمد برقی کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ایک عالم ہزار عابد اور ہزار زاہد سے بہتر ہے۔

وَ قَالَ عليه السلام عَالِمٌ يُنْتَفَعُ بِعِلْمِهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سَبْعِينَ أَلْفَ عَابِدٍ.

اور آپ علیہ السلام نے فرمایا: وہ عالم جس کے علم سے فائدہ اٹھایا جائے، ستّر ہزار عابدوں کی عبادت سے بہتر ہے۔

ثو، ثواب الأعمال ابن الوليد عن الصفار عن ابن عيسى مثله.

ثواب الأعمال: صفّار نے ابن عیسیٰ سے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔

«51»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ عِيسَى عَنِ الْبَزَنْطِيِّ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: رَكْعَةٌ يُصَلِّيهَا الْفَقِيهُ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفَ رَكْعَةٍ يُصَلِّيهَا الْعَابِدُ.

بصائر الدرجات: بزنطی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: فقیہ کی ایک رکعت نماز عابد کی ستّر ہزار رکعتوں سے افضل ہے۔

«52»- ثو، ثواب الأعمال الْعَطَّارُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيِّ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لَا يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ بِكَلِمَةِ حَقٍّ يُؤْخَذُ بِهَا إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَخَذَ بِهَا وَ لَا يَتَكَلَّمُ بِكَلِمَةِ ضَلَالٍ يُؤْخَذُ بِهَا إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ أَخَذَ بِهَا.

ثواب الأعمال: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کوئی شخص حق بات نہیں کہتا جس پر دوسرے عمل کریں مگر یہ کہ اُسے عمل کرنے والے کے اجر جیسا اجر ملتا ہے؛ اور کوئی شخص گمراہ کن بات نہیں کہتا جس پر عمل کیا جائے مگر یہ کہ اُس پر عمل کرنے والے کے گناہ جیسا بوجھ ہوتا ہے۔

«53»- سن، المحاسن أَبِي عَنِ الْبَزَنْطِيِّ عَنْ أَبَانٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: مَنْ عَلَّمَ بَابَ هُدًى كَانَ لَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ وَ لَا يُنْقَصُ أُولَئِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ وَ مَنْ عَلَّمَ بَابَ ضَلَالٍ كَانَ لَهُ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ وَ لَا يُنْقَصُ أُولَئِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ.

المحاسن: محمد نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو ہدایت کا کوئی دروازہ سکھائے، اُس کے لیے اُن لوگوں کا اجر ہے جو اُس پر عمل کریں، اور اُن کے اجروں میں کوئی کمی نہ ہو گی؛ اور جو گمراہی کا کوئی دروازہ سکھائے، اُس پر اُن لوگوں کا بوجھ ہے جو اُس پر عمل کریں، اور اُن کے بوجھوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔

«54»- سن، المحاسن أَبِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْبَطَائِنِيِّ ١ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: لَا تُخَاصِمُوا النَّاسَ فَإِنَّ النَّاسَ لَوِ اسْتَطَاعُوا أَنْ يُحِبُّونَا لَأَحَبُّونَا.

المحاسن: ابوبصیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: لوگوں سے جھگڑا اور دشمنی نہ کرو، کیونکہ لوگ اگر ہمیں دوست رکھ سکتے تو ضرور رکھتے۔

(١)1- بفتح الباء أورده النجاشيّ في رجاله ص 175 فقال: علي بن أبي حمزة، و اسم أبي حمزة سالم البطائني أبو الحسن مولى الأنصار كوفيّ، و كان قائد أبي بصير يحيى بن القاسم، و له أخ يسمى جعفر بن أبی حمزة، روي عن أبي الحسن موسى عليه السلام، و روی عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام، ثمّ وقف، و هو أحد عمد الواقفة، صنف كتبا عديدة منها: كتاب الصلاة، كتاب الزكاة، كتاب التفسير، و أكثره عن أبی بصير، كتاب جامع في أبواب الفقه.باء کے فتحہ کے ساتھ۔ نجاشی نے اپنی رجال ص ۱۷۵ میں اُنہیں ذکر کیا اور کہا: علی بن ابی حمزہ ـ اور ابی حمزہ کا نام سالم بطائنی، ابوالحسن، مولائے انصار، کوفی ہے ـ ابوبصیر یحییٰ بن قاسم کے عصا بردار تھے۔ اُن کا ایک بھائی جعفر بن ابی حمزہ نام تھا۔ اُنہوں نے ابوالحسن موسیٰ علیہ السلام اور ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، پھر واقفی ہو گئے اور واقفہ کے ستونوں میں سے ہیں۔ اُنہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں: کتاب الصلاۃ، کتاب الزکاۃ، کتاب التفسیر ـ جس کا بیشتر حصہ ابوبصیر سے ہے ـ اور ابوابِ فقہ میں ایک جامع کتاب۔